از قلم 

عظمیٰ ناز تجمل بیگ 

💪خود اعتماد خاتون بنیں🧕

 غور وفکر کی بات ہے کہ ہمیں (خواتین)کو کمزور رکھنے میں دنیا کو فائدہ ہے کیونکہ جیسے ہی ہم ذہنی طور پر مظبوط بن گئیں ہم خود بخود خود اعتماد بن جاءیگے ۔لوگ ہمیں قابو میں کرنا بند کردینگے اور عزت دینا شروع کردینگے۔سنو ہمیں کسی سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے نہ کسی مرد سے نہ کسی رشتے سے نہ دنیا کی بکواس ایکسییپٹیشن سے ہمارا اصل دشمن ہمارا دماغ ہےجب ہمارا دماغ کمزور ہو تا ہے تو دنیا ہمیں قابو میں کرنے کی کوششیں کرتیں ہیں اور جب دماغ مضبوط ہوتا ہے تو دنیا ہمیں چھو بھی نہیں سکتی اور آج ہم ایسا ہی مضبوط ذہن ترتیب دینگے سب سے پہلا قدم 


کوءی بہانہ نہیں صرف حقیقت پسندی ۔


اگر ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر بکھر جاتے ہیں لوگوں کی باتوں کو دل پر لیلیتے ہیں تو ایک طنز ،ایک نظر انداز کرنے والی نظر کچھ جملےاور ہمارا پورا دن برباد کرتے ہیں سنلیں یہ دنیا ہمیں کچرا سمجھ کر فٹ پاتھ پر پھینک دیںگی کیونکہ دنیا مضبوط عورت سے ڈرتی ہے اور کمزور عورتوں کو قابو میں کرتی ہیں۔آج خود سے وعدہ کرو کہ میں کمزور نہیں مضبوط بنوں گی اپنے دماغ کو مضبوط بنانا میرا مقصد ہے۔آج ہم ٥ پانچ ایسے طریقے سیکھے گے جو خواتین کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہونگے انشااللہ ۔

١.ہم اپنی پہچان خود بناے۔ ہمیں اپنا آپ صابت کرنے کےلئے کسی اور کے سہارے کی ضرورت نہیں بہترین سہارا،، اللہ تعالی ،،کا ہے دنیا کے ساتھ ساتھ دین کی رسی بہی مضبوطی سے پکڑے،، انشااللہ وہ رب العزت،، ہمیں تھامے رکھیں گا۔انسان کی اصل قوت اسکے اندر ہوتی ہے ،ہمارے مضبوط فیصلے میں ،ہماری پسند میں ،ہمارے انتخابات میں 

ہمارے مضبوط ہونے کا پتہ لگتا ہے' ذرا غور کیجئے ایک ایسی خاتون جو ذہنی سطح پر مضبوط ہو۔ نا وہ کسی کو متاثر کرنا چاہتی ہےنا ہی خود کو اچھا ثابت کرنا چاہتی ہے نہ بنا وجہ بولتی ہے اسکی خود اعتمادی اسکی پہچان بن جاتی ہے ۔اور اسکی پرزینٹ ہی ایک اسٹیٹمینٹ بن جاتی ہے اور سب سے دلچسپ بات ایک خاتون جب اپنی پہچان خود بناتی ہے تو لوگ اسے سے ڈرتے نہیں بلکہ اسکی عزت کرتے ہیں' 

کیونکہ جو انسان خود کے بارے میں صاف ہوتا ہے اسے پریشان کرنا ،چالاکی کرنا ،یا قابو میں رکھنا آسان نہیں ہوتا یہی وجہ ہےکہ ایسی خواتین بہت خاص ہوتی ہے اور خاص اشیاء کی ہمیشہ قدر کی جاتی ہے ایک بات ہمشہ یاد رکھو زندگی میں کو ئی بہی موڑ آے کوی بہی شخص آے یا جائے کوی بہی رشتہ کمزور یا مضبوط ہو سب سے پہلے ہمیں خود کا انتخاب کرنا ہے کیونکہ اگر ہم نے خود کو کھو دیا تو دنیا ہمارے لیۓ بے معنی ہے اپنے آپ سے کہتے رہو کہ میری خود اعتمادی میری پہچان ہے اور مجھے اپنی ذات پر فخر ہے۔


٢.کم ذہن لوگوں کو خود پر حاوی نہ ہونے دے۔

سچائی ہے کہ اکثر زندگی میں زیادہ نقصان بڑے طوفانوں سے نہیں چھوٹے لوگوں کی چھوٹی باتوں نے کیا ہے ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا اور آہستہ آہستہ انکی کم ذہنیت ہمارے ذہنی قوت ہماری خوشحالی اور ہماری صلاحیتوں کو نگل لیتی ہے جو انسان خود کچھ بہتر نہیں کرپاتے اسلیے دوسروں کو کمتر بتا کر مطمئن ہو جاتےہیں ۔ خبر ہے ہماری سب سے بڑی کمزروی کیا ہے؟ ہم ہر کس کی بات دل پر حاوی کرلیتے ھیں ایک چھوٹا سا طنزیہ جملہ ہمیں گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں تک پریشان کر سکتا ہے کسی نے جسمانی طور پر برا بول دیا کسی نے طرز زندگی پر طنز کردیا کسی نے ہماری ذاتی رشتوں ناطوں کو جانچا اور ہم بیوقوفوں جیسے گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں مہینوں تک وہ ہی دہراتے ہیں جیسے کوی ضروری اشتھار ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بارے میں تزات بولنے والے ٩٠/افراد یا تو آپ سے بعض رکھتے ہیں یا وہ خود ذہنی طور پر بکھرے پڑے ہیں یا خود سے ہی ناخوش ہیں وہ خود اپنی زندگی سوار نہیں پاتے اسلیے وہ دوسروں کی خود اعتمادی کو پست کرکے اپنی انا کو وقتیکہ تسکین پہنچاتے ہیں اور ہم ایسے کمزرفو کی باتوں کو اپنے اندر زہر کی طرح پالتے ہیں اور یہ ہی سب سے بڑا خود اعتمادی کو پست کرنے والا خسارا ہے سوچے کسی کی کمزرفی آپ کی پورے دن کی قوت کو پست کردے تو آپ کا کتنا وقت ضایع ہو گیا کیا یہ ہمارے خود کے ساتھ نا انصافی نہیں کیا ہمارے جذبات اتنے سستے ہیں کہ ہر کوی ہماری دل آزاری کردے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے لیے کونسا جملہ معنی رکھتاہے کچھ آوازیں صرف نظر انداز کرنے کیلئے ہوتی ہے کسی دانشور نے کہاکہ ،،کتوں کے ساتھ بھوکا نہیں جاتا ،،ذہنی طور پر مظبوط عورت وہی ہوتی ہے جو فیصلہ لیتی ہے جو اپنے جذبات اور احساسات کو قابو میں رکھنا جانتیں ہے وہ سمجھتی ہے کہ ردعمل دینا بھی ایک سہولت فراہم کرنا ہے اور یہ سہولت ہر کسی کو مہیا نہیں کرای جاتی وہ جانتی ہے کہ خاموشی بھی ایک جواب ہے ایک بات ہمیشہ یاد رکھے ہمارا دماغ ہمارے گھر کا ماسٹر بیڈروم ہے ہر کوی اسمیں رہنے لایق نہیں ہوتا جو لوگ ہمیں نیچا گرانے کی کوشش کریں انہیں ہمیں اپنے ذہن سے نکالنا ہوگا۔

٣.مشکل وقت میں خاموشی اختیار کرنا ۔

غور طلب بات ہے کہ ہماری اصل صلاحیت جب نہیں دکھائی دیتی جب حالات بہتر ہو بلکہ جب حالات ناساز گار ہو اور اسی وقت ہم اطمینان سے فیصلے لے جیسے ،،کسی کی ملازمت چھوٹ گئی ،،کسی کی شادی ٹوٹ گئی ،،کسی کے کاروبار میں نقصان ہوتاہے ایسی بی شمار نقصان ہر کسی کی زندگی میں الگ الگ صورت میں ہوتےہے فرق اتنا ہے کہ کوی اپنا آپ سمیٹ لیتا ہے تو کوی ٹوٹکر بکھر جاتا ہے خاموشی کمزوری نہیں اپنے آپ میں ایک طاقت ہے فلسفہ ہے کہ angry mind looses calm mind win. ہم سوچتے ہیں کہ ردعمل دینا طاقت ہے غلط ردعمل ہمیں کمزور بناتا ہے جب ہم جذبات میں آکر فیصلے لیتے ہیں تو اکثر ہم ہار جاتے ہیں ردعمل سے پہلے سوچو سمجھو عمل کرو ۔


