Creations
Replace these every slider sentences with your featured post descriptions.Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha - Premiumbloggertemplates.com.
Replace these every slider sentences with your featured post descriptions.Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha - Premiumbloggertemplates.com.
Replace these every slider sentences with your featured post descriptions.Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha - Premiumbloggertemplates.com.
Hamid Iqbal
Hamid Iqbal
Hamid Iqbal
تحریر: نکہت انجم ناظم الدین
گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی اور ضلع امراوتی کی گرمی ناقابل برداشت معلوم ہوتے ہی برادر عزیز شاہنواز فیصل نے سب کو راضی کرلیا کہ کچھ چھٹیاں کشمیر میں گزاری جائیں۔ پلاننگ ہوئی، بکنگ ہوئی اور نصف مئی سے دھوم سے کشمیر جانے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ ۱ جون کو وہ دن آپہنچا کہ جب ہمیں کشمیر کے لیے نکلنا تھا۔ سچ ہی ہے قدرت جب اپنے حسن کے خزانے لٹاتی ہے تو کشمیر جیسی وادی وجود میں آتی ہے۔ برف پوش پہاڑ، سرسبز و شاداب میدان، شفاف جھیلیں اور رواں دریا مل کر ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ہمارا یہ سفرخوشیوں، حیرتوں اور ناقابلِ فراموش یادوں کا ایک حسین باب ثابت ہوا۔ ۱جون کی شام ہم نے اپنے سفر کا آغاز ناگپور سے کیا۔ ناگپور سے دہلی اور پھر دہلی سے سری نگر تک فضائی سفر طے کیا۔ میرے بچوں کے لیے یہ زندگی کا پہلا فضائی سفر تھا، اس لیے ان کی خوشی دیدنی تھی۔ بادلوں کے درمیان اڑتے ہوئے جہاز کی کھڑکی سے نیچے جھانکنا، زمین کو دور سے دیکھنا اور فضاؤں میں سفر کرنا ان کے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔ ان کی آنکھوں میں چمکتی خوشی ہمارے سفر کی پہلی خوبصورت یاد بن گئی۔ دونوں فلائٹس کے دوران انھیں رات اور صبح دونوں مناظر دیکھنے کو ملے۔ جس کی انھوں نے بے شمار تصاویر بھی لیں۔ اسی دوران ہمارے ننھے منے مصنف بھانجے محمد زکریا نے ہم سے اور ہم نے ان سے وعدہ کیا کہ کشمیر کا سفر نامہ ضرور لکھیں گے۔یہ الگ بات ہے کہ ہم نے اردو میں لکھا ہے وہ انگریزی میں لکھیں گے۔ خیر ۲ جون کی صبح ہم سری نگر پہنچے۔ ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا نے ہمارا استقبال کیا اور یوں محسوس ہوا جیسے ہم واقعی کسی اور ہی دنیا میں داخل ہو گئے ہوں۔ "ہوٹل گرین رومز" میں قیام کے بعد ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا اور پھر مغل گارڈن کی سیر کے لیے نکل پڑے۔مغل باغات اپنی خوبصورتی اور دلکشی کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ رنگ برنگے پھولوں سے سجے باغات، بہتے ہوئے فوارے، سرسبز لان اور بلند و بالا درخت قدرت کے حسن کی ایک دلکش تصویر پیش کر رہے تھے۔ ہر طرف تازگی، رنگ اور خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ شام تک ہم ان باغات کے سحر میں کھوئے رہے اور پھر واپس ہوٹل آ کر آرام کیا۔اگلے روز ہم سون مرگ روانہ ہوئے۔ راستے بھر بلند پہاڑ، بہتے چشمے اور سرسبز وادیاں ہمارا استقبال کرتی رہیں۔ سون مرگ پہنچ کر وادی تک جانے کے لیے ہمیں گھوڑوں پر سوار ہونا پڑا۔ گھوڑوں کی پشت پر بیٹھ کر برف پوش وادی کی جانب سفر کرنا اپنے آپ میں ایک منفرد اور نہایت دلچسپ تجربہ تھا۔دور دور تک پھیلی ہوئی سفید برف سورج کی روشنی میں چاندی کی طرح چمک رہی تھی۔ بچوں نے برف سے خوب کھیل کھیلا، برفانی گولے بنائے اور یادگار تصاویر بنوائیں۔ بچوں نے "سلیجنگ" کا لطف بھی اٹھایا۔ برفانی ڈھلوانوں پر تیزی سے پھسلتے ہوئے خوشی اور سنسنی کا جو احساس پیدا ہوتا ہے، اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
