*پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم: محبت و عقیدت کا عظیم الشان تہوار*
از:رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں
موبائل: 9130142313
عیدوں کی عید، عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ مقدس دن ہے جب ہمارے پیارے نبی، سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا یہ یادگار دن پندرہ سوّاں 12/ربیع الاول شریف ہوگا۔امسال پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ایک عظیم الشان موقع ہے جو امت مسلمہ کے لیے خوشیوں، برکتوں اور ایمان کی تجدید کا باعث ہے۔ یہ جشن اور تہوار صرف ایک دن کا جشن نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی سفر ہے جو ہمیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔
اس سال پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلادُ النّبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کے استقبال میں امت مسلمہ اپنی محبت و عقیدت کے رنگارنگ انداز سے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے رشتے کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔ وہ لوگ جو اس عظیم موقع پر اپنی خوشیوں کا اظہار کر رہے ہیں، وہ یقیناً سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے انعام و اکرام کے مستحق ہیں۔ ان کی محنت، عقیدت اور محبتِ رسول کا جذبہ قابلِ تحسین ہے، کیونکہ خوشی کا یہ سب کچھ اظہار صرف اور صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آپ کے ذکر خیر کو ذہنوں میں پیوست کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
*لنگرِ رسول: محبت کی تقسیم*
اس مبارک موقع پر وہ افراد اور مساجد و مدارس کے ذمہ داران خصوصی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں جو رضا اکیڈمی کے اعلان پر گذشتہ سال سے ہر پیر کو لنگرِ رسول تقسیم کر رہے ہیں، اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ صرف اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ اطعام کو بھی زندہ کر رہے ہیں۔ لنگرِ رسول کی یہ روایت جو سال بھر کے 52 ہفتے جاری رہی، ضرورت مندوں کے لیے رزق اور برکت کا ذریعہ بنتی رہی ہے۔ یہ عمل نہ صرف معاشرے میں خیرات و صدقات کے جذبے کو فروغ دیتا ہے بلکہ امت کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ ایسے لوگ جنہوں نے اپنے مال و دولت کو راہِ خدا میں خرچ کیا ہے، یقیناً رب تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے مستحق ہیں۔ ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس عظیم الشان جشن اور "عیدوں کی عید" کی خوشیوں میں بھوکے اور ضرورت مندوں کو شامل کرکے انہیں اس کا حصہ بناتے رہے ہیں۔
*نعتیہ مشاعرے: سرکار کی مدحت کا عظیم الشان سلسلہ*
سالِ گذشتہ سے ہر ماہ نعتیہ مشاعروں کا اہتمام کرنے والے منتظمین، سامعین، شاعر اور نعت خواں افراد بھی خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ یہ نعتیہ محافل دلوں کے سکون اور روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہیں۔ نعت خوانی اور میلاد کی محافل محض الفاظ کی ترسیل کا مجموعہ نہیں بلکہ دل سے دل تک پہنچنے والی وہ دعا ہے جو ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑتی ہے، یہ محافل ہر عمر کے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہیں، جہاں وہ اپنے نبی اور محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت و عقیدت کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ ہم ان تمام شعراء، نعت خوانوں اور منتظمین و سامعین کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس خوبصورت روایت کو جاری رکھیں اور ہر دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا چراغ روشن کرتے رہیں۔
*سجاوٹ، جلوس اور جلسے: خوشیوں کا رنگا رنگ اظہار*
پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال میں وہ افراد جو گلیوں، بازاروں، گھروں اور مساجد و مدارس کو سجا رہے ہیں، وہ بھی اس عظیم تہوار "عیدوں کی عید" کی رونق بڑھا رہے ہیں۔ روشنیوں، قمقموں، جھنڈیوں اور پرچمِ رسالت سے سجے یہ مناظر ہر دیکھنے والے کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو تازہ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو جلوس اور جلسوں کا اہتمام کر رہے ہیں، وہ امتِ مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اتحاد و محبت کا پیغام دے رہے ہیں۔ یہ جلوس اور جلسے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعتوں اور نعروں اور ذکرِ خیر کی گونج ہوتی ہے، نہ صرف ایمان کو تازہ کرتے ہیں بلکہ غیروں کو بھی سرکار کی سیرت طیبہ سے متعارف کرانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ہم ان سب کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس جذبے کو جاری رکھیں اور ہر ممکن طریقے سے اس عظیم جشن کو یادگار بنائیں۔
*عیدِ میلادُ النّبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کا عظیم پیغام*
امسال منعقد ہونے والا پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ یہ تہوار ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ان کی سیرت طیبہ کے مطابق ڈھالیں، محبت، اخلاص اور ایثار کے جذبے کو اپنائیں، اور معاشرے میں خیر و برکت پھیلائیں۔ وہ تمام افراد جو اس جشن کو منانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، وہ نہ صرف اپنے ایمان کو مضبوط کر رہے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک عظیم مثال قائم کر رہے ہیں۔
آئیے، ہم سب مل کر اس پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عظیم الشان تہوار کے طور پر اس طرح منائیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اُتاریں، اُن پر عمل آوری کا اپنے آپ سے عہد کریں، سنت و سیرتِ رسول کو اپنائیں، برائیوں سے دور رہنے کا عہد کریں، نیکیوں کو عام کریں۔ اپنے دلوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے منور کریں، ان کی سنتوں پر عمل کریں، اور اس "عیدوں کی عید" کے اس عظیم الشان موقع پر انعام و اکرام کے مستحق بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مبارک تہوار کی برکتوں سے مالا مال کرے اور ہمیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین!



Hamid Iqbal