٤.لوگوکی خوشامتیں بند کردیں ۔کڑوا ہے مگر سچ ہے کہ ہمارے زندگی کا بیشتر بیش قیمت حصہ لوگوں کو خوش کرنے میں گزر جاتا ہے،،فلاں کیا سوچے گا ،فلاں ناراض تو نہیں ہوجاے گا،فلاں میری میرے ماں باپ کی تربیت پر انگلی تو نہیں اٹھائے گا یہ سوال ہمارے زندگی کے جیلر ہے جو ہمیں جیل کی طرح جکڑے ہوے ہیں ایسا جیسے ہماری ذندگی کسی اور کے کندھوں پر ٹکی ہو۔اپنے آپ سے کہے ،،بس اب بس،،کیونکہ اب وقت ہے حقیقت پسند بننے کا ہم دنیا کے اصولوں پر چلکر کبھی بھی مضبوط نہیں بن سکتے مضبوط بننے کیلیے حوصلا چاہیے اور حوصلا انکے پاس ہرگز نہیں ہوتا جو دوسروں کے اصولوں پر مبنی زندگی گذارتے ہیں لوگوں کی آپ سے امیدیں انکی غرض نکلنے تک ہوتی ہیں ہر عورت کو یہ پتہ ہونا چاہیئے کہ ہم ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے اور اسکی کوی ضرورت بھی نہیں کیونکہ لوگوں کو پریشانی تم سے نہیں تمہاری ترقی سے ہوتی ہے تم پرانے کپڑے پہنو ایک وقت کھانا کھاؤ کوی نہیں پوچھے گا جہاں آپ اچھی زندگی جینا شروع کرو مفت کے مشورے شروع۔حاصل مطلب یہ کہ ہم خود کو کتنا بھی بدل دیں لوگ آپ میں کو ئی نا کوی برائی اپنے مطلب کی ڈھونڈ ہی لینگے انہیں ہماری چپ بھی کھٹکے گی اور آواز بھی اسلیے اپنے اصول بنائے جسطرح آپ کو ہاں بولنا آتا ہے اسطرح نا بولنا بھی سیکھے لوگ اگر کہے کہ تم بدل گئے ہو تو خود اعتمادی سے کہے ہاں اب میں خود کے اور خود سے جڑے مخلص رشتوں کے لئے جیتی ہوں اسلیے لوگوں کی خوشامد یں بند کردیں لوگ خود بخود آپکی عزت کرینگے عزت اسی کو ملتی ہے جو خود کی عزت دینا جانتا ہو۔

٥.اپنی اصل طاقت صلاحیتوں کو ابھار و

یہ وہ آخری نقطہ نظر ہے جو صرف پڑھنا نہیں جینا ہے 

کیونکہ یہ وہ طاقت ہے جو ہمارے اندر پہلے سے موجود ہے ہم معاشرہ ،لوگ،رشتےکے ڈر نے اسے ذہن کے کسی کونے میں دفن کر دیا ہے یہ طاقت ہے خود اعتمادی خود داری ہمیں کسی غیر کی منظوری مشورے کی ضرورت نہیں ہے ہماری اصلی طاقت جب شروع ہوتی ہے جب ہم فیصلہ لیتے ہیں کہ اب سے ہم ہماری ذندگی خود کے اصولوں پر جیے گے کسی اور کے اشاروں پر ناچنے سے بہتر ہے اپنا آپ سوارے یقین مانیے یہی وہ وقت ہے جب ہم پرفیکٹ ہو جاءے گےہماری اصلی طاقت خود کو پہچاننا ہے سنو کہ ہمیں دنیا بدلنے کی ضرورت نہیں لوگوں کو بدلنے کی ضرورت نہیں بس ایک فیصلہ بدل دیں کہ آج کے بعد ان لوگوں کے قریب بھی نہیں جانا جنہوں نے آپ کو غلط قرار دیا سازشیں کیں اور کر رہے ہیں سب کو برا خواب خیال کرتے ہوۓ اپنے مقدمہ کا جج اللہ رب العزت کو بناے اور اپنی زندگی کو پر سکون گزارتے ہوے اسکے فیصلے کا انتظار کرے اللہ رب العزت ہم سبکا ہامی و ناصر ہو اللہ حافظ ۔

 

از قلم.عظمہ ناز تجمل بیگ


رشتے داروں کو کیا کسی کو بھی موقع نہ دیں۔ 


       یہ جملہ آپ کو شائد عجیب سا لگ سکتا ہے، ہاں اگر آپ اپنی اولاد کو ایک نفسیاتی و ذہنی دباؤ سے بچانا چاہتے ہیں، تو اپنے بچوں کو کسی بھی طرح سے تنگ کرنے کی اجازت نہ دیں۔ میں نے خاص طور پر اپنے کہا ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ آپ کے بچوں کے ساتھ آپ کے سامنے ایسے جملے بول سکتے ہیں، آپ کے بچوں کے حلیے پر، ان کی عادات پر، ان کے معاملات پر، غیر مناسب تنقید یا واقعتا سنجیدہ موڈ میں یا ہنسی مذاق میں ایسے بے ہودہ  قسم کے سوالات کر سکتے ہیں، جنہیں سن کر  ممکن ہے کہ آپ کو بھی اچھا نہیں لگے گا، مگر آپ خاموش رہتے ہیں کیونکہ اگر آپ انہیں ایسے جملے بولنے سے روکیں گے، تو آپ کی رشتہ داری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ آپ کا بچہ ایسی کسی کیفیت کا جواب نہیں دے سکتا، مگر آپ ہوشمندی کا مظاہرہ کریں اور انہیں اس تکلیف سے بچائیں۔ بچوں کو خاص طور سے سکھاے کہ اپنا ڈیلی روٹین کسی کے ساتھ شءر نا کریں کیونکہ تجربے سے ثابت ہے کہ لوگ پوچھتے تو پیار سے ہے لیکن انہی باتوں کو بنیاد بنا کر طعنہ دینے میں دیر نہیں کرتے

دوسری اور اہم بات جو میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آپ کے بچوں کو ذاتی طور سے سمجھدار اور ذمے دار بنائیں لیکن ان کا بچپن لوگوں کی نظر میں قائم رہنے دیں کیونکہ انھی کے برابر کے یا تھوڑے چھوٹے بڑے بچے آپ کے بچوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور وہ بچہ ہے اسکو نہیں سمجھتا بولکر لوگ آپکے بچوں کی سمجھداری کو غلط استعمال کرتے ہیں اور خود کے بچوں کو نا سمجھ ہے چھوٹا ہے بولکر ہٹا دیتے ہے۔

       بچوں کی شکل کے حوالے سے، ان کے بالوں کے حوالے سے، ان کی رنگت، ان کے جسمانی اعضاء پر، یا کسی بھی نوعیت کے اعتبار سے ان کی عادات کے اعتبار سے ان کے لباس پر اگر آپ کے بچے پر کوئی تنقید کرتا ہے، یا بچے کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، ہوسکتا ہے کہ  اپنے تئیں وہ سمجھا رہا ہوتا ہے لیکن اس کا انداز طنزیہ ہو سکتا ہے، یا اس میں حقارت یا ڈانٹ کی کیفیت موجود ہوسکتی ہے، تب آپ کو لگتا ہے کہ وہ ایک خاندان کا ایک بڑا فرد بطور ایک well wisher کے آپ کے بچے کے ساتھ یہ سب کر رہا ہے۔ اور چلیں مان لیں کہ آپ کو بھی لگ رہا ہو کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ لیکن آپ اپنی رشتہ داری کو قائم رکھنے کے لیے، بزرگ یا کسی بھی رشتہ دار خاتون کی وہ بات برداشت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا بچہ تو  "ایک چھوٹا بچہ جو کل اس بات کو یا اس ڈانٹ کو بھول جائے گا" ۔ تو ایسا ہر گز نہیں ہے۔بچے ایسی باتیں کبھی نہیں بھولتے، اس کا اظہار نہیں کر سکتے وہ ایک "بند بوتل کی طرح ہوتے ہیں اور بوتل بند احساسات کبھی نہیں مرتے، وہ زندہ رہتے ہوئے دفن ہوجاتے ہیں، اور ساری زندگی بعد میں ان بچوں میں احساس کمتری اور بدصورت رویے مختلف صورتوں میں ابھرتے ہیں۔


         اس لیے اورو کو کبھی بھی اپنے بچوں کے بچپن، معصومیت اور خوشی کو مسخ کرنے کی اجازت نہ دیں اور جب بھی آپ کے بچے اپنا بچپن یاد کریں تو وہ اسے خوبصورت احساسات اور رویوں کے ساتھ یاد رکھیں، یہ چیز آپ کے بچوں کی خود اعتمادی کو مجروح کرتی ہے اور ان کے لیے نفسیاتی مسائل پیدا کرتی ہے۔ جو مستقبل میں انہیں نقصان پہنچائی گی، اگر ایسے کسی لمحے میں آپ اپنے کسی رشتہ دار کو موقع پر ہی ٹوک دیں گے ممکن ہے وہ رشتے دار چند روز، ہفتے، مہینے یا سال بھر آپ سے ناراض ہوسکتا ہے، لیکن یہ آپ کے بچے کی نفسیاتی حفاظت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جو اس کا بنیادی حق ہے، کہ وہ اپنے آپ کو کم تر محسوس کریں یا اپنے جسم یا شخصیت کے کسی حصے سے نفرت کریں۔ اس لئے ایسے کسی بھی موقع پر رشتہ داروں کو سختی سے منع کریں، اپنے بچوں کے ساتھ کسی کو بھی حدود سے تجاوز نہ کرنے دیں، چاہے وہ مذاق میں ہو یا سنجیدگی میں بات میں ہو یا عمل میں ہر صورت یہ رویہ ناقابل قبول رکھیں۔ 


