از قلم
عظمیٰ ناز تجمل بیگ
💪خود اعتماد خاتون بنیں🧕
غور وفکر کی بات ہے کہ ہمیں (خواتین)کو کمزور رکھنے میں دنیا کو فائدہ ہے کیونکہ جیسے ہی ہم ذہنی طور پر مظبوط بن گئیں ہم خود بخود خود اعتماد بن جاءیگے ۔لوگ ہمیں قابو میں کرنا بند کردینگے اور عزت دینا شروع کردینگے۔سنو ہمیں کسی سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے نہ کسی مرد سے نہ کسی رشتے سے نہ دنیا کی بکواس ایکسییپٹیشن سے ہمارا اصل دشمن ہمارا دماغ ہےجب ہمارا دماغ کمزور ہو تا ہے تو دنیا ہمیں قابو میں کرنے کی کوششیں کرتیں ہیں اور جب دماغ مضبوط ہوتا ہے تو دنیا ہمیں چھو بھی نہیں سکتی اور آج ہم ایسا ہی مضبوط ذہن ترتیب دینگے سب سے پہلا قدم
کوءی بہانہ نہیں صرف حقیقت پسندی ۔
اگر ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر بکھر جاتے ہیں لوگوں کی باتوں کو دل پر لیلیتے ہیں تو ایک طنز ،ایک نظر انداز کرنے والی نظر کچھ جملےاور ہمارا پورا دن برباد کرتے ہیں سنلیں یہ دنیا ہمیں کچرا سمجھ کر فٹ پاتھ پر پھینک دیںگی کیونکہ دنیا مضبوط عورت سے ڈرتی ہے اور کمزور عورتوں کو قابو میں کرتی ہیں۔آج خود سے وعدہ کرو کہ میں کمزور نہیں مضبوط بنوں گی اپنے دماغ کو مضبوط بنانا میرا مقصد ہے۔آج ہم ٥ پانچ ایسے طریقے سیکھے گے جو خواتین کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہونگے انشااللہ ۔
١.ہم اپنی پہچان خود بناے۔ ہمیں اپنا آپ صابت کرنے کےلئے کسی اور کے سہارے کی ضرورت نہیں بہترین سہارا،، اللہ تعالی ،،کا ہے دنیا کے ساتھ ساتھ دین کی رسی بہی مضبوطی سے پکڑے،، انشااللہ وہ رب العزت،، ہمیں تھامے رکھیں گا۔انسان کی اصل قوت اسکے اندر ہوتی ہے ،ہمارے مضبوط فیصلے میں ،ہماری پسند میں ،ہمارے انتخابات میں
ہمارے مضبوط ہونے کا پتہ لگتا ہے' ذرا غور کیجئے ایک ایسی خاتون جو ذہنی سطح پر مضبوط ہو۔ نا وہ کسی کو متاثر کرنا چاہتی ہےنا ہی خود کو اچھا ثابت کرنا چاہتی ہے نہ بنا وجہ بولتی ہے اسکی خود اعتمادی اسکی پہچان بن جاتی ہے ۔اور اسکی پرزینٹ ہی ایک اسٹیٹمینٹ بن جاتی ہے اور سب سے دلچسپ بات ایک خاتون جب اپنی پہچان خود بناتی ہے تو لوگ اسے سے ڈرتے نہیں بلکہ اسکی عزت کرتے ہیں'
کیونکہ جو انسان خود کے بارے میں صاف ہوتا ہے اسے پریشان کرنا ،چالاکی کرنا ،یا قابو میں رکھنا آسان نہیں ہوتا یہی وجہ ہےکہ ایسی خواتین بہت خاص ہوتی ہے اور خاص اشیاء کی ہمیشہ قدر کی جاتی ہے ایک بات ہمشہ یاد رکھو زندگی میں کو ئی بہی موڑ آے کوی بہی شخص آے یا جائے کوی بہی رشتہ کمزور یا مضبوط ہو سب سے پہلے ہمیں خود کا انتخاب کرنا ہے کیونکہ اگر ہم نے خود کو کھو دیا تو دنیا ہمارے لیۓ بے معنی ہے اپنے آپ سے کہتے رہو کہ میری خود اعتمادی میری پہچان ہے اور مجھے اپنی ذات پر فخر ہے۔
٢.کم ذہن لوگوں کو خود پر حاوی نہ ہونے دے۔