سرد موسم میں ہم نے وہاں کا مشہور کشمیری قہوہ پیا جس کی خوشبو اور ذائقہ بے مثال تھا۔ اس کے ساتھ گرما گرم "میگی" کھانے کا لطف بھی دوبالا ہوگیا۔ اسی دوران بارش شروع ہوگئی۔ بادل پہاڑوں کے گرد سمٹ آئے، ہلکی ہلکی بارش برسنے لگی اور پوری وادی ایک خوابناک منظر پیش کرنے لگی۔ وہ سماں واقعی بیان سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ یہاں ہم نے تصاویر بنوائیں اور بچوں نے ریلز بنوائیں۔ جسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا تو سبھی نے بہت سراہا اور کافی دلچسپ کمنٹس بھی پڑھنے کو ملے۔سون مرگ کی حسین یادیں سمیٹ کر ہم اگلے دن پہلگام کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں ہمیں ایک نہایت دلچسپ اور یادگار تجربہ حاصل ہوا۔ ہمارے ایک شناسا کشمیری بھائی ،جاوید بھائی نے ہمیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں میں واقع ان کے گھر پہنچ کر پہلی مرتبہ کسی روایتی کشمیری گھر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔فرش پر بچھے نفیس قالین اور دیواروں کے ساتھ رکھے ہوئے نرم کشن ماحول کو نہایت آرام دہ اور دلکش بنا رہے تھے۔ ہم ابھی اس منفرد ماحول سے لطف اندوز ہو ہی رہے تھے کہ ایک خوش اخلاق خاتون اندر تشریف لائیں۔ یہ جاوید بھائی کی اہلیہ تھیں اور حسنِ اتفاق یہ کہ ان کا نام بھی "نکہت" تھا۔ وہ ہم سب سے بے حد محبت اور اپنائیت سے ملیں۔
انہوں نے سب سے پہلے ننھے ابراہیم کے گلے میں نوٹوں سے بنا خوبصورت ہار پہنایا اور اس کی "کیری کاٹ" کو چاکلیٹس اور خشک میوہ جات سے بھر دیا۔ بعد ازاں تمام حاضرین میں بھی چاکلیٹس اور ڈرائی فروٹس تقسیم کیے گئے۔ یہ سب ہمارے لیے بالکل نیا تجربہ تھا۔ بچے حیران بھی تھے اور بے حد خوش بھی۔جاوید بھائی کے دو نہایت پیارے اور خوش اخلاق بیٹے بھی تھے۔ ان کی شائستگی اور اپنائیت نے ہمیں بہت متاثر کیا۔ کچھ ہی دیر میں بچوں کے درمیان دوستانہ ماحول قائم ہوگیا۔اس کے بعد کشمیری مہمان نوازی کا وہ رنگ دیکھنے کو ملا جو ہم نے صرف سن رکھا تھا۔ ہمارے لیے خوش ذائقہ شربت، اعلیٰ معیار کے خشک میوہ جات، خوشبودار کشمیری قہوہ اور نہایت لذیذ سیخ کباب پیش کیے گئے۔ جاوید بھائی اور ان کی اہلیہ نے بہت اصرار کیا کہ ہم ان کے گھر قیام کریں لیکن پہلے سے طے شدہ مصروف شیڈول کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔اس مختصر ملاقات نے ہمیں کشمیری عوام کے خلوص، محبت اور مہمان نوازی سے روشناس کرایا۔ ہمیں محسوس ہوا کہ کشمیر کی اصل خوبصورتی صرف اس کی وادیوں میں نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کے دلوں میں بھی بسی ہوئی ہے۔