         اکثر  قریبی عزیز ہی یہ ہمت کرتے ہیں، کہ آپ کے بچوں کو ان کی ہئیت و رنگ کی وجہ سے کسی نامناسب نام سے پکار لیتے ہیں، جیسے موٹو، پتلو، بچوں کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ بہت گھنا ہے، یہ کتنا غیر مناسب لفظ ہے، بچوں کے لئے اس کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے کہ آپ کسی بچے کو ایک طرح سے دھوکے باز کہہ رہے ہیں، بچوں کے بارے میں ایسے الفاظ یا مذاق کرنا سختی سے روکنا چاہئے، جو بچے کے لیے ناپسندیدہ یا تکلیف دہ ہو، یہ سب کرنے والے والے چاہے آپ کی بہن، یا آپ کے بھائی، آپ کی پھوپھی، آپ کی خالہ یا چچا تایا تای ماموں وغیرہ  کوئی بھی کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہوں، انہیں بچوں کی جسمانی ساخت پر تبصرہ یا تضحیک کرنے سے سختی سے روکنا چاہئے کہ جیسے آپ کا بچہ اس طرح کیوں نہیں بھاگ سکتا؟ اس کا رنگ ایسا کیوں ہے، اس کا قد عمر کے حساب سے کم ہے، وہ ایسے کیوں پڑھتا ہے، ایسے کیوں کھاتا ہے، وہ ٹھیک سے بول نہیں سکتا۔ وغیرہ وغیرہ، اصل میں یہ تمام منفی باتیں بچوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ان کے دماغ میں رہتی ہیں اور اس عمر میں ان کا دماغ اس پر یقین کر لیتا ہے۔ 


         ایسے تمام برے لفظ یا جملے بچوں کے ذہن پر چھا جاتے ہیں، اور وہ مختلف مسائل کی صورت سامنے آتے ہیں، بچوں کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے، اور ان مسائل سے نکلنے میں انہیں وقت لگتا ہے، ایسے ہر برے لفظ یا تنقیدی و تضحیکی جملوں کے اثر کو دور کرنے کے لیے ایک تکیلف دہ مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایسے ایک جملے سے انہیں ذہنی طور پر چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے 100 اچھے جملوں کی ضرورت پڑے گی۔ اپنے بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ نہ ہی خود موازنہ کرنا چاہیے نہ ہی کسی اور کا موازنہ کرنے دینا چاہیے، چاہے وہ آپ کے کتنے ہی بہترین رشتہ دار کیوں نہ ہو، کیونکہ ہر بچے کی اپنی شخصیت کی خصوصیات ہوتی ہیں، جو ایک بچے سے دوسرے بچے میں مختلف ہوتی ہیں، اور یہی موازنہ پہلی چیز ہے جو بچے کی شخصیت کو تباہ کرتی ہے اور خود اعتمادی کو کمزور کرتی ہے۔ آخری بات یہی ہے کہ افعال رویوں اور جملوں سے اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والی ایسی بدمعاشی کو روکیں۔ کیونکہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، اور خود بھی بحیثیت رشتہ دار آپ دوسروں کے بچوں کے بارے میں جملہ بولتے وقت سو بار سوچیں کہ آپ کے جملے کا اس بچے پر کیا اثر ہوگا۔

آخری اور اہم بات کہ بچوں کے ساتھ برا سلوک کرنے کے بعد انہیں کہا جاتا ہے کہ یہ بات اپنے والدین کو نہ بتایا جائے یا یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ تم بولتے ہو اپنے ممی بابا کو ہم ایسے ذہن والے لوگوں کو روک نہیں سکتے لیکن ہم اپنے بچوں کو ضرور سمجھا سکتے ھیں کہ کوی کتنا بھی بولے والدین کے ساتھ سب کچھ شییر کرنا چاہیے اپنے بچوں کے دماغ سے یہ بات نکالنا بھی ضروری ہے کہ ہم فلا کے بغیر کھیل نہیں سکتے یا رہ نہیں سکتے بچوں کو استعمال ہونے سے بچاءے اللہ رب العزت ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے آمین.


 


یومِ جمہوریہ( سوال، شعور اور ذمہ داری)
از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو 
(معلمہ و قلم کار پونے مہانگر پالیکا)


         یومِ جمہوریہ بھارت کی تاریخ کا وہ روشن دن ہے جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزادی محض اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ ایک منظم، باوقار اور ذمہ دار قومی زندگی کا آغاز ہے۔ 26 جنوری 1950 کو جب آئینِ ہند نافذ ہوا تو یہ اعلان ہوا کہ اس ملک کی بنیاد افراد کی خواہشات پر نہیں بلکہ قانون، انصاف اور مساوات پر ہوگی۔ یہی دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس آئینی روح کے ساتھ جینے کی کوشش کر رہے ہیں یا جمہوریت کو صرف ایک رسمی تہوار تک محدود کر چکے ہیں۔


جمہوریت محض ووٹ ڈالنے یا حکومت بنانے کا نظام نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری عمل ہے، جس میں سوال کی گونج، شعور کی روشنی اور ذمہ داری کا احساس بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی سماج میں سوال کرنے کی روایت ختم ہو جائے تو وہاں جمود پیدا ہو جاتا ہے، اور اگر شعور مفقود ہو جائے تو آزادی بے معنی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر ذمہ داری کا احساس ختم ہو جائے تو حقوق بھی غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ یومِ جمہوریہ ہمیں انہی تین بنیادی ستونوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔سوال کرنا جمہوریت کی زندگی ہے۔ سوال انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور نظام کو جواب دہ بناتا ہے۔ سوال نہ ہوں تو اقتدار بے لگام ہو جاتا ہے اور عوام خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ آئینِ ہند ہر شہری کو اظہارِ رائے اور سوال کا حق دیتا ہے، مگر یہ بھی سکھاتا ہے کہ سوال کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ انتشار۔ تعمیری سوال معاشرے کو جوڑتے ہیں جبکہ منفی اور نفرت انگیز رویے جمہوری اقدار کو کمزور کرتے ہیں۔


شعور وہ چراغ ہے جو آزادی کے اندھیروں میں روشنی فراہم کرتا ہے۔ بغیر شعور کے آزادی ایک کھوکھلا نعرہ بن جاتی ہے۔ باشعور شہری وہ ہوتا ہے جو خبر اور افواہ میں فرق کر سکتا ہے، جو جذبات کے بجائے عقل سے فیصلے کرتا ہے اور جو اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کا حسن سمجھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں شعور سے محروم ہوئیں تو ان کی آزادی خطرے میں پڑ گئی۔ یومِ جمہوریہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آئین کو سمجھنا، قانون کا احترام کرنا اور دوسروں کے حقوق کو تسلیم کرنا ہی اصل حب الوطنی ہے۔


ذمہ داری جمہوریت کا وہ پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز تو بلند کرتے ہیں، مگر فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ذمہ داری کے بغیر حقوق کی حفاظت ممکن نہیں۔ ایک ذمہ دار شہری قانون کی پاسداری کرتا ہے، ووٹ کو امانت سمجھتا ہے، عوامی املاک کی حفاظت کرتا ہے اور سماج میں امن و رواداری کو فروغ دیتا ہے۔ جب ہر فرد یہ محسوس کرے کہ اس کے اعمال کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے تو جمہوریت مضبوط بنیادوں پر قائم رہتی ہے اسلامی و اخلاقی تعلیمات بھی سوال، شعور اور ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔ قرآنِ کریم میں بارہا غور و فکر اور عقل کے استعمال کی دعوت دی گئی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ سوال کرنا ایمان کے خلاف نہیں بلکہ فہم و بصیرت کی علامت ہے۔ اسلام میں ہر انسان اپنے عمل کا جواب دہ ہے، چاہے وہ ذاتی زندگی ہو یا اجتماعی معاملات۔ عدل، امانت داری اور سچائی وہ اقدار ہیں جو اسلامی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام کی روح بھی ہیں۔ اس طرح دینی تعلیمات اور آئینی اقدار ایک دوسرے کی تکمیل کرتی نظر آتی ہیں۔

        نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، اور جمہوریت کی بقا بھی بڑی حد تک انہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر نوجوان باشعور، سوال کرنے والے اور ذمہ دار ہوں تو قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے، اور اگر وہ بے حسی اور لاپرواہی کا شکار ہوں تو مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ یومِ جمہوریہ نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ محض تماشائی نہ بنیں بلکہ فعال، باخبر اور باکردار شہری بن کر جمہوریت کو مضبوط کریں۔ یومِ جمہوریہ ہمیں جشن منانے کے ساتھ ساتھ خود احتسابی کی دعوت بھی دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف حکومت کا نام نہیں بلکہ عوام کے سوال، شعور اور ذمہ داری کا مجموعہ ہے۔ جب سوال زندہ رہیں. شعور بیدار ہو اور ذمہ داری دیانت داری سے ادا کی جائے تو ایک مضبوط، منصف اور باوقار قوم وجود میں آتی ہے۔ اسی عہد کے ساتھ یومِ جمہوریہ منانا ہی اس دن کا اصل پیغام ہے۔

 




 

 

CoMinG SoOn







CLICK ON DOWNLOAD👆 BUTTON FOR


 DOWNLOAD 

 


 


