This is featured post 1 title
Replace these every slider sentences with your featured post descriptions.Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha - Premiumbloggertemplates.com.
This is featured post 2 title
Replace these every slider sentences with your featured post descriptions.Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha - Premiumbloggertemplates.com.
This is featured post 3 title
Replace these every slider sentences with your featured post descriptions.Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha - Premiumbloggertemplates.com.
Hamid Iqbal
Hamid Iqbal
*کتابوں کی خوشبو اور موبائل کا دور*
کتابوں کی خوشبو میں بھی ایک عجیب سا نشہ ہوا کرتا تھا۔محبوب کی چاہت کا احساس، محبت کی شدت، جدائی کے لمحات، بیتے دنوں کی کسک اور یادوں کے گلدستے—سب کچھ کتابوں کے اوراق سے مل جاتا تھا۔کبھی کسی صفحے پر محبت مسکرا دیتی، کبھی کوئی جملہ جدائی کا درد بن جاتا، اور کبھی کتاب بند کرنے کے بعد بھی اس کی خوشبو دل میں بسی رہتی۔مگر افسوس! موبائل کی آمد نے جیسے سب کچھ مثنوی بنا دیا۔پیار، محبت، جذبات، احساس سب کچھ چند لمحوں کی اسکرین تک محدود ہو گیا۔ نہ کتابوں کی خوشبو رہی، نہ لفظوں کی حرارت، نہ انتظار کی شدت، نہ جدائی کا لطف… بس ایک عجیب سی اضطرابی کیفیت ہے۔اور شاید ادیب بھی اب کچھ کچھ موبائل جیسے ہو گئے ہیں۔میڈیا کے بے شمار پلیٹ فارم آ گئے ہیں، اور ہر پلیٹ فارم کے مزاج کے مطابق اپنا الگ انداز پیش کرنا پڑتا ہے۔ تحریر بھی کبھی مختصر، کبھی سنسنی خیز، کبھی جذباتی اور کبھی محض ’’لائیک‘‘ اور ’’کمنٹ‘‘ کے لیے لکھی جاتی ہے۔یوں لگتا ہے جیسے تحریر میں ادیب کا اپنا کچھ باقی ہی نہیں رہا؛میڈیا جس سانچے میں ڈھالتا ہے، لفظ اسی شکل میں ڈھل جاتے ہیں۔چند لائیکس، چند کمنٹس اور چند تعریفی جملے ملتے ہیں تو ادیب خوش تو ہو جاتا ہے، مگر اندر کہیں ایک خلا باقی رہتا ہے۔کیونکہ داد مل جانا اور مطمئن ہو جانا، دو الگ باتیں ہیں۔شاید اسی لیے آج کا ادیب بہت کچھ لکھ رہا ہے، بہت کچھ کہہ رہا ہے، ہر جگہ موجود ہے…مگر اپنے اندر وہی پرانا سکون، وہی لفظوں کی خوشبو اور وہی تحریر کی روح ڈھونڈ رہا ہے، جو کبھی کتاب کے ایک خاموش صفحے پر مل جایا کرتی تھی۔
Hamid Iqbal
استاد واقعی روحانی باپ ہوتا ہے، اور اس حقیقت کا جیتا جاگتا نمونہ میرے محترم استاد، جناب عبدالمقیت صاحب (موظف مدرس) ہیں۔* 🌹
Hamid Iqbal
مختصر افسانہ۔۔ادیب اور کردار
Hamid Iqbal
جنتِ ارضی کشمیر کا ایک یادگار سفر
تحریر: نکہت انجم ناظم الدین
گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی اور ضلع امراوتی کی گرمی ناقابل برداشت معلوم ہوتے ہی برادر عزیز شاہنواز فیصل نے سب کو راضی کرلیا کہ کچھ چھٹیاں کشمیر میں گزاری جائیں۔ پلاننگ ہوئی، بکنگ ہوئی اور نصف مئی سے دھوم سے کشمیر جانے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ ۱ جون کو وہ دن آپہنچا کہ جب ہمیں کشمیر کے لیے نکلنا تھا۔ سچ ہی ہے قدرت جب اپنے حسن کے خزانے لٹاتی ہے تو کشمیر جیسی وادی وجود میں آتی ہے۔ برف پوش پہاڑ، سرسبز و شاداب میدان، شفاف جھیلیں اور رواں دریا مل کر ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ہمارا یہ سفرخوشیوں، حیرتوں اور ناقابلِ فراموش یادوں کا ایک حسین باب ثابت ہوا۔ ۱جون کی شام ہم نے اپنے سفر کا آغاز ناگپور سے کیا۔ ناگپور سے دہلی اور پھر دہلی سے سری نگر تک فضائی سفر طے کیا۔ میرے بچوں کے لیے یہ زندگی کا پہلا فضائی سفر تھا، اس لیے ان کی خوشی دیدنی تھی۔ بادلوں کے درمیان اڑتے ہوئے جہاز کی کھڑکی سے نیچے جھانکنا، زمین کو دور سے دیکھنا اور فضاؤں میں سفر کرنا ان کے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔ ان کی آنکھوں میں چمکتی خوشی ہمارے سفر کی پہلی خوبصورت یاد بن گئی۔ دونوں فلائٹس کے دوران انھیں رات اور صبح دونوں مناظر دیکھنے کو ملے۔ جس کی انھوں نے بے شمار تصاویر بھی لیں۔ اسی دوران ہمارے ننھے منے مصنف بھانجے محمد زکریا نے ہم سے اور ہم نے ان سے وعدہ کیا کہ کشمیر کا سفر نامہ ضرور لکھیں گے۔یہ الگ بات ہے کہ ہم نے اردو میں لکھا ہے وہ انگریزی میں لکھیں گے۔ خیر ۲ جون کی صبح ہم سری نگر پہنچے۔ ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا نے ہمارا استقبال کیا اور یوں محسوس ہوا جیسے ہم واقعی کسی اور ہی دنیا میں داخل ہو گئے ہوں۔ "ہوٹل گرین رومز" میں قیام کے بعد ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا اور پھر مغل گارڈن کی سیر کے لیے نکل پڑے۔مغل باغات اپنی خوبصورتی اور دلکشی کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ رنگ برنگے پھولوں سے سجے باغات، بہتے ہوئے فوارے، سرسبز لان اور بلند و بالا درخت قدرت کے حسن کی ایک دلکش تصویر پیش کر رہے تھے۔ ہر طرف تازگی، رنگ اور خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ شام تک ہم ان باغات کے سحر میں کھوئے رہے اور پھر واپس ہوٹل آ کر آرام کیا۔اگلے روز ہم سون مرگ روانہ ہوئے۔ راستے بھر بلند پہاڑ، بہتے چشمے اور سرسبز وادیاں ہمارا استقبال کرتی رہیں۔ سون مرگ پہنچ کر وادی تک جانے کے لیے ہمیں گھوڑوں پر سوار ہونا پڑا۔ گھوڑوں کی پشت پر بیٹھ کر برف پوش وادی کی جانب سفر کرنا اپنے آپ میں ایک منفرد اور نہایت دلچسپ تجربہ تھا۔دور دور تک پھیلی ہوئی سفید برف سورج کی روشنی میں چاندی کی طرح چمک رہی تھی۔ بچوں نے برف سے خوب کھیل کھیلا، برفانی گولے بنائے اور یادگار تصاویر بنوائیں۔ بچوں نے "سلیجنگ" کا لطف بھی اٹھایا۔ برفانی ڈھلوانوں پر تیزی سے پھسلتے ہوئے خوشی اور سنسنی کا جو احساس پیدا ہوتا ہے، اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
سرد موسم میں ہم نے وہاں کا مشہور کشمیری قہوہ پیا جس کی خوشبو اور ذائقہ بے مثال تھا۔ اس کے ساتھ گرما گرم "میگی" کھانے کا لطف بھی دوبالا ہوگیا۔ اسی دوران بارش شروع ہوگئی۔ بادل پہاڑوں کے گرد سمٹ آئے، ہلکی ہلکی بارش برسنے لگی اور پوری وادی ایک خوابناک منظر پیش کرنے لگی۔ وہ سماں واقعی بیان سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ یہاں ہم نے تصاویر بنوائیں اور بچوں نے ریلز بنوائیں۔ جسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا تو سبھی نے بہت سراہا اور کافی دلچسپ کمنٹس بھی پڑھنے کو ملے۔سون مرگ کی حسین یادیں سمیٹ کر ہم اگلے دن پہلگام کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں ہمیں ایک نہایت دلچسپ اور یادگار تجربہ حاصل ہوا۔ ہمارے ایک شناسا کشمیری بھائی ،جاوید بھائی نے ہمیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں میں واقع ان کے گھر پہنچ کر پہلی مرتبہ کسی روایتی کشمیری گھر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔فرش پر بچھے نفیس قالین اور دیواروں کے ساتھ رکھے ہوئے نرم کشن ماحول کو نہایت آرام دہ اور دلکش بنا رہے تھے۔ ہم ابھی اس منفرد ماحول سے لطف اندوز ہو ہی رہے تھے کہ ایک خوش اخلاق خاتون اندر تشریف لائیں۔ یہ جاوید بھائی کی اہلیہ تھیں اور حسنِ اتفاق یہ کہ ان کا نام بھی "نکہت" تھا۔ وہ ہم سب سے بے حد محبت اور اپنائیت سے ملیں۔