پہلگام پہنچ کر ہم "فریش واٹر ریزورٹ" میں مقیم ہوئے۔ یہ ریزورٹ قدرتی حسن کے دامن میں واقع ایک نہایت دلکش مقام تھا۔ اس کے پہلو میں دریائے لیدر پوری آب و تاب کے ساتھ بہتا تھا۔ دن کے وقت دریا کے پانی کی آواز دل کو عجیب سکون عطا کرتی تھی، لیکن رات کی خاموشی میں یہی آواز قدرے پراسرار اور خوفناک محسوس ہوتی تھی۔صبح کے وقت جب سورج کی سنہری کرنیں دریا کے پانی پر پڑتیں تو منظر ناقابلِ بیان خوبصورت ہو جاتا۔ پانی چاندی کی طرح چمکتا اور اردگرد کے پہاڑ اس حسن کو مزید دوبالا کر دیتے۔ یہاں مختلف اقسام کے گلاب کے پودے ہیں جنھوں نے پورے ریزورٹ کو قابل دید بنا دیا ہے۔
پہلگام میں ہم نے متعدد خوبصورت وادیوں کی سیر کی۔ ان مقامات تک پہنچنے کے لیے بھی گھوڑوں پر سفر کرنا پڑا۔ سبز میدانوں، گھنے جنگلات اور بلند پہاڑوں کے درمیان واقع یہ وادیاں کسی مصور کے شاہکار سے کم نہ تھیں۔ یہاں ہم نے بے شمار تصاویر اور خوبصورت ریلز بنوائیں تاکہ ان حسین لمحات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔
کشمیر میں قیام کے دوران ہم مختلف اقسام کے کشمیری قہوے سے لطف اندوز ہوئے۔ ہم نے وہاں کے اصل زعفران، قہوے کے مصالحے، مامرا بادام، اخروٹ، کشمیری شالیں اور خوبصورت ہینڈ بیگز خریدے۔ تازہ چیریاں کھائیں اور سیب کے باغات کی سیر کی۔ درختوں پر لدے ہوئے ہرے سیب اور باغات کی خوشگوار فضا دل کو موہ لینے والی تھی۔ وہاں ہم نے تازہ سیب کا جوس بھی پیا جس کا ذائقہ اب بھی یاد ہے۔ہم نے الگ الگ ہوٹلز میں کشمیر کے تمام مشہور کھانے بھی کھائے اور "وال نٹ فج" بھی چکھا۔ ۵ جون کی صبح پھر ہم نے سری نگر کا رخ کیا اور یہاں ڈل جھیل پر واقع بوٹ ہاؤس "فلوٹنگ لگژری" میں قیام کیا۔ شام کے وقت ہم دو گھنٹے کی یادگار شکارا سواری کے لیے نکلے۔ ڈل جھیل اس وقت اپنے پورے حسن کے ساتھ جلوہ گر تھی۔ غروبِ آفتاب کی سنہری کرنیں پانی پر بکھر رہی تھیں اور جھیل آئینے کی مانند آسمان، بادلوں اور پہاڑوں کے عکس کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھی۔شکارا آہستہ آہستہ پانی پر رواں تھا اور اس کی جنبش دل کو ایک عجیب سا سکون عطا کر رہی تھی۔ اس دوران ہم نے ڈل جھیل کا مشہور فلوٹنگ مارکیٹ بھی دیکھا۔ پانی پر تیرتی چھوٹی چھوٹی دکانیں اور ان میں سجے ہوئے رنگ برنگے سامان منفرد منظر پیش کر رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے جھیل کی اپنی ایک الگ دنیا ہو، جہاں زندگی پانی کے ساتھ بہتی چلی جا رہی ہو۔شکارا سواری کے دوران ہمیں جھیل کے وسط میں آباد ایک گاؤں دیکھنے کا بھی موقع ملا۔ پانی کے درمیان بسے ہوئے گھر، روزمرہ زندگی میں مصروف لوگ اور کشتیوں کے ذریعے ہونے والی آمدورفت ہمارے لیے حیرت کا باعث تھی۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت تھا کہ انسان فطرت کے ساتھ کس خوبصورتی سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔اسی دوران ہم نے تیرتی ہوئی ایک دکان سے وہاں کی مشہور "فروٹ چاٹ" کا ذائقہ چکھا جو تازہ پھلوں کی وجہ سے نہایت لذیذ محسوس ہوا جبکہ بچے "ہاٹ چاکلیٹ ڈرنک" سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ جھیل کی ٹھنڈی ہوا میں ہاٹ چاکلیٹ کا مزہ ان کے لیے ایک الگ ہی خوشی کا باعث تھا۔راستے میں ہم نے شکارا نہرو پارک کے قریب لگایا اور وہاں کچھ وقت گزارا۔ خوبصورت مناظر کے درمیان ہم نے بے شمار تصاویر بنوائیں اور یادگار لمحات اپنے کیمرے اور موبائل میں محفوظ کیے۔ جھیل کے چاروں طرف پھیلی روشنیاں، پانی پر تیرتے رنگ برنگے شکارے، درختوں پر لوٹتے پرندے، دور دکھائی دیتے پہاڑ اور شام کی پرسکون فضا ایک جادوئی منظر تخلیق کر رہے تھے۔ ہر گزرتا لمحہ پہلے سے زیادہ حسین محسوس ہو رہا تھا اور دل چاہتا تھا کہ یہ شام کبھی ختم نہ ہو۔