مکۃ المکرمہ: ناموں کی تجلی میں لپٹا ہوا حرم

ازقلم، ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی صاحب ،مالیگاؤں

مکہ، وہ سرزمین جسے اللہ نے اپنی وحدانیت کے اعلان کے لیے چنا، جہاں آدم علیہ السلام کے قدموں نے زمین کو پہچان۔     دی، جہاں ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھوں نے عشق کے گھر کو تعمیر کیا، جہاں حرا کی خاموشی میں وحی کی پہلی صدا گونجی — "اقرأ" اور یوں کائنات نے پڑھنا، لکھنا، بولنا سیکھا۔
یہ مکہ ہے، جہاں پتھروں نے توحید کا درس دیا، جہاں وادیوں میں تلبیہ کی گونج بسی، جہاں دلوں نے بندگی کا مفہوم سمجھا، جہاں آنکھوں نے پہلی بار "لبیک" کہنا سیکھا۔ یہ وہ شہر ہے جہاں عبادت سانس بن جاتی ہے، جہاں طواف وقت کو تھما دیتا ہے، جہاں ہر قدم گناہوں کی معافی لکھتا ہے۔ یہ مکہ، اللہ کے گھر کی چوکھٹ ہے جہاں زمین کا سینہ سجدے میں اور آسمان کا دل گریہ میں ڈوبا رہتا ہے۔ یہ شہر فقط ایک مقام نہیں، یہ بندگی کا مرکز، عشقِ الٰہی کا آئینہ اور صدیوں سے بہتی ہوئی بخشش کی ندی ہے۔ اس کے نام بھی اتنے ہی مقدس ہیں جتنی اس کی مٹی ، ہر نام میں نور کی لہر، ہر لقب میں توحید کا عکس۔ کہیں یہ بکہ ہے، کہیں ام القریٰ، کہیں بلدالامین، کہیں البلد الحرام۔
ہر نام میں حرم کی ہیبت، بیت اللہ کی حرارت، اور رب کی قربت جھلکتی ہے۔ ذیل میں مکہ مکرمہ کے چند نام نشانِ خاطر فرمائیں:
مکۃ المکرمہ — کرامتوں کی زمین
یہ وہ بستی ہے جسے اللہ نے مکرم فرمایا،
جس کے ہر ذرّے میں دعا کا اثر، ہر ہوا میں ذکر کا اثر۔ یہاں کے طواف میں کرامتیں برستی ہیں، یہاں کی راتیں استغفار کی بارش میں بھیگی رہتی ہیں۔ یہ صرف زمین نہیں رب کے نور کا فرش ہے۔
 
البلد الحرام — حرمتوں کی وادی
یہ وہ شہر ہے جس کی حرمت عرش سے نازل ہوئی۔ جہاں درخت کاٹنا گناہ، پرندوں کا شکار جرم، جہاں پتھر بھی اللہ کے اذن سے خاموش کھڑے ہیں۔ یہ حرمتوں کی وادی ہے جہاں نفس بھی ادب سیکھتا ہے،
جہاں دل بھی اجازت مانگ کر دھڑکتا ہے۔
بکّہ — سجدوں کا مرکز
یہ وہ نام ہے جو سجدوں کے جھکنے سے وجود میں آیا۔ یہاں کا ہر پتھر، ہر ذرہ سجدے کی لذت سے واقف ہے۔ یہ وہ زمین ہے جس پر پہلی بار انسان نے سجدہ کیا، جہاں بندگی نے پہچان پائی اور بندے نے خدا کو جانا۔
ام القریٰ — بستیوں کی ماں
یہ وہ شہر ہے جہاں سے تمام بستیوں کو زندگی ملی۔ یہی زمین تمام زمینوں کی ماں ہے، یہی وہ گود ہے جس میں انسانیت نے پہلا سجدہ کیا۔ یہاں سے ہدایت کے چشمے بہے اور دنیا نے خدا کے نام پر جینے کا سلیقہ سیکھا۔
البلد الامین — امن کا پیکر
یہ وہ شہر ہے جہاں خوف داخل نہیں ہو سکتا۔ جہاں ظالم بھی آ جائے تو محفوظ ہو جاتا ہے، جہاں دشمن بھی آتا ہے تو دل نرم ہو جاتا ہے۔ یہ امن کی پناہ گاہ ہے، جہاں فرشتے پہرہ دیتے ہیں اور دل سلامتی میں بس جاتے ہیں۔
البیت العتیق — قدامتِ عشق کی علامت
یہ وہ گھر ہے جو ازل سے اللہ کا ہے۔ نہ اس پر وقت غالب آیا، نہ فنا کا سایہ۔ یہ عتیق ہے ازلی، ابدی، پاکیزہ۔ یہاں کی دیواریں بندگی کی تاریخ لکھتی ہیں اور غلاف کے نیچے عشق سجدہ کرتا ہے۔
البلد الطیب — پاکیزگی کا استعارہ
یہاں کی مٹی پاک، یہاں کی ہوا طیب، یہاں دلوں کا میل دھل جاتا ہے، یہاں نیتیں نکھر جاتی ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بندہ خود کو دوبارہ دریافت کرتا ہے، اور کہتا ہے: "میں عبد ہوں، بس عبد۔" 
البلد النور — نورِ توحید کا مرکز
یہ وہ جگہ ہے جہاں کعبہ کھڑا ہے، جہاں لا الٰہ الا اللہ کی روشنی پھوٹی۔ یہاں سے نور پھیلا تو دلوں میں ایمان جاگا۔ یہ شہر چراغِ توحید ہے، جس کی لَو کبھی مدھم نہیں ہوتی۔
البلد الدعاء — دعا کی بستی
یہ وہ مقام ہے جہاں دعا رد نہیں ہوتی،
جہاں ہاتھ اٹھتے نہیں کہ قبولیت جھک آتی ہے۔ یہاں آنکھوں کے آنسو لفظ نہیں، وسیلہ ہوتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بندگی بات نہیں کرتی، بس خاموشی میں سب کہہ جاتی ہے۔
البلد السجود — سجدوں کا گھر
یہاں زمین سجدہ گاہ ہے اور آسمان محراب۔ یہاں جھکنا سعادت ہے، گرنا نجات۔ یہاں ہر سجدہ خود رب کا استقبال ہے۔
القادسۃ — پاک کرنے والی زمین
یہ مکہ، قلوب کو طہارت عطا کرتا ہے۔ یہاں پہنچ کر نیتیں نکھر جاتی ہیں، آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ مٹی ہے جو انسان کو گناہوں سے دھو دیتی ہے اور بندگی کے لباس میں سجاتی ہے۔
المرزوقۃ — رزق و برکت کا مرکز
یہ شہر فقر نہیں دیتا، قناعت دیتا ہے۔
یہاں کے لقمہ میں شکر ہے، یہاں کی ہوا میں برکت۔ یہ وہ زمین ہے جہاں بھوکا بھی سیر ہوجاتا ہے۔ 
بلد الصفاء — دلوں کا آئینہ
یہاں غبار نہیں، صفا ہے۔ یہاں کے دل آئینے کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ خود کو دیکھ کر خدا کو پہچان لیتا ہے۔
الناسۃ — کھینچ لینے والا شہر
یہ شہر خود نہیں بلاتا بلکہ کھینچ لیتا ہے۔
جو ایک بار آیا، وہ بار بار آتا ہے۔ یہ مکہ ہے رب کے عشق کا محور، جو دلوں کو اپنی کشش میں گرفتار رکھتا ہے۔
ام النور — روشنیوں کی ماں
یہاں سے وہ نور پھوٹا جو مدینہ تک پہنچا،
اور مدینہ سے عالمِ انسانیت تک۔ یہ مکہ، وہ گود ہے جس نے ایمان کو جنم دیا،
اور جس کے آغوش سے رسالت کا نور نکلا۔
اے مکہ!
تو زمین کا دل ہے، عبادت کا محور، اور عشقِ الٰہی کا پہلا منظر۔ تیری وادیوں میں جو آنسو گرتا ہے وہ بخشش بن جاتا ہے۔ تیری ہوا جو چھوتی ہے، وہ ایمان بن جاتی ہے۔ تو وہ شہر ہے جہاں بندگی شروع ہوتی ہے اور رضا پر ختم۔ تیری پہاڑیاں "وحدت" کی علامت ہیں؛ تیرا غبار عام نہیں، حرم کا تعویذ ہے۔ تو حرمِ خدا ہے جہاں انسان فنا ہوتا ہے اور خدا مل جاتا ہے۔
اے مکہ، تیرے ناموں کی کوئی انتہا نہیں؛
ہر نام تیری عظمت کا آئینہ، ہر لقب تیری حرمت کا اعلان۔ تو کبھی "بکہ" کہلاتا ہے، کبھی "بلد الامین" ، کبھی" ام القریٰ" ، کبھی "البیت العتیق" اور ہر نام تیرے وجود سے بندگی کی خوشبو لاتا ہے۔ تو وہ شہر ہے جہاں سے 'اقرأ" کی آواز اٹھی اور جہاں سے کائنات نے سجدہ کرنا سیکھا۔ اے مکہ، تیرا ذکر لبوں پر نہیں، دلوں میں اترتا ہے اور تیرے در پر آ کر انسان نہیں رہتا، عبد بن جاتا ہے۔
___ مشاہد رضوی
یکم نومبر 2025ء بروز سنیچر

 


اقبالؔ کا خواب، ٹیپوؔ کی بہادری، آزادؔ کی بصیرت۔۔۔۔۔

از: طٰہٰ نلّامندو
معاون معلّمہ، پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ 