انہوں نے سب سے پہلے ننھے ابراہیم کے گلے میں نوٹوں سے بنا خوبصورت ہار پہنایا اور اس کی "کیری کاٹ" کو چاکلیٹس اور خشک میوہ جات سے بھر دیا۔ بعد ازاں تمام حاضرین میں بھی چاکلیٹس اور ڈرائی فروٹس تقسیم کیے گئے۔ یہ سب ہمارے لیے بالکل نیا تجربہ تھا۔ بچے حیران بھی تھے اور بے حد خوش بھی۔جاوید بھائی کے دو نہایت پیارے اور خوش اخلاق بیٹے بھی تھے۔ ان کی شائستگی اور اپنائیت نے ہمیں بہت متاثر کیا۔ کچھ ہی دیر میں بچوں کے درمیان دوستانہ ماحول قائم ہوگیا۔اس کے بعد کشمیری مہمان نوازی کا وہ رنگ دیکھنے کو ملا جو ہم نے صرف سن رکھا تھا۔ ہمارے لیے خوش ذائقہ شربت، اعلیٰ معیار کے خشک میوہ جات، خوشبودار کشمیری قہوہ اور نہایت لذیذ سیخ کباب پیش کیے گئے۔ جاوید بھائی اور ان کی اہلیہ نے بہت اصرار کیا کہ ہم ان کے گھر قیام کریں لیکن پہلے سے طے شدہ مصروف شیڈول کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔اس مختصر ملاقات نے ہمیں کشمیری عوام کے خلوص، محبت اور مہمان نوازی سے روشناس کرایا۔ ہمیں محسوس ہوا کہ کشمیر کی اصل خوبصورتی صرف اس کی وادیوں میں نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کے دلوں میں بھی بسی ہوئی ہے۔
پہلگام پہنچ کر ہم "فریش واٹر ریزورٹ" میں مقیم ہوئے۔ یہ ریزورٹ قدرتی حسن کے دامن میں واقع ایک نہایت دلکش مقام تھا۔ اس کے پہلو میں دریائے لیدر پوری آب و تاب کے ساتھ بہتا تھا۔ دن کے وقت دریا کے پانی کی آواز دل کو عجیب سکون عطا کرتی تھی، لیکن رات کی خاموشی میں یہی آواز قدرے پراسرار اور خوفناک محسوس ہوتی تھی۔صبح کے وقت جب سورج کی سنہری کرنیں دریا کے پانی پر پڑتیں تو منظر ناقابلِ بیان خوبصورت ہو جاتا۔ پانی چاندی کی طرح چمکتا اور اردگرد کے پہاڑ اس حسن کو مزید دوبالا کر دیتے۔ یہاں مختلف اقسام کے گلاب کے پودے ہیں جنھوں نے پورے ریزورٹ کو قابل دید بنا دیا ہے۔
پہلگام میں ہم نے متعدد خوبصورت وادیوں کی سیر کی۔ ان مقامات تک پہنچنے کے لیے بھی گھوڑوں پر سفر کرنا پڑا۔ سبز میدانوں، گھنے جنگلات اور بلند پہاڑوں کے درمیان واقع یہ وادیاں کسی مصور کے شاہکار سے کم نہ تھیں۔ یہاں ہم نے بے شمار تصاویر اور خوبصورت ریلز بنوائیں تاکہ ان حسین لمحات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔
کشمیر میں قیام کے دوران ہم مختلف اقسام کے کشمیری قہوے سے لطف اندوز ہوئے۔ ہم نے وہاں کے اصل زعفران، قہوے کے مصالحے، مامرا بادام، اخروٹ، کشمیری شالیں اور خوبصورت ہینڈ بیگز خریدے۔ تازہ چیریاں کھائیں اور سیب کے باغات کی سیر کی۔ درختوں پر لدے ہوئے ہرے سیب اور باغات کی خوشگوار فضا دل کو موہ لینے والی تھی۔ وہاں ہم نے تازہ سیب کا جوس بھی پیا جس کا ذائقہ اب بھی یاد ہے۔ہم نے الگ الگ ہوٹلز میں کشمیر کے تمام مشہور کھانے بھی کھائے اور "وال نٹ فج" بھی چکھا۔ ۵ جون کی صبح پھر ہم نے سری نگر کا رخ کیا اور یہاں ڈل جھیل پر واقع بوٹ ہاؤس "فلوٹنگ لگژری" میں قیام کیا۔ شام کے وقت ہم دو گھنٹے کی یادگار شکارا سواری کے لیے نکلے۔ ڈل جھیل اس وقت اپنے پورے حسن کے ساتھ جلوہ گر تھی۔ غروبِ آفتاب کی سنہری کرنیں پانی پر بکھر رہی تھیں اور جھیل آئینے کی مانند آسمان، بادلوں اور پہاڑوں کے عکس کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھی۔شکارا آہستہ آہستہ پانی پر رواں تھا اور اس کی جنبش دل کو ایک عجیب سا سکون عطا کر رہی تھی۔ اس دوران ہم نے ڈل جھیل کا مشہور فلوٹنگ مارکیٹ بھی دیکھا۔ پانی پر تیرتی چھوٹی چھوٹی دکانیں اور ان میں سجے ہوئے رنگ برنگے سامان منفرد منظر پیش کر رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے جھیل کی اپنی ایک الگ دنیا ہو، جہاں زندگی پانی کے ساتھ بہتی چلی جا رہی ہو۔شکارا سواری کے دوران ہمیں جھیل کے وسط میں آباد ایک گاؤں دیکھنے کا بھی موقع ملا۔ پانی کے درمیان بسے ہوئے گھر، روزمرہ زندگی میں مصروف لوگ اور کشتیوں کے ذریعے ہونے والی آمدورفت ہمارے لیے حیرت کا باعث تھی۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت تھا کہ انسان فطرت کے ساتھ کس خوبصورتی سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔اسی دوران ہم نے تیرتی ہوئی ایک دکان سے وہاں کی مشہور "فروٹ چاٹ" کا ذائقہ چکھا جو تازہ پھلوں کی وجہ سے نہایت لذیذ محسوس ہوا جبکہ بچے "ہاٹ چاکلیٹ ڈرنک" سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ جھیل کی ٹھنڈی ہوا میں ہاٹ چاکلیٹ کا مزہ ان کے لیے ایک الگ ہی خوشی کا باعث تھا۔راستے میں ہم نے شکارا نہرو پارک کے قریب لگایا اور وہاں کچھ وقت گزارا۔ خوبصورت مناظر کے درمیان ہم نے بے شمار تصاویر بنوائیں اور یادگار لمحات اپنے کیمرے اور موبائل میں محفوظ کیے۔ جھیل کے چاروں طرف پھیلی روشنیاں، پانی پر تیرتے رنگ برنگے شکارے، درختوں پر لوٹتے پرندے، دور دکھائی دیتے پہاڑ اور شام کی پرسکون فضا ایک جادوئی منظر تخلیق کر رہے تھے۔ ہر گزرتا لمحہ پہلے سے زیادہ حسین محسوس ہو رہا تھا اور دل چاہتا تھا کہ یہ شام کبھی ختم نہ ہو۔رات ڈھلنے لگی تو جھیل پر روشنیاں مزید نمایاں ہو گئیں۔ پانی میں ان کا عکس ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بے شمار ستارے جھیل کی سطح پر بکھر گئے ہوں۔ اس دلکش ماحول میں واپس بوٹ ہاؤس پہنچنا بھی ایک خوشگوار تجربہ تھا۔اس شام کا اختتام اس وقت ہوا جب ہمارا رات کا کھانا بوٹ ہاؤس ہی میں پیش کیا گیا۔ پانی کے اوپر تیرتے ہوئے گھر میں بیٹھ کر ڈنر کرنا ہمارے لیے ایک نہایت منفرد اور یادگار تجربہ تھا۔ جھیل کی خاموشی، ٹھنڈی ہوا اور اردگرد پھیلی روشنیوں کے درمیان کیا گیا یہ عشائیہ ہمارے پورے سفر کے خوبصورت ترین لمحات میں شامل ہوگیا۔کشمیر سے جاتے ہوئے بچوں کی ایک خواہش کسک بن کر دل میں رہ گئی۔ وہ تھی گلمرگ میں "کیبل کار رائڈنگ" کی۔ حال ہی میں ہوئے تکنیکی خرابی کے مسئلے کی وجہ سے ۸ جون تک "کیبل کار رائڈنگ" کو بند رکھا گیا تھا جس سے بچے تھوڑے مایوس ہوگئے لیکن دیگر ایڈونچرز میں بھول بھی گئے۔ ۶جون کی صبح ہماری واپسی تھی۔ دل تو چاہتا نہ تھا کہ واپس جائیں لیکن سبھی نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ دسمبر ، جنوری میں ایک بار پھر کشمیر کو رونق بخشی جائے گی۔اس خوش کن وعدے کے ساتھ لوٹنا تھوڑا سا آسان ہوگیا۔ یہ سفر ہمارے لیے صرف ایک سیاحتی تجربہ نہیں تھا بلکہ فطرت کے حسن کو قریب سے محسوس کرنے کا ایک نادر موقع تھا۔کشمیر واقعی جنتِ ارضی ہے، زمین پر موجود ایک ایسی جنت جسے دیکھنے کے بعد انسان کے دل میں بار بار واپس لوٹ جانے کی خواہش جنم لیتی ہے اور لبوں پر بے اختیار یہ الفاظ آجاتے ہیں کہ