رات ڈھلنے لگی تو جھیل پر روشنیاں مزید نمایاں ہو گئیں۔ پانی میں ان کا عکس ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بے شمار ستارے جھیل کی سطح پر بکھر گئے ہوں۔ اس دلکش ماحول میں واپس بوٹ ہاؤس پہنچنا بھی ایک خوشگوار تجربہ تھا۔اس شام کا اختتام اس وقت ہوا جب ہمارا رات کا کھانا بوٹ ہاؤس ہی میں پیش کیا گیا۔ پانی کے اوپر تیرتے ہوئے گھر میں بیٹھ کر ڈنر کرنا ہمارے لیے ایک نہایت منفرد اور یادگار تجربہ تھا۔ جھیل کی خاموشی، ٹھنڈی ہوا اور اردگرد پھیلی روشنیوں کے درمیان کیا گیا یہ عشائیہ ہمارے پورے سفر کے خوبصورت ترین لمحات میں شامل ہوگیا۔کشمیر سے جاتے ہوئے بچوں کی ایک خواہش کسک بن کر دل میں رہ گئی۔ وہ تھی گلمرگ میں "کیبل کار رائڈنگ" کی۔ حال ہی میں ہوئے تکنیکی خرابی کے مسئلے کی وجہ سے ۸ جون تک "کیبل کار رائڈنگ" کو بند رکھا گیا تھا جس سے بچے تھوڑے مایوس ہوگئے لیکن دیگر ایڈونچرز میں بھول بھی گئے۔ ۶جون کی صبح ہماری واپسی تھی۔ دل تو چاہتا نہ تھا کہ واپس جائیں لیکن سبھی نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ دسمبر ، جنوری میں ایک بار پھر کشمیر کو رونق بخشی جائے گی۔اس خوش کن وعدے کے ساتھ لوٹنا تھوڑا سا آسان ہوگیا۔ یہ سفر ہمارے لیے صرف ایک سیاحتی تجربہ نہیں تھا بلکہ فطرت کے حسن کو قریب سے محسوس کرنے کا ایک نادر موقع تھا۔کشمیر واقعی جنتِ ارضی ہے، زمین پر موجود ایک ایسی جنت جسے دیکھنے کے بعد انسان کے دل میں بار بار واپس لوٹ جانے کی خواہش جنم لیتی ہے اور لبوں پر بے اختیار یہ الفاظ آجاتے ہیں کہ
اگر فردوس بر روئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
Hamid Iqbal
*از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں*
گاؤں کے سرکاری اسکول میں اُس دن غیر معمولی رونق تھی۔ ضلع کے افسران اسکول کے دورے پر آنے والے تھے۔ اساتذہ بچوں کو بار بار سمجھا رہے تھے کہ صفائی، نظم و ضبط اور پڑھائی سب بہترین نظر آنی چاہیے۔
ساتویں جماعت میں ایک دبلا پتلا لڑکا “احمد” خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھا تھا۔ اُس نے پیوند لگی قمیض پہنی ہوئی تھی اور بستہ کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں بڑے خواب تھے۔
جب افسران کلاس میں آئے تو بچوں سے پوچھا گیا: “آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں؟”
کسی نے ڈاکٹر کہا، کسی نے انجینئر۔
احمد کی باری آئی تو اُس نے دھیمی آواز میں کہا “میں استاد بننا چاہتا ہوں۔”
افسر نے مسکرا کر پوچھا: “کیوں؟”
احمد نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔
“اس لیے کہ میرے ابو کہتے تھے، غریب آدمی سے سب کچھ چھن جائے تو بھی علم اُس کے پاس باقی رہتا ہے۔”
یہ کہتے کہتے اُس کی آواز بھرّا گئی۔ پھر آہستہ سے بولا: “ابو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ امّی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور میں شام کو ہوٹل پر برتن دھوتا ہوں تاکہ پڑھائی جاری رکھ سکوں۔”
کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ ایک افسر کی نظر اُس کے پھٹے بستے پر پڑی تو پوچھا “یہی بستہ استعمال کرتے ہو؟”
احمد ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: “جی… ابھی چل رہا ہے۔”