        اردو زبان ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اس زبان نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے، محبت، اتحاد اور علم کی روشنی پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ہر سال نومبر کا دوسرا ہفتہ ہماری تاریخ کے اُن درخشاں ستاروں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے علم، زبان، اور وطن کی خدمت میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔
             ۹ نومبر کو ہم علامہ اقبالؔ کا یومِ پیدائش مناتے ہیں ۔ وہ شاعرِ مشرق جنہوں نے اپنی شاعری سے مسلمانوں کے دلوں میں خودی، بیداری، اور عزتِ نفس کا جذبہ پیدا کیا۔ اقبالؔ نے کہا تھا۔۔۔
"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے۔ اقبالؔ نے تعلیم کو روحِ حیات قرار دیا اور نوجوانوں کو علم، عمل، اور یقینِ محکم کا درس دیا۔
       ۱۰ نومبر کو ٹیپو سلطانؒ کی پیدائش کا دن منایا جاتا ہے۔ٹیپو سلطانؒ بہادری، قربانی اور حب الوطنی کی روشن مثال ہیں۔ انھوں نے وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی۔ ان کا قول آج بھی ہمیں جوش و ولولہ دیتا ہے“شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”
              ۱۱ نومبر کو مولانا ابوالکلام آزادؒ کا یومِ پیدائش ہے، جو ہمارے ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم تھے۔ اسی دن کو ہم یومِ تعلیم کے طور پر مناتے ہیں۔
مولانا آزادؒ نے تعلیم کو انسان کی سب سے بڑی ضرورت بتایا۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانیت کی ترقی کا زینہ ہے۔
ان کے یہ الفاظ ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہیں
 “تعلیم انسان کو محض جاہل ہونے سے نہیں بچاتی بلکہ اسے انسان بناتی ہے۔”
         ان تینوں عظیم شخصیات کی زندگیاں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ زبان، علم، اور کردار کے ذریعے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔اسی لیے اس ہفتے کو ہم "یومِ اردو و تعلیم ہفتہ" کے طور پر مناتے ہیں۔
        اس موقع پر اسکولوں میں مختلف سرگرمیاں جیسے تقریری مقابلے، کوئز، اردو شاعری کے پروگرام، ٹیپو سلطانؒ پر ڈرامہ، اور تعلیمی نمائشیں منعقد کی جاتی ہیں تاکہ بچے نہ صرف اپنی زبان سے محبت کریں بلکہ علم کی اہمیت کو بھی سمجھیں۔بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ علم ہی وہ طاقت ہے جو جہالت کے اندھیروں کو مٹا سکتی ہے۔اقبالؔ کے الفاظ میں۔۔۔
 "علم کی روشنی ہر دل میں روشن ہو،
یہی تعلیم کا مقصد اور اردو کا پیغام ہو۔"
           یومِ اردو و تعلیم ہفتہ منانا دراصل اپنی زبان، اپنے ہیروز، اور اپنی تعلیم سے محبت کا اظہار ہے۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اردو زبان کو فروغ دیں، علم کو عام کریں، اور اپنے طلبہ کے دلوں میں حب الوطنی، خودی، اور ۔۔۔ ۔اخلاقی اقدار کو زندہ رکھیں.

 




*تعلیمی پالیسی پر نیا تنازعہ: لڑکیوں کے مستقبل پر سوال*


*مہاراشٹر حکومت کا یک جنس اسکول ختم کرنے کا فیصلہ والدین و ماہرین کی تشویش کا باعث
*


خصوصی تجزیاتی رپورٹ: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں 
مہاراشٹر حکومت کی جانب سے ریاست کے تمام یک جنس (Single-Gender) اسکولوں کو بتدریج مخلوط (Co-Educational) اداروں میں ضم کرنے کے فیصلے نے ایک نئے مباحثے کو جنم دے دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے صنفی برابری اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا مگر کئی ماہرین اور والدین اس پالیسی کو لڑکیوں کے تعلیمی تسلسل اور تحفظ کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
7 اکتوبر 2025ء کو جاری کردہ حکومتی قرارداد (Government Resolution) کے مطابق آنے والے برسوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے علیحدہ اسکول ختم کر کے انہیں مشترکہ اداروں میں بدلا جائے گا۔ جہاں لڑکے لڑکیاں ایک ہی کلاس میں تعلیم حاصل کریں گی۔ اس فیصلے کے پیچھے حکومت کا مقصد “صنفی مساوات” کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔ تاہم ٹائمز آف انڈیا (27 اکتوبر 2025) کے مطابق مہاراشٹر میں اس وقت تقریباً 1,02,837 ایسے اسکول موجود ہیں جو صرف لڑکیوں کے لیے مخصوص ہیں جن میں تقریباً 3.54 لاکھ طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اسکول بند کر دیے گئے تو ہزاروں بچیاں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گی جس سے ڈراپ آؤٹ ریٹ میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکومتِ مہاراشٹر کی یہ پالیسی صرف ماہرین تعلیم ہی نہیں بلکہ کئی طبقات کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے بالخصوص ان والدین کے لیے جو روایت پسند یا دیہی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
بہت سے والدین کا ماننا ہے کہ ان کا اعتراض نظریاتی نہیں بلکہ حفاظتی اور ثقافتی نوعیت کا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے سماج میں جنسی ہیجان برپا کر رکھا ہے جس سے اسکولی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بھی محفوظ نہیں ہیں، اخلاقی بگاڑ کے علاوہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں اب بھی بیشتر اسکولوں میں علیحدہ بیت الخلاؤں کی کمی، خواتین اساتذہ کی عدم دستیابی، ٹرانسپورٹ کی عدم سہولیات اور سیکیورٹی کے ناقص انتظامات جیسے مسائل عام ہیں۔ ان حالات میں والدین کی بڑی تعداد اپنی بچیوں کو مخلوط اسکولوں میں بھیجنے سے گریز کرے گی جس کا نتیجہ ڈراپ آؤٹ ریٹ میں اضافے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر ریاست واقعی خواتین کی ترقی چاہتی ہے تو اسے آئینِ ہند کے آرٹیکل 15(3) کو مدنظر رکھنا چاہیے جو عورتوں اور بچوں کے لیے خصوصی اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ ان کے مطابق یک صنفی اسکول خواتین کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کا ذریعہ رہے ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ کرنا صنفی مساوات کے بجائے تعلیمی محرومی کو جنم دے سکتا ہے۔
محکمۂ تعلیم کے مطابق حکومت کا ارادہ کسی طبقے کو محروم کرنے کا نہیں بلکہ “تعلیم میں رکاوٹیں ختم کرنے” کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو جدید سہولیات، سیکیورٹی، اور خواتین اسٹاف سے آراستہ کر کے ماحول کو ایسا بنایا جائے گا کہ والدین بلا خوف اپنی بچیوں کو اسکول بھیج سکیں۔ جبکہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت کو یکدم فیصلے کے بجائے مرحلہ وار، اختیاری اور علاقائی حکمتِ عملی اپنانی چاہئے۔ جس کے لیے ممکنہ حل یہ ہو سکتے ہیں کہ جن اسکولوں میں سہولیات بہتر ہیں وہاں سے تجرباتی بنیاد پر مخلوط نظامِ تعلیم شروع کیا جائے۔ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں فی الحال یک جنس اسکول برقرار رکھے جائیں۔ والدین کے خدشات دور کرنے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے۔ اسکولوں میں خواتین اسٹاف اور سیکیورٹی گارڈز کی لازمی تعیناتی کی جائے۔
صنفی برابری کے خواب تبھی شرمندۂ تعبیر ہو سکتے ہیں جب ان کی بنیاد اعتماد، تحفظ اور شمولیت پر ہو۔ اگر والدین کو اپنی بچیوں کے تحفظ پر یقین نہیں تو محض اسکولوں کا انضمام برابری پیدا نہیں کر سکتا۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حساس فیصلے کو محض انتظامی حکم کے طور پر نہیں بلکہ سماجی اصلاحی منصوبہ سمجھ کر نافذ کرے۔ ایسا منصوبہ جو لڑکیوں کے تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اعتماد، عزت اور مستقبل کو بھی محفوظ بنائے۔
***
(بعض اعداد و معلومات The Times of India, Education Times, 27 Oct 2025 کی رپورٹ سے ماخوذ۔) 

-----------------------------------------------

 