اگر فردوس بر روئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
Hamid Iqbal
*امید کا بستہ*
*از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں*
گاؤں کے سرکاری اسکول میں اُس دن غیر معمولی رونق تھی۔ ضلع کے افسران اسکول کے دورے پر آنے والے تھے۔ اساتذہ بچوں کو بار بار سمجھا رہے تھے کہ صفائی، نظم و ضبط اور پڑھائی سب بہترین نظر آنی چاہیے۔
ساتویں جماعت میں ایک دبلا پتلا لڑکا “احمد” خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھا تھا۔ اُس نے پیوند لگی قمیض پہنی ہوئی تھی اور بستہ کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں بڑے خواب تھے۔
جب افسران کلاس میں آئے تو بچوں سے پوچھا گیا: “آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں؟”
کسی نے ڈاکٹر کہا، کسی نے انجینئر۔
احمد کی باری آئی تو اُس نے دھیمی آواز میں کہا “میں استاد بننا چاہتا ہوں۔”
افسر نے مسکرا کر پوچھا: “کیوں؟”
احمد نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔
“اس لیے کہ میرے ابو کہتے تھے، غریب آدمی سے سب کچھ چھن جائے تو بھی علم اُس کے پاس باقی رہتا ہے۔”
یہ کہتے کہتے اُس کی آواز بھرّا گئی۔ پھر آہستہ سے بولا: “ابو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ امّی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور میں شام کو ہوٹل پر برتن دھوتا ہوں تاکہ پڑھائی جاری رکھ سکوں۔”
کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ ایک افسر کی نظر اُس کے پھٹے بستے پر پڑی تو پوچھا “یہی بستہ استعمال کرتے ہو؟”
احمد ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: “جی… ابھی چل رہا ہے۔”
یہ سن کر سب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ دورے کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ احمد کی تعلیم کا پورا خرچ انتظامیہ برداشت کرے گی۔
احمد اپنے پرانے بستے کو سینے سے لگائے کھڑا تھا۔ اُس دن سب نے جان لیا کہ *اصل طاقت دولت میں نہیں، بلکہ حوصلے اور خوابوں میں ہوتی ہے۔* کا بستہ*
*از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں*
گاؤں کے سرکاری اسکول میں اُس دن غیر معمولی رونق تھی۔ ضلع کے افسران اسکول کے دورے پر آنے والے تھے۔ اساتذہ بچوں کو بار بار سمجھا رہے تھے کہ صفائی، نظم و ضبط اور پڑھائی سب بہترین نظر آنی چاہیے۔
ساتویں جماعت میں ایک دبلا پتلا لڑکا “احمد” خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھا تھا۔ اُس نے پیوند لگی قمیض پہنی ہوئی تھی اور بستہ کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں بڑے خواب تھے۔
جب افسران کلاس میں آئے تو بچوں سے پوچھا گیا: “آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں؟”
کسی نے ڈاکٹر کہا، کسی نے انجینئر۔
احمد کی باری آئی تو اُس نے دھیمی آواز میں کہا “میں استاد بننا چاہتا ہوں۔”
افسر نے مسکرا کر پوچھا: “کیوں؟”
احمد نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔
“اس لیے کہ میرے ابو کہتے تھے، غریب آدمی سے سب کچھ چھن جائے تو بھی علم اُس کے پاس باقی رہتا ہے۔”
یہ کہتے کہتے اُس کی آواز بھرّا گئی۔ پھر آہستہ سے بولا: “ابو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ امّی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور میں شام کو ہوٹل پر برتن دھوتا ہوں تاکہ پڑھائی جاری رکھ سکوں۔”
کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ ایک افسر کی نظر اُس کے پھٹے بستے پر پڑی تو پوچھا “یہی بستہ استعمال کرتے ہو؟”
احمد ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: “جی… ابھی چل رہا ہے۔”
یہ سن کر سب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ دورے کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ احمد کی تعلیم کا پورا خرچ انتظامیہ برداشت کرے گی۔
احمد اپنے پرانے بستے کو سینے سے لگائے کھڑا تھا۔ اُس دن سب نے جان لیا کہ *اصل طاقت دولت میں نہیں، بلکہ حوصلے اور خوابوں میں ہوتی ہے۔*
Hamid Iqbal
وَلَيَالٍ عَشْر“اور قسم ہے دس راتوں کی۔”
(سورۃ الفجر: 2)
از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ )
عشرۂ ذوالحجہ اسلام کے نہایت بابرکت اور عظیم ایام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمتوں، برکتوں اور فضیلتوں سے نوازا ہے۔ رمضان المبارک کے بعد ایک بار پھر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اپنے بندوں کے لیے عبادت، مغفرت اور قربِ الٰہی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہی وہ مبارک دن ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا.
﴿وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾
“اور قسم ہے دس راتوں کی۔”
(سورۃ الفجر: 2)
مفسرینِ کرام کے مطابق اس سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی محبوب اور افضل دن شمار ہوتے ہیں۔ انہی دنوں میں حج جیسی عظیم عبادت ادا کی جاتی ہے، لاکھوں فرزندانِ توحید بیت اللہ میں حاضر ہو کر اپنے رب کے حضور گڑگڑاتے ہیں، میدانِ عرفات دعاؤں، آنسوؤں اور استغفار سے بھر جاتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنتِ قربانی کو زندہ کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا.
﴿وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِىۡۤ اَيَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ﴾
“اور مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں۔”
(سورۃ الحج: 28)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ “ایامِ معلومات” سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دنوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“ایسے کوئی دن نہیں ہیں جن میں نیک اعمال اللہ تعالیٰ کو ان دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہوں۔”
(صحیح البخاری: 969)
صحابۂ کرامؓ نے دریافت کیا کہ کیا جہاد بھی نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا اور کچھ واپس نہ لایا۔ اہلِ علم نے لکھا ہے کہ جس طرح رمضان المبارک کی آخری دس راتیں سال بھر کی راتوں میں سب سے افضل ہیں، اسی طرح ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن پورے سال کے دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں.
“ذوالحجہ کے پہلے دس دن سال کے تمام دنوں سے افضل ہیں، اور رمضان کی آخری دس راتیں سال کی تمام راتوں سے افضل ہیں۔”
(مجموع الفتاویٰ: 25/287)
ان مبارک دنوں کی ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ ان میں نیک اعمال کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور ذکر، تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا.