یہ سن کر سب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ دورے کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ احمد کی تعلیم کا پورا خرچ انتظامیہ برداشت کرے گی۔
احمد اپنے پرانے بستے کو سینے سے لگائے کھڑا تھا۔ اُس دن سب نے جان لیا کہ *اصل طاقت دولت میں نہیں، بلکہ حوصلے اور خوابوں میں ہوتی ہے۔* کا بستہ*
*از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں*
گاؤں کے سرکاری اسکول میں اُس دن غیر معمولی رونق تھی۔ ضلع کے افسران اسکول کے دورے پر آنے والے تھے۔ اساتذہ بچوں کو بار بار سمجھا رہے تھے کہ صفائی، نظم و ضبط اور پڑھائی سب بہترین نظر آنی چاہیے۔
ساتویں جماعت میں ایک دبلا پتلا لڑکا “احمد” خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھا تھا۔ اُس نے پیوند لگی قمیض پہنی ہوئی تھی اور بستہ کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں بڑے خواب تھے۔
جب افسران کلاس میں آئے تو بچوں سے پوچھا گیا: “آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں؟”
کسی نے ڈاکٹر کہا، کسی نے انجینئر۔
احمد کی باری آئی تو اُس نے دھیمی آواز میں کہا “میں استاد بننا چاہتا ہوں۔”
افسر نے مسکرا کر پوچھا: “کیوں؟”
احمد نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔
“اس لیے کہ میرے ابو کہتے تھے، غریب آدمی سے سب کچھ چھن جائے تو بھی علم اُس کے پاس باقی رہتا ہے۔”
یہ کہتے کہتے اُس کی آواز بھرّا گئی۔ پھر آہستہ سے بولا: “ابو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ امّی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور میں شام کو ہوٹل پر برتن دھوتا ہوں تاکہ پڑھائی جاری رکھ سکوں۔”
کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ ایک افسر کی نظر اُس کے پھٹے بستے پر پڑی تو پوچھا “یہی بستہ استعمال کرتے ہو؟”
احمد ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: “جی… ابھی چل رہا ہے۔”
یہ سن کر سب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ دورے کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ احمد کی تعلیم کا پورا خرچ انتظامیہ برداشت کرے گی۔
احمد اپنے پرانے بستے کو سینے سے لگائے کھڑا تھا۔ اُس دن سب نے جان لیا کہ *اصل طاقت دولت میں نہیں، بلکہ حوصلے اور خوابوں میں ہوتی ہے۔*
Hamid Iqbal
(سورۃ الفجر: 2)
عشرۂ ذوالحجہ اسلام کے نہایت بابرکت اور عظیم ایام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمتوں، برکتوں اور فضیلتوں سے نوازا ہے۔ رمضان المبارک کے بعد ایک بار پھر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اپنے بندوں کے لیے عبادت، مغفرت اور قربِ الٰہی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہی وہ مبارک دن ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا.
﴿وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾
“اور قسم ہے دس راتوں کی۔”
(سورۃ الفجر: 2)
مفسرینِ کرام کے مطابق اس سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی محبوب اور افضل دن شمار ہوتے ہیں۔ انہی دنوں میں حج جیسی عظیم عبادت ادا کی جاتی ہے، لاکھوں فرزندانِ توحید بیت اللہ میں حاضر ہو کر اپنے رب کے حضور گڑگڑاتے ہیں، میدانِ عرفات دعاؤں، آنسوؤں اور استغفار سے بھر جاتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنتِ قربانی کو زندہ کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا.