رخصتی کے بعد


نتیجہء فکر:* رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں

*موبائل:* 9130142313 


_____*صبح* کا وقت تھا۔ صحن میں دھوپ نرم اور مٹی کی خوشبو گہری تھی۔ ماں آٹے میں گوندھے ہاتھوں سے آنسو پونچھ رہی تھی، اور باپ خاموشی سے چھت پر بنے مچان کے کونے میں رکھے پرانے صندوق کو دیکھ رہا تھا — وہی صندوق جس میں میرے بچپن کی چپل، ٹوٹی پنسل، اور اسکول کا پہلا انعام اب بھی محفوظ تھا۔
_____*آج* میں اس گھر سے رخصت ہو رہا تھا۔ نہیں، شادی کی نہیں — روزگار کی رخصتی تھی۔ وہ رخصتی جس میں بارات نہیں نکلتی، صرف خاموش آنکھیں اور رکتے ہوئے قدم ہوتے ہیں۔
_____*ماں* کے لبوں پر دعائیں تھیں مگر آنکھوں میں اندیشے۔ باپ کے چہرے پر فخر بھی تھا اور فاصلوں کا خوف بھی۔ میں نے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کی، مگر اندر کہیں کچھ ٹوٹ رہا تھا۔ گھر کے ہر کونے سے آواز آ رہی تھی، “یہیں رہ جا، شہر میں تجھے کون سمجھے گا؟”
_____*ٹرین* کے دروازے پر کھڑا ہوا تو گاؤں پیچھے چھوٹتا گیا — وہی برگد کا پیڑ، وہی مسجد کی اذان، وہی کنویں کی رسی، سب نظروں سے اوجھل ہونے لگے۔ جیسے دل کے ایک ایک ریشے کو کوئی کھینچ رہا ہو۔
_____*شہر* پہنچ کر زندگی کی دوڑ شروع ہوئی۔ نوکری ملی، کمائی ہونے لگی، مگر دل خالی رہا۔ کھانے میں ذائقہ نہیں، خوابوں میں سکون نہیں۔ فون پر ماں کی آواز سن کر آنکھیں نم ہو جاتیں، باپ کے “خیریت ہے بیٹا؟” کہنے میں وہ سکون ملتا جو پورے شہر میں کہیں نہیں تھا۔
_____*کبھی کبھی* رات کو کھڑکی کے پار چاند دیکھتا ہوں تو لگتا ہے یہی چاند ماں کے صحن میں بھی چمک رہا ہوگا۔ بس فرق اتنا ہے کہ وہاں چاندنی کے ساتھ دعائیں ہیں، اور یہاں تنہائی۔
_____*کبھی* سوچتا ہوں روزگار نے زندگی تو دی، مگر جینے کا سبب چھین لیا۔
اور ہر صبح جب اسکول کے راستے پر نکلتا ہوں، دل کہتا ہے:
*"کاش یہ سفر واپسی کا ہوتا…"*
***

 




 *وِکسِت




 بھارت بِلڈاتَھون 2025: نئی نسل کے طلبہ کی اختراعی پہچان

✍️ رپورٹ: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں 

موبائل: 9130142313 


وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند نے نیتی آیوگ کے "اٹل انوویشن مشن" کے اشتراک سے “وِکسِت بھارت بلڈاتھون 2025” کا آغاز کیا ہے۔ یہ ملک گیر تحریک اسکولی طلبہ میں اختراع، تخلیقی سوچ اور عملی تعلیم کو فروغ دینے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے۔ یہ بھارت کی اب تک کی سب سے بڑی طلبہ اختراعی مہم ہے جس میں ششم جماعت سے دوازدہم (بارہویں) جماعت تک کے طلبہ شریک ہو سکتے ہیں۔ یہ پروگرام حکومتِ ہند کے وکست بھارت @2047 کے وژن کی سمت ایک مضبوط قدم سمجھا جا رہا ہے۔

بھارت سرکار منسٹری آف ایجوکیشن کی ویب سائٹ کے مطابق بلڈاتھون کے تحت چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے 5 سے 7 طلبہ کا گروپ اپنے اساتذہ کی رہنمائی میں اپنی ٹیمیں بنا کر حقیقی زندگی کے مسائل کے حل کے لیے آئیڈیاز اور ماڈلز تیار کریں گے۔ ایک اسکول سے ایک سے زائد ٹیمیں رجسٹر کی جاسکتی ہیں۔ ماہرین کی قومی کمیٹی ان اندراجات کا جائزہ لے گی۔ جب کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کو انعامات، رہنمائی اور کارپوریٹ شراکت داری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔


*اس اختراعی مہم کے لیے چار قومی موضوعات*

اس مہم میں ششم سے دوازدہم تک کی جماعتوں کے طلبہ چار اہم موضوعات پر اپنی تخلیقی صلاحیتیں پیش کرسکتے ہیں جن میں پہلا موضوع "آتم نربھر بھارت" ہے جس کے تحت خود کفیل نظام اور حل تیار کرنا ہوگا۔ دوسرا موضوع "سودیشی" قرار دیا گیا ہے جس کے تحت مقامی نظریات اور اختراعات، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ جبکہ تیسرے عنوان کے تحت "ووکل فار لوکل" کے ذریعہ مقامی مصنوعات اور دستکاری کی حمایت کو شامل کیا گیا۔ اسی طرح چوتھے موضوع کا نام "سمردھی" دیا گیا ہے جس کے ذریعہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کے راستے تلاش کرنا شامل ہیں۔ یہ چاروں موضوعات دراصل اُس خود انحصار، اختراعی (تخلیقی) اور مضبوط ہندوستان کی بنیاد ہیں جس کا خواب مشن 2047 کے لیے دیکھا گیا ہے۔


*تعلیم سے آگے، تجربے کی دنیا تک*

منسڑی آف ایجوکیشن، حکومتِ ہند کی ویب سائٹ کے مطابق بلڈاتھون محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ سیکھنے اور مشق کرنے کا ایک عملی تجربہ ہے۔

اس کے ذریعے طلبہ قومی تعلیمی پالیسی 2020ء کے اصولوں کے مطابق عملی اور تجرباتی تعلیم حاصل کریں گے۔ یہ ان طلبہ کے اندر سوال پوچھنے، سوچنے، بنانے اور پیش کرنے کی عادت پیدا کرے گا۔

یہ مہم خاص طور پر قبائلی، پسماندہ اور دور دراز اضلاع کے اسکولوں کو بھی شامل کرتی ہے تاکہ ہر بچے کو اپنی ذہانت دکھانے کا برابر موقع مل سکے۔ مستقبل میں اختراع کا یہ سفر شہروں سے دیہات تک اور اسکولوں سے قوم کے مستقبل تک پھیلنے والا ہے۔ وِکست بھارت بلڈاتھون نامی اس مہم کا آغاز 23 ستمبر 2025ء سے کیا گیا ہے۔ اسکولوں کو آن لائن رجسٹریشن کے لیے 23 ستمبر تا 6 اکتوبر تک کا موقع دیا گیا تھا جسے ضرورت کے مطابق آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ جبکہ طلبہ کے لیے تیاری کی سرگرمیوں کی تکمیل کے لیے 6 تا 12 اکتوبر 2025ء تک کا وقت دیا گیا ہے۔ 13 اکتوبر ملک گیر لائیو بلڈاتھون، 14 تا 31 اکتوبر اندراجات جمع کرانا، نومبر میں ملک بھر سے جمع ہونے والے طلبہ کے پراجیکٹس کی جانچ کرنا اور دسمبر میں فاتحین کا ناموں کا اعلان کرنا ظاہر کیا گیا ہے۔

“وکست بھارت بلڈاتھون 2025” دراصل بھارت سرکار کی نئی ایجوکیشن پالیسی 2020ء کے تحت اس بات کا اعلان ہے کہ ہندوستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔

یہی نوجوان ہی وہ تخلیقی ذہن ہیں جو سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے ملک کو ترقی یافتہ قوم بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس لیے یہ صرف ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک قومی تحریک ہے جو طلبہ کو خواب دیکھنے، سوچنے، اور بے خوف اختراع کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ وزارتِ تعلیم نے تمام اسکولوں، اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ پورے جوش و جذبے کے ساتھ اس میں حصہ لیں اور ہندوستان کی اختراعی کہانی میں اپنا نام درج کرائیں۔ 

***

 







 *پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم: محبت و عقیدت کا عظیم الشان تہوار*


از:رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں 

موبائل: 9130142313 


عیدوں کی عید، عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ مقدس دن ہے جب ہمارے پیارے نبی، سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا یہ یادگار دن پندرہ سوّاں 12/ربیع الاول شریف ہوگا۔امسال پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ایک عظیم الشان موقع ہے جو امت مسلمہ کے لیے خوشیوں، برکتوں اور ایمان کی تجدید کا باعث ہے۔ یہ جشن اور تہوار صرف ایک دن کا جشن نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی سفر ہے جو ہمیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔

اس سال پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلادُ النّبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کے استقبال میں امت مسلمہ اپنی محبت و عقیدت کے رنگارنگ انداز سے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے رشتے کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔ وہ لوگ جو اس عظیم موقع پر اپنی خوشیوں کا اظہار کر رہے ہیں، وہ یقیناً سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے انعام و اکرام کے مستحق ہیں۔ ان کی محنت، عقیدت اور محبتِ رسول کا جذبہ قابلِ تحسین ہے، کیونکہ خوشی کا یہ سب کچھ اظہار صرف اور صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آپ کے ذکر خیر کو ذہنوں میں پیوست کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔


*لنگرِ رسول: محبت کی تقسیم*


اس مبارک موقع پر وہ افراد اور مساجد و مدارس کے ذمہ داران خصوصی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں جو رضا اکیڈمی کے اعلان پر گذشتہ سال سے ہر پیر کو لنگرِ رسول تقسیم کر رہے ہیں، اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ صرف اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ اطعام کو بھی زندہ کر رہے ہیں۔ لنگرِ رسول کی یہ روایت جو سال بھر کے 52 ہفتے جاری رہی، ضرورت مندوں کے لیے رزق اور برکت کا ذریعہ بنتی رہی ہے۔ یہ عمل نہ صرف معاشرے میں خیرات و صدقات کے جذبے کو فروغ دیتا ہے بلکہ امت کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ ایسے لوگ جنہوں نے اپنے مال و دولت کو راہِ خدا میں خرچ کیا ہے، یقیناً رب تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے مستحق ہیں۔ ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس عظیم الشان جشن اور "عیدوں کی عید" کی خوشیوں میں بھوکے اور ضرورت مندوں کو شامل کرکے انہیں اس کا حصہ بناتے رہے ہیں۔