سچائی ہے کہ اکثر زندگی میں زیادہ نقصان بڑے طوفانوں سے نہیں چھوٹے لوگوں کی چھوٹی باتوں نے کیا ہے ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا اور آہستہ آہستہ انکی کم ذہنیت ہمارے ذہنی قوت ہماری خوشحالی اور ہماری صلاحیتوں کو نگل لیتی ہے جو انسان خود کچھ بہتر نہیں کرپاتے اسلیے دوسروں کو کمتر بتا کر مطمئن ہو جاتےہیں ۔ خبر ہے ہماری سب سے بڑی کمزروی کیا ہے؟ ہم ہر کس کی بات دل پر حاوی کرلیتے ھیں ایک چھوٹا سا طنزیہ جملہ ہمیں گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں تک پریشان کر سکتا ہے کسی نے جسمانی طور پر برا بول دیا کسی نے طرز زندگی پر طنز کردیا کسی نے ہماری ذاتی رشتوں ناطوں کو جانچا اور ہم بیوقوفوں جیسے گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں مہینوں تک وہ ہی دہراتے ہیں جیسے کوی ضروری اشتھار ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بارے میں تزات بولنے والے ٩٠/افراد یا تو آپ سے بعض رکھتے ہیں یا وہ خود ذہنی طور پر بکھرے پڑے ہیں یا خود سے ہی ناخوش ہیں وہ خود اپنی زندگی سوار نہیں پاتے اسلیے وہ دوسروں کی خود اعتمادی کو پست کرکے اپنی انا کو وقتیکہ تسکین پہنچاتے ہیں اور ہم ایسے کمزرفو کی باتوں کو اپنے اندر زہر کی طرح پالتے ہیں اور یہ ہی سب سے بڑا خود اعتمادی کو پست کرنے والا خسارا ہے سوچے کسی کی کمزرفی آپ کی پورے دن کی قوت کو پست کردے تو آپ کا کتنا وقت ضایع ہو گیا کیا یہ ہمارے خود کے ساتھ نا انصافی نہیں کیا ہمارے جذبات اتنے سستے ہیں کہ ہر کوی ہماری دل آزاری کردے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے لیے کونسا جملہ معنی رکھتاہے کچھ آوازیں صرف نظر انداز کرنے کیلئے ہوتی ہے کسی دانشور نے کہاکہ ،،کتوں کے ساتھ بھوکا نہیں جاتا ،،ذہنی طور پر مظبوط عورت وہی ہوتی ہے جو فیصلہ لیتی ہے جو اپنے جذبات اور احساسات کو قابو میں رکھنا جانتیں ہے وہ سمجھتی ہے کہ ردعمل دینا بھی ایک سہولت فراہم کرنا ہے اور یہ سہولت ہر کسی کو مہیا نہیں کرای جاتی وہ جانتی ہے کہ خاموشی بھی ایک جواب ہے ایک بات ہمیشہ یاد رکھے ہمارا دماغ ہمارے گھر کا ماسٹر بیڈروم ہے ہر کوی اسمیں رہنے لایق نہیں ہوتا جو لوگ ہمیں نیچا گرانے کی کوشش کریں انہیں ہمیں اپنے ذہن سے نکالنا ہوگا۔
٣.مشکل وقت میں خاموشی اختیار کرنا ۔
غور طلب بات ہے کہ ہماری اصل صلاحیت جب نہیں دکھائی دیتی جب حالات بہتر ہو بلکہ جب حالات ناساز گار ہو اور اسی وقت ہم اطمینان سے فیصلے لے جیسے ،،کسی کی ملازمت چھوٹ گئی ،،کسی کی شادی ٹوٹ گئی ،،کسی کے کاروبار میں نقصان ہوتاہے ایسی بی شمار نقصان ہر کسی کی زندگی میں الگ الگ صورت میں ہوتےہے فرق اتنا ہے کہ کوی اپنا آپ سمیٹ لیتا ہے تو کوی ٹوٹکر بکھر جاتا ہے خاموشی کمزوری نہیں اپنے آپ میں ایک طاقت ہے فلسفہ ہے کہ angry mind looses calm mind win. ہم سوچتے ہیں کہ ردعمل دینا طاقت ہے غلط ردعمل ہمیں کمزور بناتا ہے جب ہم جذبات میں آکر فیصلے لیتے ہیں تو اکثر ہم ہار جاتے ہیں ردعمل سے پہلے سوچو سمجھو عمل کرو ۔