“ان دنوں میں کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید پڑھا کرو۔”
(مسند احمد: 5446)
انہی دنوں میں یومِ ترویہ، یومِ عرفہ، مزدلفہ کی بابرکت رات، حج اور قربانی جیسی عظیم عبادات ادا کی جاتی ہیں۔ خاص طور پر یومِ عرفہ کے روزے کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔”
(صحیح مسلم: 1162)
اللہ تعالیٰ نے حج کی فرضیت بیان کرتے ہوئے فرمایا.
﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾
“اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔”
(سورۃ آل عمران: 97)
اسی طرح قربانی کے بارے میں حکم دیا گیا:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾
“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”
(سورۃ الکوثر: 2)
یہ مبارک دن دراصل بندۂ مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہیں تاکہ وہ اپنے اعمال سنوارے، عبادات میں اضافہ کرے، گناہوں سے توبہ کرے اور اپنے رب کا قرب حاصل کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ان دنوں میں نمازوں کی پابندی کریں، قرآنِ مجید کی تلاوت بڑھائیں، نفلی روزوں خصوصاً یومِ عرفہ کے روزے کا اہتمام کریں، صدقہ و خیرات کریں، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، صلہ رحمی اختیار کریں اور ہر قسم کے گناہوں اور فضولیات سے خود کو بچائیں۔ کیا معلوم کون سا چھوٹا سا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو کر ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عشرۂ ذوالحجہ کی حقیقی برکتیں نصیب فرمائے، ان مبارک دنوں میں خوب نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری عبادات، دعائیں اور قربانیاں قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رضا، رحمت اور مغفرت سے مالا مال فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
Hamid Iqbal
ایامِ فراغت اور کتابوں کی دل آویز صحبت ( تعطیلاتِ گرما)
از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ )
”جو علم کی راہ پر چل پڑے اسے تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی، اور جو کتابوں سے حوصلہ پکڑنا سیکھ جائے
وہ سب دلاسوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے، اور جسے مطالعے سے اُنس ہو جائے اسے دوستوں کے بچھڑنے سے فرق نہیں پڑتا۔“
انسانی زندگی میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب مصروفیات کا ہنگامہ وقتی طور پر تھم جاتا ہے اور وقت کی روانی کچھ سست سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی ایامِ فراغت دراصل انسان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ انہیں شعوری انداز میں استعمال کرے۔ ان لمحات کو اگر کتابوں کی دل آویز صحبت میسر آ جائے تو یہی فرصتیں علم و آگہی کے درخشاں چراغ روشن کر دیتی ہیں۔
کتاب محض اوراق کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی خاموش رفیق ہے جو انسان کے باطن میں اتر کر اسے نئی جہات سے روشناس کراتی ہے۔ یہ وہ ہمدم ہے جو نہ صرف ذہن کو جِلا بخشتی ہے بلکہ دل کو بھی سکون عطا کرتی ہے۔ مطالعہ انسان کو فکر کی گہرائی، نظر کی وسعت اور اظہار کی لطافت عطا کرتا ہے۔ یوں ایک مطالعہ کرنے والا محض معلومات کا حامل نہیں رہتا بلکہ شعور و آگہی کا پیکر بن جاتا ہے۔
موسمِ گرما کی تعطیلات خصوصاً طلبہ کے لیے ایک ایسا وقفہ فراہم کرتی ہیں جس میں وہ اپنے معمولاتِ تعلیم سے ہٹ کر خود کو نئے انداز میں سنوار سکتے ہیں۔ اگر ان ایام میں کتابوں سے رشتہ استوار کر لیا جائے تو یہی فرصتیں مستقبل کی کامیابیوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کو وہ بصیرت عطا کرتی ہے جو بسا اوقات برسوں کے تجربے سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔
مطالعے کا شوق پیدا کرنا دراصل خود کو ایک نئی دنیا سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ جب انسان کتابوں سے اُنس پیدا کر لیتا ہے تو تنہائی اس کے لیے بوجھ نہیں رہتی بلکہ ایک خوشگوار کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔ وہ ہر صفحے کے ساتھ ایک نیا خیال، ایک نئی سوچ اور ایک نیا زاویۂ نظر حاصل کرتا ہے۔
پیارے بچوں یہ جان لو کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایامِ فراغت کو بے مقصد مشاغل کی نذر کرنے کے بجائے اسے علم کے نور سے منور کردیں روزانہ تھوڑا سا وقت بھی اگر سنجیدہ مطالعے کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کے اثرات دیرپا اور سودمند ثابت ہوتے ہیں۔ یہ عادت نہ صرف تعلیمی میدان میں مددگار ہوتی ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر ہمیں ہماری پسندیدہ کوئی کتاب حاصل نا بھی ہو تو غم نا کرو آج کا زمانہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے آن لائن ہمیں بے شمار کتابیں دستیاب ہوگی ۔ کتابوں کا ذخیرہ ہمیں فراہم ہے ۔ جب بھی مطالعہ کا خیال ذہن میں لائیں فوری ای کتاب کھولنا اور جہاں کا مطالعہ کرنا ہے وہ صفحہ اگر ہم اسکرین شاٹ لے کر محفوظ کرلیں تو فرصت کے لمحات میں یہ سارا مطالعہ مکمل ہو جائے گا ۔یہی کتابوں کی دل آویز صحبت انسان کو ایک ایسے سفر پر لے جاتی ہے جہاں علم روشنی بن کر راستہ دکھاتا ہے اور شعور منزل کا تعین کرتا ہے۔ جو شخص ایامِ فراغت کو کتابوں کے ساتھ گزارنا سیکھ لیتا ہے، وہ درحقیقت اپنے مستقبل کو سنوارنے کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔
Hamid Iqbal
بچے کی تربیت میں والدین کی بے جا طرف داری: ایک خطرناک غلطی
تحریر: عرشیہ شیرین سید صداقت علی ندوی
Hamid Iqbal
***مسلم خواتین اور سوشل میڈیا**
*تحریر: عظیم احمد خان خاکی*
آج کا دور محض ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ فکری اور تہذیبی آزمائشوں کا دور ہے۔ سوشل میڈیا نے انسان کو اظہار کی بے پناہ آزادی دی ہے، مگر اسی آزادی کے ساتھ ایک خاموش ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ جب یہ ذمہ داری نظر انداز ہوتی ہے تو آزادی بے راہ روی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مسلم معاشرے میں بالخصوص خواتین کے حوالے سے یہ معاملہ نہایت حساس ہو چکا ہے، جس پر سنجیدگی، حکمت اور ہمدردی کے ساتھ گفتگو ضروری ہے۔
اسلام نے عورت کو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ وہ ماں ہے تو نسلوں کی معمار ہے، بیٹی ہے تو رحمت ہے، بہن ہے تو غیرت کی علامت ہے اور بیوی ہے تو سکون کا ذریعہ ہے۔ اسی لیے اس کے وقار، حیا اور تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دی گئی۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