*نعتیہ مشاعرے: سرکار کی مدحت کا عظیم الشان سلسلہ*


سالِ گذشتہ سے ہر ماہ نعتیہ مشاعروں کا اہتمام کرنے والے منتظمین، سامعین، شاعر اور نعت خواں افراد بھی خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ یہ نعتیہ محافل دلوں کے سکون اور روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہیں۔ نعت خوانی اور میلاد کی محافل محض الفاظ کی ترسیل کا مجموعہ نہیں بلکہ دل سے دل تک پہنچنے والی وہ دعا ہے جو ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑتی ہے، یہ محافل ہر عمر کے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہیں، جہاں وہ اپنے نبی اور محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت و عقیدت کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ ہم ان تمام شعراء، نعت خوانوں اور منتظمین و سامعین کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس خوبصورت روایت کو جاری رکھیں اور ہر دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا چراغ روشن کرتے رہیں۔


*سجاوٹ، جلوس اور جلسے: خوشیوں کا رنگا رنگ اظہار*


پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال میں وہ افراد جو گلیوں، بازاروں، گھروں اور مساجد و مدارس کو سجا رہے ہیں، وہ بھی اس عظیم تہوار "عیدوں کی عید" کی رونق بڑھا رہے ہیں۔ روشنیوں، قمقموں، جھنڈیوں اور پرچمِ رسالت سے سجے یہ مناظر ہر دیکھنے والے کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو تازہ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو جلوس اور جلسوں کا اہتمام کر رہے ہیں، وہ امتِ مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اتحاد و محبت کا پیغام دے رہے ہیں۔ یہ جلوس اور جلسے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعتوں اور نعروں اور ذکرِ خیر کی گونج ہوتی ہے، نہ صرف ایمان کو تازہ کرتے ہیں بلکہ غیروں کو بھی سرکار کی سیرت طیبہ سے متعارف کرانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ہم ان سب کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس جذبے کو جاری رکھیں اور ہر ممکن طریقے سے اس عظیم جشن کو یادگار بنائیں۔


*عیدِ میلادُ النّبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کا عظیم پیغام*

امسال منعقد ہونے والا پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ یہ تہوار ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ان کی سیرت طیبہ کے مطابق ڈھالیں، محبت، اخلاص اور ایثار کے جذبے کو اپنائیں، اور معاشرے میں خیر و برکت پھیلائیں۔ وہ تمام افراد جو اس جشن کو منانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، وہ نہ صرف اپنے ایمان کو مضبوط کر رہے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک عظیم مثال قائم کر رہے ہیں۔

آئیے، ہم سب مل کر اس پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عظیم الشان تہوار کے طور پر اس طرح منائیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اُتاریں، اُن پر عمل آوری کا اپنے آپ سے عہد کریں، سنت و سیرتِ رسول کو اپنائیں، برائیوں سے دور رہنے کا عہد کریں، نیکیوں کو عام کریں۔ اپنے دلوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے منور کریں، ان کی سنتوں پر عمل کریں، اور اس "عیدوں کی عید" کے اس عظیم الشان موقع پر انعام و اکرام کے مستحق بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مبارک تہوار کی برکتوں سے مالا مال کرے اور ہمیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین!

 


 


 




ریاستی گیت کی ادبی و ثقافتی اہمیت، تاریخ کے آئینے میں 


✍️رضوی سلیم شہزاد مالیگاؤں 

(9130142313) 


سن 2023 میں مہاراشٹر حکومت نے سرکاری طور پر حکم جاری کیا تھا کہ ریاست کی تمام زبانوں کی تمام نجی و سرکاری اسکولوں میں روزانہ اسکول اسمبلی میں پیش درس کے دوران ریاستی گیت "جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا" اس گیت کو گایا جائے۔ ایک سال بعد دوبارہ حکومت مہاراشٹر ڈیپارٹمنٹ آف اسکول ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس نے اپنے سرکلر نمبر: سنکرنا-2024/P.No.127/SD-4 تاریخ: 15 مارچ 2024ء کو اسکولوں میں اس راجیہ گیت کو پڑھنا لازمی قرار دیا اور سختی کے ساتھ اس پر عمل آوری کے لئے افسران کو پابند کیا۔ 


ریاستی حکومت کے ان حکمناموں کی روشنی میں نئے تعلیمی سال 2025-26 کیلئے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن، ٹیچنگ ڈیپارٹمنٹ آفس کے ایڈمنسٹریٹیو آفیسر شری چندر کانت پاٹل نے 9/جولائی کے اپنے ایک حکمِ گشتی جاوک نمبر ایم.این.پی/محکمہ تعلیم/ استھاپنا/ 220/ 2025ء کے تحت شہر کی تمام میڈیم کی تمام سرکاری و نجی پرائمری و سیکنڈری اسکولوں میں اس گیت کو گانا لازمی قرار دیا ہے۔ اے او شری چندر کانت پاٹل کے اس حکمِ گشتی میں مذکورہ بالا حکومتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ "آزادی کے امرت مہوتسو" پر ریاست کے نوجوانوں کو متاثر کرنے والا ریاستی گیت "جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا" ریاست کے تمام میڈیم اور تمام انتظامی سرکاری و نجی اسکولوں میں روزانہ سیشن کے آغاز سے پہلے قومی ترانہ، تلاوت، دعا وغیرہ کے ساتھ "جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا" گایا جائے گا۔ موصوف نے اسکول انتظامیہ کمیٹی سے امید کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسکولوں میں یومیہ سیشن شروع ہونے سے پہلے قومی ترانہ، تلاوت، دعا، عہد وغیرہ کے ساتھ ریاستی ترانہ "جئے جئے مہاراشٹرا، گرجا مہاراشٹرا ماجا" بلند آواز سے گایا جائے۔


اپنے حکمِ گشتی کے آخری میں اے او موصوف نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ حکومتی حکم پر سختی سے عمل کیا جانا ضروری ہے۔ اسکولوں میں دورانِ وزٹ اگر پایا گیا کہ کوئی اسکول مذکورہ حکم پر عمل نہیں کررہا ہے تو متعلقہ اسکول کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے حکومت کو تجویز روانہ کی جائے گی۔


اس گیت کو نوجوان نسل اور طلبہ تک پہنچانے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نوجوان نسل میں مہاراشٹر کی تاریخ، بہادری، ثقافت، محنت اور خودداری کا شعور بیدار کرنا ہی اس گیت کا پیغام ہے جس میں مہاراشٹر کے عظیم مجاہد شیواجی مہاراج کی میراث کا ذکر کرتے ہوئے کسانوں اور مزدوروں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔

-----------------------------------------------



*🏛️ مہاراشٹر کے ریاستی گیت کا تاریخی، ادبی اور ثقافتی پس منظر*



یہ گیت پہلی بار 1960 میں مہاراشٹر ریاست کے قیام کے بعد گایا گیا، جب بمبئی اسٹیٹ سے الگ ہوکر مہاراشٹر کو ایک علاحدہ ریاست کا درجہ دیا گیا۔ اس گیت کو مہاراشٹر کے مشہور قومی و عوامی شاعر راجہ بڈھے نے لکھا تھا، جو مراٹھی زبان کے ملک گیر شہرت یافتہ ادیب اور محب وطن شاعر تھے۔


*مہاراشٹر کے ریاستی گیت کی ادبی خصوصیات:*

یہ گیت مارشل انداز میں لکھا گیا ہے، جس میں ولولہ، فخر، جذبہء حبّ الوطنی، اور ریاستی غیرت نمایاں ہے۔اس گیت میں شیواجی مہاراج، محنت کش عوام، اور ان کی دلیری جیسے عناصر کو مہاراشٹر کی شناخت قرار دیا گیا ہے۔ تشبیہات اور استعارے خوبصورتی سے استعمال ہوئے ہیں جیسے "آسمان کی سلطنت"، "فولادی من" اور "گرمی میں جلنا" وغیرہ

-----------------------------------------------


*🌺اردو رسم الخط میں مہاراشٹر راجیہ گیت🌺*


جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا

جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا۔۔


بِھیتی نا آمہا تُجھی مُڑی ہی، گڑگڑناریا نَبھا 

اسَماناچیا سُلتانی لا، جباب دیتی جِبھا

سَہیادری چیا سِینھ گَرجتو، شِیو شَنبھو راجا

دَری دری تُن ناد گُنجلا، مہاراشٹر ماجھا

جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا۔۔

جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا۔۔


کاڑیا چھاتی وَری کورلی، ابھیماناچی لِینی 

پَولادی من گَٹے کِھیڑتی، کھیل جیو گِھینی

دارِدرا چیا اُنهات شِجلا، نِڈھڑا چیا گھامانے بِھجلا

دیش گَوروا ساٹھی جھجلا، دِلّی چے ہی تخت راکھیتو، مہاراشٹر ماجھا

جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا، 

جئے جئے مہاراشٹر ماجھا۔۔

-----------------------------------------------


*🌍🌺مہاراشٹر راجیہ گیت کا اردو ترجمہ🌺*


مہاراشٹر کی جے ہو، مہاراشٹر گونجے، للکارے

مہاراشٹر کی جے ہو، مہاراشٹر گونجے، للکارے

ہم تجھ سے نہیں ڈرتے، اے گرجنے والے آسمان۔

آسمان کی سلطانی کے لیے ہماری زبان للکار رکھتی ہے۔ (مُراد ہم ہواؤں پر ہمارا راج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔) 