٤.لوگوکی خوشامتیں بند کردیں ۔کڑوا ہے مگر سچ ہے کہ ہمارے زندگی کا بیشتر بیش قیمت حصہ لوگوں کو خوش کرنے میں گزر جاتا ہے،،فلاں کیا سوچے گا ،فلاں ناراض تو نہیں ہوجاے گا،فلاں میری میرے ماں باپ کی تربیت پر انگلی تو نہیں اٹھائے گا یہ سوال ہمارے زندگی کے جیلر ہے جو ہمیں جیل کی طرح جکڑے ہوے ہیں ایسا جیسے ہماری ذندگی کسی اور کے کندھوں پر ٹکی ہو۔اپنے آپ سے کہے ،،بس اب بس،،کیونکہ اب وقت ہے حقیقت پسند بننے کا ہم دنیا کے اصولوں پر چلکر کبھی بھی مضبوط نہیں بن سکتے مضبوط بننے کیلیے حوصلا چاہیے اور حوصلا انکے پاس ہرگز نہیں ہوتا جو دوسروں کے اصولوں پر مبنی زندگی گذارتے ہیں لوگوں کی آپ سے امیدیں انکی غرض نکلنے تک ہوتی ہیں ہر عورت کو یہ پتہ ہونا چاہیئے کہ ہم ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے اور اسکی کوی ضرورت بھی نہیں کیونکہ لوگوں کو پریشانی تم سے نہیں تمہاری ترقی سے ہوتی ہے تم پرانے کپڑے پہنو ایک وقت کھانا کھاؤ کوی نہیں پوچھے گا جہاں آپ اچھی زندگی جینا شروع کرو مفت کے مشورے شروع۔حاصل مطلب یہ کہ ہم خود کو کتنا بھی بدل دیں لوگ آپ میں کو ئی نا کوی برائی اپنے مطلب کی ڈھونڈ ہی لینگے انہیں ہماری چپ بھی کھٹکے گی اور آواز بھی اسلیے اپنے اصول بنائے جسطرح آپ کو ہاں بولنا آتا ہے اسطرح نا بولنا بھی سیکھے لوگ اگر کہے کہ تم بدل گئے ہو تو خود اعتمادی سے کہے ہاں اب میں خود کے اور خود سے جڑے مخلص رشتوں کے لئے جیتی ہوں اسلیے لوگوں کی خوشامد یں بند کردیں لوگ خود بخود آپکی عزت کرینگے عزت اسی کو ملتی ہے جو خود کی عزت دینا جانتا ہو۔
٥.اپنی اصل طاقت صلاحیتوں کو ابھار و
یہ وہ آخری نقطہ نظر ہے جو صرف پڑھنا نہیں جینا ہے
کیونکہ یہ وہ طاقت ہے جو ہمارے اندر پہلے سے موجود ہے ہم معاشرہ ،لوگ،رشتےکے ڈر نے اسے ذہن کے کسی کونے میں دفن کر دیا ہے یہ طاقت ہے خود اعتمادی خود داری ہمیں کسی غیر کی منظوری مشورے کی ضرورت نہیں ہے ہماری اصلی طاقت جب شروع ہوتی ہے جب ہم فیصلہ لیتے ہیں کہ اب سے ہم ہماری ذندگی خود کے اصولوں پر جیے گے کسی اور کے اشاروں پر ناچنے سے بہتر ہے اپنا آپ سوارے یقین مانیے یہی وہ وقت ہے جب ہم پرفیکٹ ہو جاءے گےہماری اصلی طاقت خود کو پہچاننا ہے سنو کہ ہمیں دنیا بدلنے کی ضرورت نہیں لوگوں کو بدلنے کی ضرورت نہیں بس ایک فیصلہ بدل دیں کہ آج کے بعد ان لوگوں کے قریب بھی نہیں جانا جنہوں نے آپ کو غلط قرار دیا سازشیں کیں اور کر رہے ہیں سب کو برا خواب خیال کرتے ہوۓ اپنے مقدمہ کا جج اللہ رب العزت کو بناے اور اپنی زندگی کو پر سکون گزارتے ہوے اسکے فیصلے کا انتظار کرے اللہ رب العزت ہم سبکا ہامی و ناصر ہو اللہ حافظ ۔



Hamid Iqbal
