*"اور اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح اپنی زینت کا اظہار نہ کرو..."* (سورۃ الاحزاب: 33)
یہ آیت عورت کے مقام کو محدود نہیں کرتی بلکہ اسے ایک محفوظ اور باوقار دائرہ فراہم کرتی ہے، جہاں اس کی عزت ہر نگاہ سے بلند رہتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے عورت کی نزاکت اور اس کے احترام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
*"عورت پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے (غیروں کی نظر میں) مزین کر دیتا ہے"* (ترمذی)
یہ حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اسلام کا مقصد عورت کو قید کرنا نہیں بلکہ اسے ان نگاہوں سے بچانا ہے جو اس کی عزت کو مجروح کر سکتی ہیں۔
بدلتے ہوئے حالات میں سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں زندگی کے ہر پہلو کو نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ ابتدا میں یہ رجحان معصوم نظر آتا ہے—ایک تصویر، ایک ویڈیو، ایک لمحے کی خوشی—but رفتہ رفتہ یہی عادت ایک مستقل مزاج بن جاتی ہے۔ پھر انسان اپنی زندگی کو جینے کے بجائے دکھانے لگتا ہے۔
آج یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ پردہ دار گھرانوں کی خواتین بھی سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر، ویڈیوز اور ذاتی لمحات کو بلا جھجھک شیئر کر رہی ہیں۔ خود نمائی کا یہ رجحان صرف ظاہری بے پردگی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ذہنی تبدیلی کی علامت ہے، جہاں حیا کو "پرانا خیال" اور نمائش کو "اعتماد" سمجھ لیا گیا ہے۔
پہلے غیر محرم کی نظر سے بچاؤ ایک فطری اور معاشرتی قدر تھی۔ ایک اجنبی مرد کے لیے کسی خاتون کو دیکھنا آسان نہ تھا۔ آج وہی فاصلہ ایک موبائل اسکرین کے ذریعے ختم ہو چکا ہے۔ واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام، فیس بک اور اسنیپ چیٹ پر لمحہ بہ لمحہ اپنی موجودگی کو ظاہر کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اکثر اس کے نتائج اور دینی و اخلاقی پہلوؤں پر غور نہیں کیا جاتا۔
خاص طور پر شادی بیاہ جیسے مواقع، جو کبھی حیا اور پردے کی علامت ہوتے تھے، اب ایک عوامی نمائش میں بدلتے جا رہے ہیں۔ دلہن، جو صرف مخصوص خواتین کی نگاہ تک محدود ہوتی تھی، اب ہر اس شخص کے سامنے آ جاتی ہے جو اسٹیٹس یا اسٹوری دیکھتا ہے۔ اس عمل میں نہ صرف پردے کی روح مجروح ہوتی ہے بلکہ ایک مقدس موقع کی سنجیدگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
اسی طرح تعلیمی اداروں کی تقاریب، برتھ ڈے پارٹیز، فئیر ویل، اور سیر و تفریح کے مواقع پر خواتین کا بے حجابانہ انداز میں تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنا ایک "ٹرینڈ" بن چکا ہے۔ گانوں پر ویڈیوز، فلٹرز کے ساتھ تصویریں، اور لائکس و کمنٹس کی دوڑ—یہ سب مل کر ایک ایسی نفسیاتی فضا پیدا کرتے ہیں جہاں انسان اپنی اصل پہچان سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے: سوشل میڈیا صرف دکھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ دیکھنے والوں کا ایک نامعلوم ہجوم بھی ہے۔ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہماری پوسٹ کو کون دیکھ رہا ہے، کس نیت سے دیکھ رہا ہے، اور اس کا کیا اثر لے رہا ہے۔ ایسے میں احتیاط اور شعور کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اسلام ہمیں اعتدال کا درس دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال اگر علم، دعوت، تعلیم اور مثبت پیغام کے لیے ہو تو یہ ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ بہت سی مسلم خواتین اس میدان میں قابلِ تحسین کام کر رہی ہیں—تعلیم دے رہی ہیں، دین کی بات پھیلا رہی ہیں، اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لا رہی ہیں۔ یہی وہ سمت ہے جس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
والدین، بھائیوں اور شوہروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نازک معاملے کو سمجھیں۔ سختی، ڈانٹ یا پابندی وقتی حل تو ہو سکتی ہے، مگر دیرپا اصلاح شعور، محبت اور اعتماد سے آتی ہے۔ گھروں میں دینی ماحول، کھلی گفتگو، اور سوشل میڈیا کے مثبت و منفی پہلوؤں پر آگاہی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسی طرح خواتین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی اصل قدر کو پہچانیں۔ ان کی عزت ان کے لباس، ان کے رویے، اور ان کے فیصلوں میں جھلکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک لمحے کی توجہ کے لیے اپنی دائمی عزت کو داؤ پر لگانا دانشمندی نہیں۔
آخر میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ مسئلہ صرف خواتین کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ اصلاح کا عمل تنقید سے نہیں بلکہ شعور، ہمدردی اور مثال سے شروع ہوتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں حیا کو عزت دی جائے، نہ کہ اسے پسماندگی سمجھا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچ کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے ایک بہتر مثال قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
۔
۔
Hamid Iqbal

یکم رمضان المبارک 1447ھ سے دس رمضان المبارک 1447ھ تک کی روحانی وارداتوں کی ڈائری سے 10 نعتیہ کلام۔ ان دنوں قلم نے جو کچھ لکھا، وہ محض فنی کاوش نہیں بلکہ دل کی تڑپ، آنکھ کی نمی اور روح کی حاضری کا بیان ہے۔ ہر نعت ایک دن کی سعادت ہے اور ہر دن حضورِ اقدس ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا ایک نذرانہ۔ احباب ملاحظہ فرمائیں:
نیاز مند : محمد حسین مشاہد رضوی
1 رمضاں المبارک کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
روش بدلنے لگی زندگی، حضور کرم
ہوئی ہے چاروں طرف تیرگی، حضور کرم
ہو جس سے راضی خداوندِ دوجہاں ہم سے
ہمیں نصیب ہو وہ بندگی، حضور کرم
گھرے ہیں نرغۂ اعدا میں چار جانب سے
بہت عروج پہ ہے خستگی، حضور کرم
سکون چھن گیا دنیا سے قومِ مسلم کا
نصیب ہو ہمیں دل بستگی، حضور کرم
نواز دیجیے ابرِ نشاط و راحت سے
غم و الم کی بجھے شعلگی، حضور کرم
ہمیشہ آپ کی یادوں میں زندگی گزرے
عطا ہو عشق کی وارفتگی، حضور کرم
مشاہد آپ کی نعتیں ہمیشہ لکھتا رہے
رہے ثنا سے ہی وابستگی، حضور کرم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
شکستہ روح کا موسم بھی اب بدلنے لگا
دیارِ نور میں آیا تو دل سنورنے لگا
لگائی خاکِ مدینہ جو میں نے چہرے پر
وجودِ خاکی مرا خود بخود چمکنے لگا
نظر کے سامنے جب جلوہ گر ہوا روضہ
ہر ایک خواب حقیقت میں میرا ڈھلنے لگا