﴿وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِىۡۤ اَيَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ﴾
“اور مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں۔”
(سورۃ الحج: 28)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ “ایامِ معلومات” سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دنوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“ایسے کوئی دن نہیں ہیں جن میں نیک اعمال اللہ تعالیٰ کو ان دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہوں۔”
(صحیح البخاری: 969)
صحابۂ کرامؓ نے دریافت کیا کہ کیا جہاد بھی نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا اور کچھ واپس نہ لایا۔ اہلِ علم نے لکھا ہے کہ جس طرح رمضان المبارک کی آخری دس راتیں سال بھر کی راتوں میں سب سے افضل ہیں، اسی طرح ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن پورے سال کے دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں.
“ذوالحجہ کے پہلے دس دن سال کے تمام دنوں سے افضل ہیں، اور رمضان کی آخری دس راتیں سال کی تمام راتوں سے افضل ہیں۔”
(مجموع الفتاویٰ: 25/287)
ان مبارک دنوں کی ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ ان میں نیک اعمال کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور ذکر، تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا.
“ان دنوں میں کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید پڑھا کرو۔”
(مسند احمد: 5446)
انہی دنوں میں یومِ ترویہ، یومِ عرفہ، مزدلفہ کی بابرکت رات، حج اور قربانی جیسی عظیم عبادات ادا کی جاتی ہیں۔ خاص طور پر یومِ عرفہ کے روزے کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔”
(صحیح مسلم: 1162)
اللہ تعالیٰ نے حج کی فرضیت بیان کرتے ہوئے فرمایا.
﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾
“اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔”
(سورۃ آل عمران: 97)
اسی طرح قربانی کے بارے میں حکم دیا گیا:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾
“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”
(سورۃ الکوثر: 2)
یہ مبارک دن دراصل بندۂ مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہیں تاکہ وہ اپنے اعمال سنوارے، عبادات میں اضافہ کرے، گناہوں سے توبہ کرے اور اپنے رب کا قرب حاصل کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ان دنوں میں نمازوں کی پابندی کریں، قرآنِ مجید کی تلاوت بڑھائیں، نفلی روزوں خصوصاً یومِ عرفہ کے روزے کا اہتمام کریں، صدقہ و خیرات کریں، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، صلہ رحمی اختیار کریں اور ہر قسم کے گناہوں اور فضولیات سے خود کو بچائیں۔ کیا معلوم کون سا چھوٹا سا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو کر ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عشرۂ ذوالحجہ کی حقیقی برکتیں نصیب فرمائے، ان مبارک دنوں میں خوب نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری عبادات، دعائیں اور قربانیاں قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رضا، رحمت اور مغفرت سے مالا مال فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
Hamid Iqbal

از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ )
”جو علم کی راہ پر چل پڑے اسے تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی، اور جو کتابوں سے حوصلہ پکڑنا سیکھ جائے
وہ سب دلاسوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے، اور جسے مطالعے سے اُنس ہو جائے اسے دوستوں کے بچھڑنے سے فرق نہیں پڑتا۔“