سہیادری کا شیر دھاڑتا ہے، شیو شمبھو بادشاہ (مراد شیواجی مہاراج) 


پہاڑوں کے دامن میں چاروں طرف مہاراشٹر کی آواز گونج رہی ہے۔

ہم نے (پہاڑوں کے سیاہ سینے پر) فخر و غرور کا غار کندہ کیا ہے۔

ہماری فولادی کلائیاں جان لیوا کھیل کھیلتی ہیں۔

ہم غربت کی دھوپ میں (تپ کر) کُندن بنے ہیں۔

ہم شدید محنت کے پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں۔ (مراد محنت کش ہیں۔) 


-----------------------------------------------


*🌺مہاراشٹر کے ریاستی گیت کی تشریح🌺*


*پہلے بند کی تشریح:*

ہم ان لوگوں سے نہیں ڈرتے جو ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور ہمارے خلاف بولتے ہیں۔ گرجتے بادل ہمیں ڈرا نہیں سکتے۔ ان کا جواب دینے کے لیے ہماری زبانیں کافی ہیں۔ ایسی ہی تعلیم ہمیں چھترپتی شیواجی نے دی ہے، سہادریوں کے شیر کی تعلیمات کے نعرے گھر گھر جا رہے ہیں۔ یہ مہاراشٹر میرا ہے۔


*دوسرے بند کی تشریح:*

مہاراشٹر کے لوگ بہادر ہیں۔ ان کے سیاہ سینے پر مہاراشٹر کا فخر نقش ہے۔ ان کی کلائیاں فولاد کی بنی ہوئی ہیں۔ اس لیے وہ اپنی جانوں سے کھیلنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ مہاراشٹر کے لوگ غربت کی دھوپ میں تپتے ہیں، محنت کرکے پسینہ بہاتے ہیں۔ نسل در نسل لوگوں نے ملک کی شان کے لیے محنت کی ہے۔ مہاراشٹر ایسا ہے کہ دہلی کے تخت کی حفاظت بھی کر سکتا ہے۔

-----------------------------------------------

 


پیشۂ درس و تدریس: اساتذہ، سماج اور انتظامیہ کے ٹیم ورک سے تربیتی عمل مکمل ہوتا ہے۔

(روزنامہ انقلاب ممبئی کے 13/جولائی 2025ء کے اداریہ سے متاثر ہوکر لکھی گئی تحریر)

تحریر: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں
9130142313

*تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد* اور اس کے مستقبل کا ضامن ہوتی ہے، اور اس تعلیمی عمل کا سب سے اہم کردار معلم یعنی استاذ ادا کرتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب استاد کو روحانی والد، سماجی رہنما اور علم و اخلاق کا مینار سمجھا جاتا تھا۔ آج اگر معاشرے میں بگاڑ، بد اخلاقی، جہالت، بے راہ روی اور خودکشی جیسی وبا عام ہورہی ہے تو اس کا ایک بڑا سبب خود نظامِ تعلیم میں پائی جانے والی کمزوریاں، اساتذہ کی ذمہ داریوں سے غفلت، سماج کی اساتذہ کرام سے اُکتاہٹ و بے رغبتی اور انتظامیہ کی جانب سے اساتذہ پر لادی جانے والی غیر تدریسی سرگرمیاں بھی ہیں۔

*اساتذہ کا پیشہ محض روزگار یا ملازمت نہیں* بلکہ یہ ایک مقدس فریضہ، نبوی وراثت اور انسانی تربیت کا منصب ہے۔ استاد محض کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ وہ ایک رہبر، مشیر، کردار ساز اور قوم کا معمار ہوتا ہے۔ آج کے دور میں جب دنیا معاشی و سائنسی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے تعلیمی ادارے اور اساتذہ کہیں نہ کہیں اپنی اصل روح سے دور ہوتے جارہے ہیں، جس سے سماج میں ان کا مرتبہ کم ہوتا جارہا ہے۔ ایک استاد کے لیے سب سے ضروری ہوتا ہے اپنے کردار و اخلاق کو مجروح ہونے سے بچانا مگر افسوس! کم کم ہی سہی مگر بہت سے اساتذہ اپنے کردار و اخلاق پر حرف آنے کی بالکل بھی پرواہ نہیں کرتے، کسی شاعر نے کہا ہے کہ

*اپنے کردار کو موسم سے بچائے رکھنا*
*لَوٹ کر پھول میں واپس نہیں آتی خوشبو*

13/جولائی 2025ء اتوار کے روزنامہ انقلاب ممبئی کے حالیہ اداریہ میں بجا طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ پیشۂ تدریس آج چمک دمک کھو چکا ہے! یعنی اس مقدس پیشے کی شان، تاثیر اور اخلاقی اثر ختم ہوتا جارہا ہے۔ نہ اساتذہ کو اپنے مقام کا احساس رہا ہے، نہ طلبہ میں استاد کے لیے ادب و احترام کی وہ چمک باقی رہی ہے جو کبھی مشرقی تہذیب کا خاصہ تھی۔

*بدقسمتی سے آج ہمارے ملک میں اساتذہ کو اصل تدریسی کاموں کے بجائے* غیر تدریسی اور غیر تعلیمی سرگرمیوں میں الجھا دیا گیا ہے۔الیکشن ڈیوٹی، مردم شماری، اسکالرشپ ڈیٹا اندراج، ووٹر لسٹ، آنگن واڑی سروے، اور طرح طرح کی سرکاری اسکیموں کی ذمہ داریاں اساتذہ پر لاد دی گئی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنا اصل کام، یعنی بچوں کی تعلیم و تربیت، دلجمعی سے نہیں کر پاتا۔ یہ ایک افسوسناک اور خطرناک رجحان ہے، جو نہ صرف تعلیمی معیار کو گرا رہا ہے بلکہ اساتذہ کو احساسِ کمتری اور بے بسی میں بھی مبتلا کر رہا ہے۔
اسی طرح سماج اور انتظامیہ کی جانب سے بھی استاد کے وقار کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ایک وقت تھا جب گاؤں کے بزرگ بھی استاد کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے، اور طلبہ ان کے جوتے سیدھے کرنے کو سعادت سمجھتے تھے۔ مگر آج اکثر والدین اساتذہ پر انگلی اٹھاتے ہیں، سوشل میڈیا پر اُن کی بے عزتی عام ہوگئی ہے اور اسکول انتظامیہ بھی کئی بار اساتذہ کو صرف ایک کلرک یا درجہ چہارم ملازم کی نظر سے دیکھتی ہے اور ان کے ساتھ اسی انداز کا برتاؤ بھی کرتی ہے۔

*اساتذہ کی اصل ذمہ داری صرف نصاب مکمل کرانا نہیں* بلکہ طلبہ کی علمی، اخلاقی، جذباتی، نفسیاتی اور معاشرتی تربیت کرنا ہے۔ ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ طلبہ کی شخصیت پر دیرپا اثر رکھتے ہیں۔ اگر استاد خود وقت کا پابند، دیانتدار، مہذب اور مثالی نہیں تو طلبہ میں ان صفات کی امید رکھنا بے کار ہے۔
گستاخی معاف! موجودہ دور میں کئی اساتذہ محض تنخواہ کے عوض کام کرنے لگے ہیں، گویا وہ پیشۂ درس و تدریس کو عبادت نہیں بلکہ ایک تجارتی معاملہ سمجھتے ہیں۔ اس کا بھی نتیجہ ہے کہ کئی اسکولوں میں تعلیم صرف کاروبار بن کر رہ گئی ہے۔ تعلیم کا مقصد محض ڈگریاں بانٹنا نہیں، بلکہ انسان سازی اور کردار سازی ہونا چاہیے۔

*ضرورت اس بات کی ہے کہ* اساتذہ کو دوبارہ ان کے مقدس مقام کا شعور دیا جائے۔ تربیتی ورکشاپس، اخلاقی تربیت، اور تعلیمی فلسفے پر مبنی نشستیں وقت کی اہم ضرورت ہیں اور یہ کام سرکاری یا انتظامی سطح پر نہیں بلکہ اساتذہ کی انجمنوں اور یونین کے ذریعہ کیا جانا چاہیے تاکہ ان میں خود احتسابی کا جذبہ پروان چڑھے اس لئے کہ بذاتِ خود اپنی اصلاح زیادہ موثر اور مستقل ہوتی ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت و تعلیمی اداروں کو بھی اساتذہ کی معاشی، سماجی اور تعلیمی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے، تاکہ وہ بے فکری سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

*اساتذہ اگر اپنی ذمہ داریاں پہچان لیں* اور پوری دیانت، لگن اور اخلاص سے طلبہ کی تربیت کریں، تو یقیناً ہماری نئی نسل نہ صرف علم سے آراستہ ہوگی بلکہ کردار کی پختگی، حب الوطنی، اور انسانیت کا پیکر بنے گی۔ دعا ہے کہ مولی تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب علیہ السلام کے صدقے ہمارے اساتذہ کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے، نبھانے اور نسلِ نو کی بہتر رہنمائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ کیونکہ ایک اچھا استاد نہ صرف ایک طالبعلم کو بلکہ پوری نسل کو بدل سکتا ہے۔
***


 
Design by Wordpress Theme | Bloggerized by Free Blogger Templates