صدا مِلی جو دُرودوں کی راہِ طیبہ میں
مرا سکوت بھی نغمات میں مچلنے لگا
فضاے شہرِ محبت شعار ملتے ہی
بہارِ طیبہ سے مَیں سر بہ سر نکھرنے لگا
پڑی جو چشمِ کرم اک فقیرِ نالاں پر
وجودِ خستہ مرا آپ ہی سنبھلنے لگا
دیارِ طیبہ نے ایسی مسرتیں بخشیں
غبارِ رنج و الم ٹوٹ کر بکھرنے لگا
جو خارِ طیبہ نصیبوں سے مل گیا مجھ کو
تو مثلِ لالۂ خوش رنگ مَیں مہکنے لگا
فریبِ ذات میں کب سے تھا یہ مشاہد گم
نبی کے شہر میں آیا تو خود سے ملنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
مرا شعور ، ہر احساس و حال آپ سے ہے
مرے وجود میں رقصاں نہال آپ سے ہے
حضور آپ کی مجھ پر عنایت ہے پیہم
بہار آسا مرا ماہ و سال آپ سے ہے
ہمیشہ نظروں میں رہتا ہے گنبدِ خضرا
تصورات کی دنیا بحال آپ سے ہے
عروج آپ سے حاصل ہوا زمانے کو
کمال جو بھی ہے سارا کمال آپ سے ہے
حضور طیبہ میں مل جائے دائمی مسکن
لبوں پہ میرے یہی اک سوال آپ ہے
حضور آپ کو رب نے بنایا ہے قاسم
سبھی کے کاسے میں جود و نَوال آپ سے
ہے کیف دونوں میں بس ہو مگر مدینے کا
سُرورِ ہجر قرارِ وصال آپ سے ہے
مرے ضمیر کی بیدار رہگزر پر جو
چراغ جلتے ہیں اُن میں اجال آپ سے ہے
مری تو لَو اے مشاہد لگی ہے مدحت سے
مرے لہو میں مہکتا خیال آپ سے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
دل میں جب اضطراب دیکھتے ہیں
سوے عالی جناب دیکھتے ہیں
نیند بن جاتی ہے عبادت ایک
جب مدینے کے خواب دیکھتے ہیں
خارِ طیبہ کو ہم عقیدت سے
مثلِ تازہ گلاب دیکھتے ہیں
جو بھی دشمن ہیں شاہِ کوثر کے
اُن کا خانہ خراب دیکھتے ہیں
یاد آتے ہی سیرتِ سرور
دل کا بدلا نصاب دیکھتے ہیں
نقشِ نعتِ نبی ابھرتا ہے
جب بھی ام الکتاب دیکھتے ہیں
دل کی دھڑکن میں روضۂ اقدس
رات دن بے حساب دیکھتے ہیں
لب پہ نامِ حضور آتے ہی
منہ میں پھر شہدِ ناب دیکھتے ہیں
نعت لکھتا ہے یہ مشاہد جب
شعریت میں شباب دیکھتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
بت خانوں میں کہرام مچا آئے محمد ﷺ
توحید کی پھیلے گی ضیا آئے محمد ﷺ
اخلاق کی اقدار کی پھیلیں گی ضیائیں
ساتھ اپنے لیے صدق و صفا آئے محمد ﷺ
جینے کا شرَف دخترِ حوّا کو ملے گا
یوں لے کے مساوات و وفا آئے محمد ﷺ
ہر سمت صدا صلِ علیٰ صلِ علیٰ ہے
ہر ذرہ ہوا مدح سرا آئے محمد ﷺ
ظلمت کے سمندر میں اُجالا سا لگے گا
ہر موج کو مل جائے بقا آئے محمد ﷺ
محروم دلوں کو ملی راحت کی بشارت
زخموں کے لیے بن کے شفا آئے محمد ﷺ
انوارِ مسلسل کی ہے تنزیل مشاہد
ہر سمت ہے رحمت کی گھٹا آئے محمد ﷺ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
6 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
زندگی ہے مگر پرائی ہے
ان کی نسبت سے جان پائی ہے
دل بھٹکتا تھا دشتِ غفلت میں
ان کی دہلیز یاد آئی ہے
میں جو ٹوٹا تو یہ کھلا مجھ پر
درد و غم میں میں بھی اک بھلائی ہے
میں فقیرِ درِ نبی ٹھہرا
بادشاہی بھی اب پرائی ہے
ان کی مدحت میں ہے قلم سیال
یہ کرم کی کرن سمائی ہے
کوچۂ یار کے فقیروں نے
سروری کی سند کمائی ہے
ذکرِ طیبہ میں ڈوب کر ہم نے
اپنی ہستی نئی بنائی ہے
شافعِ حشر کی عنایت نے
عمر بھر کی خطا مٹائی ہے
اے مشاہد پڑھو دُرود وہی
جس نے عزت تری بڑھائی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
7 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
مرے رسول کی جب بات ہوتی جائے گی
فضا میں نور کی برسات ہوتی جائے گی
انھیں کے ذکر سے تابندہ دن رہے گا مرا
انھیں سے نور فشاں رات ہوتی جائے گی
رہے گا نور سے معمور فکر کا خطہ
دُرود پڑھتے رہو نعت ہوتی جائے گی
سلام پڑھنے سے ہوگا سکونِ دل حاصل
ہجومِ رنج کو بھی مات ہوتی جائے گی
صفاتِ سیدِ عالم لکھے گا جب خامہ
قریبِ نور مری ذات ہوتی جائے گی
لبوں پہ نامِ محمد رہے اگر ہر دم
تو روح منبعِ برکات ہوتی جائے گی
مشاہد اُن کی ثنا کے طفیل شکرِ خدا
فقیرِ نعت کی اوقات ہوتی جائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
8 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
زندگی ہوتی ہے تنویرِ مدینہ پہ نثار
ظلمتِ قلب و نظر ہوگئی میری ضوبار
ریت کے سینے پہ لکھی ہے کرم کی تحریر
آپ کے نام سے کِھلتا ہے دعا کا گلزار
آپ آئے تو اندھیروں نے سفر چھوڑ دیا
نور کی فوج نے باندھی ہے اجالوں کی قطار
درد کی شام میں جب یادِ نبی چمکی ہے
دل کے ویران نگر میں اتر آئے انوار
چاند شرمائے ہے رخسارِ نبی دیکھ کے جب
ڈوب جاتا ہے فلک، اوڑھ کے نوروں کا عذار
ہم خطاکار سہی، پر یہ کرم کم نہ ہوا
عاصیوں کے لیے ہیں شافعِ محشر سرکار
نامِ احمد سے مہکتی ہے رگِ جان و جگر
جس سے افکارِ مشاہد ہے بہت خوشبودار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
9 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
حضور مجھ کو سعادت نصیب ہوجائے
حضور مصرعۂ مدحت نصیب ہوجائے
حضور نعت سے رشتہ رہے مرا محکم
حضور نعت سے الفت نصیب ہوجائے
حضور بخشیں ہمیں صدق و عدل و وفا
حضور عز و شرافت نصیب ہوجائے
حضور آپ کی حرمت پہ جان دے دیں ہم
حضور حسنِ عقیدت نصیب ہوجائے
حضور آپ کی امت ہے زار و خوں گشتہ
حضور عظمت و شوکت نصیب ہوجائے
حضور چاروں طرف ظلم ہے تباہی ہے
حضور امن و مروت نصیب ہوجائے
حضور روز مشاہد لکھے ثناے کریم
حضور ایسی بصیرت نصیب ہوجائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
10 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
کرم کی چلتی ہے بادِ بہار طیبہ سے
نصیب ہوتا ہے سب کو قرار طیبہ سے
دوبارہ جانے کی پل پل تمنا رہتی ہے
جو جا کے آتا ہے بس ایک بار طیبہ سے
وہاں کی خاک میں لپٹا ہے نور کا موسم
مہک اٹھا ہے دلِ داغدار طیبہ سے
گناہ دھلتے ہیں اشکوں کے آبشاروں میں
برستی رہتی ہے ایسی پھوار طیبہ سے
جہاں بھی جائیں، وہ خوشبو ہمارے ساتھ رہے
کہ روح باندھ گئی اپنا تار طیبہ سے
میں خاک ہو کے بھی خوش ہوں کہ ان کی امت ہوں
ملا ہے مجھ کو یہ عز و وقار طیبہ سے
مشاہدؔ اب نہ کہیں اور دل لگائے گا
رکھے گا ربط فقط استوار طیبہ سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Hamid Iqbal
کان کا روزہ
یقینا کان،آنکھ اور دل ان میں سے ہرایک کے بارے میں سوال ہونگا(سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر ٣٦ )روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کے لئے ہے جب تک ہم کسی کو بتاتے نہیں کہ میں روزے سے ہوں کسی کو پتہ نہیں چلتا ۔روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ ہمیں سر تا پا تک اپنے ہر اعضاء کو اللہ کی خوشنودی کے لئے استعمال کرنا چاہئے کچھ باتوں پر عمل کرکے ہم یہ کر سکتے ہیں
١.غیبت اور بہتان سننے سے انکار ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم روزہ میں غیبت چغلی سے بچتے ہیں لیکن ہم لوگوں کا منہ تو نہیں روک سکتے لیکن ہم بغیر کسی کی دلآزاری کییے بنا انھیں روک سکتے ہیں سب سے پہلے تو فون سے رابطہ قائم کرنے سے پرہیز کرے ضرورت پڑنے پر ہی اسکا استعمال کرنا چاہئے ۔دوسرا جو لوگ اطراف میں ہے تو مختصر میں گفتگو ختم کرے اور اگر موضوع چھڑ ہی جاے تو مصروفیت کا بہانہ بناتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کرے۔
٢.قرآن اور اچھی نصیحت سننے کو ترجیح دیں ۔کہتے ہیں اللہ والوں کی صحبت اختیار کرنے سے گناہ کم اور صواب زیادہ ہوتے ہیں اک وقت مقرر کرے کب تلاوت کرنی ہے اگرچہ مصروفیت زیادہ ہے تو بیانات تلاوت مع ترجمع سننے کو ترجیح دیں ۔
٣.فحش اور بے حیائ پر مبنی گفتگو سے بچے۔جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو جھوٹ بولنے ،سننے سے تو بچتے ہیں لیکن اپنی گفتگو میں ڈرامے ،ناول،بے مطلب کے چیزوں پر تبصروں سے احتیاط نہیں کرتے لیکن اب ہمیں عہد کرنا ہے کہ اپنی گفتگو میں احتیاط کرے گے اکثر ہم دنیاوی تبصرے کرنے میں ہنسی مذاق میں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اگر ہم فضول گوئی سے پرہیز کرے تو بہت حد تک گناہ سے بچ سکتے ہیں۔
٤.ذکر اللہ اور ذکر رسول اور خیر کی باتیں سننا ۔رمضان کے مبارک مہینے میں خواتین اور ذیادہ مصروف ہو جاتی ہے لیکن ان مصروفیت میں سے جب بھی وقت ملے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ذکر کرے درود پاک پڑھے اور بیانات سنے خیر کی باتیں کرےان سب چیزوں پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کرے مشکل ضرور ہے نا ممکن نہیں۔اسطرح ہم کان کا روزہ رکھ سکتے ہیں آے ہم عہد کرے کہ اپنے کان سے صرف حق،خیر اور بھلائی کی باتیں ہی سنے گے انشااللہ اللہ رب العزت کہنے سننے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرماۓ اللہ آپ کا ہمارا سبکا ہامی و ناصر ہو اللہ حافظ ۔
یقینا کان،آنکھ اور دل ان میں سے ہرایک کے بارے میں سوال ہونگا(سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر ٣٦ )روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کے لئے ہے جب تک ہم کسی کو بتاتے نہیں کہ میں روزے سے ہوں کسی کو پتہ نہیں چلتا ۔روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ ہمیں سر تا پا تک اپنے ہر اعضاء کو اللہ کی خوشنودی کے لئے استعمال کرنا چاہئے کچھ باتوں پر عمل کرکے ہم یہ کر سکتے ہیں
١.غیبت اور بہتان سننے سے انکار ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم روزہ میں غیبت چغلی سے بچتے ہیں لیکن ہم لوگوں کا منہ تو نہیں روک سکتے لیکن ہم بغیر کسی کی دلآزاری کییے بنا انھیں روک سکتے ہیں سب سے پہلے تو فون سے رابطہ قائم کرنے سے پرہیز کرے ضرورت پڑنے پر ہی اسکا استعمال کرنا چاہئے ۔دوسرا جو لوگ اطراف میں ہے تو مختصر میں گفتگو ختم کرے اور اگر موضوع چھڑ ہی جاے تو مصروفیت کا بہانہ بناتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کرے۔
٢.قرآن اور اچھی نصیحت سننے کو ترجیح دیں ۔کہتے ہیں اللہ والوں کی صحبت اختیار کرنے سے گناہ کم اور صواب زیادہ ہوتے ہیں اک وقت مقرر کرے کب تلاوت کرنی ہے اگرچہ مصروفیت زیادہ ہے تو بیانات تلاوت مع ترجمع سننے کو ترجیح دیں ۔
٣.فحش اور بے حیائ پر مبنی گفتگو سے بچے۔جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو جھوٹ بولنے ،سننے سے تو بچتے ہیں لیکن اپنی گفتگو میں ڈرامے ،ناول،بے مطلب کے چیزوں پر تبصروں سے احتیاط نہیں کرتے لیکن اب ہمیں عہد کرنا ہے کہ اپنی گفتگو میں احتیاط کرے گے اکثر ہم دنیاوی تبصرے کرنے میں ہنسی مذاق میں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اگر ہم فضول گوئی سے پرہیز کرے تو بہت حد تک گناہ سے بچ سکتے ہیں۔
٤.ذکر اللہ اور ذکر رسول اور خیر کی باتیں سننا ۔رمضان کے مبارک مہینے میں خواتین اور ذیادہ مصروف ہو جاتی ہے لیکن ان مصروفیت میں سے جب بھی وقت ملے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ذکر کرے درود پاک پڑھے اور بیانات سنے خیر کی باتیں کرےان سب چیزوں پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کرے مشکل ضرور ہے نا ممکن نہیں۔اسطرح ہم کان کا روزہ رکھ سکتے ہیں آے ہم عہد کرے کہ اپنے کان سے صرف حق،خیر اور بھلائی کی باتیں ہی سنے گے انشااللہ اللہ رب العزت کہنے سننے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرماۓ اللہ آپ کا ہمارا سبکا ہامی و ناصر ہو اللہ حافظ ۔
Hamid Iqbal
*حادثے جیسے ہیں سب دیکھے ہوئے سمجھے ہوئے*
*کوئی حیرانی نہیں اب آنکھ اور منظر کے بیچ*
کہیں ہم زندہ ہوتے ہوئے مر تو نہیں گئے؟
از قلم: طٰہٰ جمیل نلاّمندو
( معلمہ و قلم کار پونے مہانگر پالیکا)
Hamid Iqbal
از قلم
عظمیٰ ناز تجمل بیگ
💪خود اعتماد خاتون بنیں🧕
غور وفکر کی بات ہے کہ ہمیں (خواتین)کو کمزور رکھنے میں دنیا کو فائدہ ہے کیونکہ جیسے ہی ہم ذہنی طور پر مظبوط بن گئیں ہم خود بخود خود اعتماد بن جاءیگے ۔لوگ ہمیں قابو میں کرنا بند کردینگے اور عزت دینا شروع کردینگے۔سنو ہمیں کسی سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے نہ کسی مرد سے نہ کسی رشتے سے نہ دنیا کی بکواس ایکسییپٹیشن سے ہمارا اصل دشمن ہمارا دماغ ہےجب ہمارا دماغ کمزور ہو تا ہے تو دنیا ہمیں قابو میں کرنے کی کوششیں کرتیں ہیں اور جب دماغ مضبوط ہوتا ہے تو دنیا ہمیں چھو بھی نہیں سکتی اور آج ہم ایسا ہی مضبوط ذہن ترتیب دینگے سب سے پہلا قدم
کوءی بہانہ نہیں صرف حقیقت پسندی ۔
اگر ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر بکھر جاتے ہیں لوگوں کی باتوں کو دل پر لیلیتے ہیں تو ایک طنز ،ایک نظر انداز کرنے والی نظر کچھ جملےاور ہمارا پورا دن برباد کرتے ہیں سنلیں یہ دنیا ہمیں کچرا سمجھ کر فٹ پاتھ پر پھینک دیںگی کیونکہ دنیا مضبوط عورت سے ڈرتی ہے اور کمزور عورتوں کو قابو میں کرتی ہیں۔آج خود سے وعدہ کرو کہ میں کمزور نہیں مضبوط بنوں گی اپنے دماغ کو مضبوط بنانا میرا مقصد ہے۔آج ہم ٥ پانچ ایسے طریقے سیکھے گے جو خواتین کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہونگے انشااللہ ۔
١.ہم اپنی پہچان خود بناے۔ ہمیں اپنا آپ صابت کرنے کےلئے کسی اور کے سہارے کی ضرورت نہیں بہترین سہارا،، اللہ تعالی ،،کا ہے دنیا کے ساتھ ساتھ دین کی رسی بہی مضبوطی سے پکڑے،، انشااللہ وہ رب العزت،، ہمیں تھامے رکھیں گا۔انسان کی اصل قوت اسکے اندر ہوتی ہے ،ہمارے مضبوط فیصلے میں ،ہماری پسند میں ،ہمارے انتخابات میں
ہمارے مضبوط ہونے کا پتہ لگتا ہے' ذرا غور کیجئے ایک ایسی خاتون جو ذہنی سطح پر مضبوط ہو۔ نا وہ کسی کو متاثر کرنا چاہتی ہےنا ہی خود کو اچھا ثابت کرنا چاہتی ہے نہ بنا وجہ بولتی ہے اسکی خود اعتمادی اسکی پہچان بن جاتی ہے ۔اور اسکی پرزینٹ ہی ایک اسٹیٹمینٹ بن جاتی ہے اور سب سے دلچسپ بات ایک خاتون جب اپنی پہچان خود بناتی ہے تو لوگ اسے سے ڈرتے نہیں بلکہ اسکی عزت کرتے ہیں'
کیونکہ جو انسان خود کے بارے میں صاف ہوتا ہے اسے پریشان کرنا ،چالاکی کرنا ،یا قابو میں رکھنا آسان نہیں ہوتا یہی وجہ ہےکہ ایسی خواتین بہت خاص ہوتی ہے اور خاص اشیاء کی ہمیشہ قدر کی جاتی ہے ایک بات ہمشہ یاد رکھو زندگی میں کو ئی بہی موڑ آے کوی بہی شخص آے یا جائے کوی بہی رشتہ کمزور یا مضبوط ہو سب سے پہلے ہمیں خود کا انتخاب کرنا ہے کیونکہ اگر ہم نے خود کو کھو دیا تو دنیا ہمارے لیۓ بے معنی ہے اپنے آپ سے کہتے رہو کہ میری خود اعتمادی میری پہچان ہے اور مجھے اپنی ذات پر فخر ہے۔
٢.کم ذہن لوگوں کو خود پر حاوی نہ ہونے دے۔
سچائی ہے کہ اکثر زندگی میں زیادہ نقصان بڑے طوفانوں سے نہیں چھوٹے لوگوں کی چھوٹی باتوں نے کیا ہے ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا اور آہستہ آہستہ انکی کم ذہنیت ہمارے ذہنی قوت ہماری خوشحالی اور ہماری صلاحیتوں کو نگل لیتی ہے جو انسان خود کچھ بہتر نہیں کرپاتے اسلیے دوسروں کو کمتر بتا کر مطمئن ہو جاتےہیں ۔ خبر ہے ہماری سب سے بڑی کمزروی کیا ہے؟ ہم ہر کس کی بات دل پر حاوی کرلیتے ھیں ایک چھوٹا سا طنزیہ جملہ ہمیں گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں تک پریشان کر سکتا ہے کسی نے جسمانی طور پر برا بول دیا کسی نے طرز زندگی پر طنز کردیا کسی نے ہماری ذاتی رشتوں ناطوں کو جانچا اور ہم بیوقوفوں جیسے گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں مہینوں تک وہ ہی دہراتے ہیں جیسے کوی ضروری اشتھار ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بارے میں تزات بولنے والے ٩٠/افراد یا تو آپ سے بعض رکھتے ہیں یا وہ خود ذہنی طور پر بکھرے پڑے ہیں یا خود سے ہی ناخوش ہیں وہ خود اپنی زندگی سوار نہیں پاتے اسلیے وہ دوسروں کی خود اعتمادی کو پست کرکے اپنی انا کو وقتیکہ تسکین پہنچاتے ہیں اور ہم ایسے کمزرفو کی باتوں کو اپنے اندر زہر کی طرح پالتے ہیں اور یہ ہی سب سے بڑا خود اعتمادی کو پست کرنے والا خسارا ہے سوچے کسی کی کمزرفی آپ کی پورے دن کی قوت کو پست کردے تو آپ کا کتنا وقت ضایع ہو گیا کیا یہ ہمارے خود کے ساتھ نا انصافی نہیں کیا ہمارے جذبات اتنے سستے ہیں کہ ہر کوی ہماری دل آزاری کردے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے لیے کونسا جملہ معنی رکھتاہے کچھ آوازیں صرف نظر انداز کرنے کیلئے ہوتی ہے کسی دانشور نے کہاکہ ،،کتوں کے ساتھ بھوکا نہیں جاتا ،،ذہنی طور پر مظبوط عورت وہی ہوتی ہے جو فیصلہ لیتی ہے جو اپنے جذبات اور احساسات کو قابو میں رکھنا جانتیں ہے وہ سمجھتی ہے کہ ردعمل دینا بھی ایک سہولت فراہم کرنا ہے اور یہ سہولت ہر کسی کو مہیا نہیں کرای جاتی وہ جانتی ہے کہ خاموشی بھی ایک جواب ہے ایک بات ہمیشہ یاد رکھے ہمارا دماغ ہمارے گھر کا ماسٹر بیڈروم ہے ہر کوی اسمیں رہنے لایق نہیں ہوتا جو لوگ ہمیں نیچا گرانے کی کوشش کریں انہیں ہمیں اپنے ذہن سے نکالنا ہوگا۔
٣.مشکل وقت میں خاموشی اختیار کرنا ۔
غور طلب بات ہے کہ ہماری اصل صلاحیت جب نہیں دکھائی دیتی جب حالات بہتر ہو بلکہ جب حالات ناساز گار ہو اور اسی وقت ہم اطمینان سے فیصلے لے جیسے ،،کسی کی ملازمت چھوٹ گئی ،،کسی کی شادی ٹوٹ گئی ،،کسی کے کاروبار میں نقصان ہوتاہے ایسی بی شمار نقصان ہر کسی کی زندگی میں الگ الگ صورت میں ہوتےہے فرق اتنا ہے کہ کوی اپنا آپ سمیٹ لیتا ہے تو کوی ٹوٹکر بکھر جاتا ہے خاموشی کمزوری نہیں اپنے آپ میں ایک طاقت ہے فلسفہ ہے کہ angry mind looses calm mind win. ہم سوچتے ہیں کہ ردعمل دینا طاقت ہے غلط ردعمل ہمیں کمزور بناتا ہے جب ہم جذبات میں آکر فیصلے لیتے ہیں تو اکثر ہم ہار جاتے ہیں ردعمل سے پہلے سوچو سمجھو عمل کرو ۔
٤.لوگوکی خوشامتیں بند کردیں ۔کڑوا ہے مگر سچ ہے کہ ہمارے زندگی کا بیشتر بیش قیمت حصہ لوگوں کو خوش کرنے میں گزر جاتا ہے،،فلاں کیا سوچے گا ،فلاں ناراض تو نہیں ہوجاے گا،فلاں میری میرے ماں باپ کی تربیت پر انگلی تو نہیں اٹھائے گا یہ سوال ہمارے زندگی کے جیلر ہے جو ہمیں جیل کی طرح جکڑے ہوے ہیں ایسا جیسے ہماری ذندگی کسی اور کے کندھوں پر ٹکی ہو۔اپنے آپ سے کہے ،،بس اب بس،،کیونکہ اب وقت ہے حقیقت پسند بننے کا ہم دنیا کے اصولوں پر چلکر کبھی بھی مضبوط نہیں بن سکتے مضبوط بننے کیلیے حوصلا چاہیے اور حوصلا انکے پاس ہرگز نہیں ہوتا جو دوسروں کے اصولوں پر مبنی زندگی گذارتے ہیں لوگوں کی آپ سے امیدیں انکی غرض نکلنے تک ہوتی ہیں ہر عورت کو یہ پتہ ہونا چاہیئے کہ ہم ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے اور اسکی کوی ضرورت بھی نہیں کیونکہ لوگوں کو پریشانی تم سے نہیں تمہاری ترقی سے ہوتی ہے تم پرانے کپڑے پہنو ایک وقت کھانا کھاؤ کوی نہیں پوچھے گا جہاں آپ اچھی زندگی جینا شروع کرو مفت کے مشورے شروع۔حاصل مطلب یہ کہ ہم خود کو کتنا بھی بدل دیں لوگ آپ میں کو ئی نا کوی برائی اپنے مطلب کی ڈھونڈ ہی لینگے انہیں ہماری چپ بھی کھٹکے گی اور آواز بھی اسلیے اپنے اصول بنائے جسطرح آپ کو ہاں بولنا آتا ہے اسطرح نا بولنا بھی سیکھے لوگ اگر کہے کہ تم بدل گئے ہو تو خود اعتمادی سے کہے ہاں اب میں خود کے اور خود سے جڑے مخلص رشتوں کے لئے جیتی ہوں اسلیے لوگوں کی خوشامد یں بند کردیں لوگ خود بخود آپکی عزت کرینگے عزت اسی کو ملتی ہے جو خود کی عزت دینا جانتا ہو۔
٥.اپنی اصل طاقت صلاحیتوں کو ابھار و
یہ وہ آخری نقطہ نظر ہے جو صرف پڑھنا نہیں جینا ہے
کیونکہ یہ وہ طاقت ہے جو ہمارے اندر پہلے سے موجود ہے ہم معاشرہ ،لوگ،رشتےکے ڈر نے اسے ذہن کے کسی کونے میں دفن کر دیا ہے یہ طاقت ہے خود اعتمادی خود داری ہمیں کسی غیر کی منظوری مشورے کی ضرورت نہیں ہے ہماری اصلی طاقت جب شروع ہوتی ہے جب ہم فیصلہ لیتے ہیں کہ اب سے ہم ہماری ذندگی خود کے اصولوں پر جیے گے کسی اور کے اشاروں پر ناچنے سے بہتر ہے اپنا آپ سوارے یقین مانیے یہی وہ وقت ہے جب ہم پرفیکٹ ہو جاءے گےہماری اصلی طاقت خود کو پہچاننا ہے سنو کہ ہمیں دنیا بدلنے کی ضرورت نہیں لوگوں کو بدلنے کی ضرورت نہیں بس ایک فیصلہ بدل دیں کہ آج کے بعد ان لوگوں کے قریب بھی نہیں جانا جنہوں نے آپ کو غلط قرار دیا سازشیں کیں اور کر رہے ہیں سب کو برا خواب خیال کرتے ہوۓ اپنے مقدمہ کا جج اللہ رب العزت کو بناے اور اپنی زندگی کو پر سکون گزارتے ہوے اسکے فیصلے کا انتظار کرے اللہ رب العزت ہم سبکا ہامی و ناصر ہو اللہ حافظ ۔
