انسانی زندگی میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب مصروفیات کا ہنگامہ وقتی طور پر تھم جاتا ہے اور وقت کی روانی کچھ سست سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی ایامِ فراغت دراصل انسان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ انہیں شعوری انداز میں استعمال کرے۔ ان لمحات کو اگر کتابوں کی دل آویز صحبت میسر آ جائے تو یہی فرصتیں علم و آگہی کے درخشاں چراغ روشن کر دیتی ہیں۔
کتاب محض اوراق کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی خاموش رفیق ہے جو انسان کے باطن میں اتر کر اسے نئی جہات سے روشناس کراتی ہے۔ یہ وہ ہمدم ہے جو نہ صرف ذہن کو جِلا بخشتی ہے بلکہ دل کو بھی سکون عطا کرتی ہے۔ مطالعہ انسان کو فکر کی گہرائی، نظر کی وسعت اور اظہار کی لطافت عطا کرتا ہے۔ یوں ایک مطالعہ کرنے والا محض معلومات کا حامل نہیں رہتا بلکہ شعور و آگہی کا پیکر بن جاتا ہے۔
موسمِ گرما کی تعطیلات خصوصاً طلبہ کے لیے ایک ایسا وقفہ فراہم کرتی ہیں جس میں وہ اپنے معمولاتِ تعلیم سے ہٹ کر خود کو نئے انداز میں سنوار سکتے ہیں۔ اگر ان ایام میں کتابوں سے رشتہ استوار کر لیا جائے تو یہی فرصتیں مستقبل کی کامیابیوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کو وہ بصیرت عطا کرتی ہے جو بسا اوقات برسوں کے تجربے سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔
مطالعے کا شوق پیدا کرنا دراصل خود کو ایک نئی دنیا سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ جب انسان کتابوں سے اُنس پیدا کر لیتا ہے تو تنہائی اس کے لیے بوجھ نہیں رہتی بلکہ ایک خوشگوار کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔ وہ ہر صفحے کے ساتھ ایک نیا خیال، ایک نئی سوچ اور ایک نیا زاویۂ نظر حاصل کرتا ہے۔
پیارے بچوں یہ جان لو کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایامِ فراغت کو بے مقصد مشاغل کی نذر کرنے کے بجائے اسے علم کے نور سے منور کردیں روزانہ تھوڑا سا وقت بھی اگر سنجیدہ مطالعے کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس کے اثرات دیرپا اور سودمند ثابت ہوتے ہیں۔ یہ عادت نہ صرف تعلیمی میدان میں مددگار ہوتی ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر ہمیں ہماری پسندیدہ کوئی کتاب حاصل نا بھی ہو تو غم نا کرو آج کا زمانہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے آن لائن ہمیں بے شمار کتابیں دستیاب ہوگی ۔ کتابوں کا ذخیرہ ہمیں فراہم ہے ۔ جب بھی مطالعہ کا خیال ذہن میں لائیں فوری ای کتاب کھولنا اور جہاں کا مطالعہ کرنا ہے وہ صفحہ اگر ہم اسکرین شاٹ لے کر محفوظ کرلیں تو فرصت کے لمحات میں یہ سارا مطالعہ مکمل ہو جائے گا ۔یہی کتابوں کی دل آویز صحبت انسان کو ایک ایسے سفر پر لے جاتی ہے جہاں علم روشنی بن کر راستہ دکھاتا ہے اور شعور منزل کا تعین کرتا ہے۔ جو شخص ایامِ فراغت کو کتابوں کے ساتھ گزارنا سیکھ لیتا ہے، وہ درحقیقت اپنے مستقبل کو سنوارنے کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔
Hamid Iqbal
Hamid Iqbal
Hamid Iqbal

Hamid Iqbal
Hamid Iqbal
Hamid Iqbal
از قلم
عظمیٰ ناز تجمل بیگ
غور وفکر کی بات ہے کہ ہمیں (خواتین)کو کمزور رکھنے میں دنیا کو فائدہ ہے کیونکہ جیسے ہی ہم ذہنی طور پر مظبوط بن گئیں ہم خود بخود خود اعتماد بن جاءیگے ۔لوگ ہمیں قابو میں کرنا بند کردینگے اور عزت دینا شروع کردینگے۔سنو ہمیں کسی سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے نہ کسی مرد سے نہ کسی رشتے سے نہ دنیا کی بکواس ایکسییپٹیشن سے ہمارا اصل دشمن ہمارا دماغ ہےجب ہمارا دماغ کمزور ہو تا ہے تو دنیا ہمیں قابو میں کرنے کی کوششیں کرتیں ہیں اور جب دماغ مضبوط ہوتا ہے تو دنیا ہمیں چھو بھی نہیں سکتی اور آج ہم ایسا ہی مضبوط ذہن ترتیب دینگے سب سے پہلا قدم
کوءی بہانہ نہیں صرف حقیقت پسندی ۔
اگر ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر بکھر جاتے ہیں لوگوں کی باتوں کو دل پر لیلیتے ہیں تو ایک طنز ،ایک نظر انداز کرنے والی نظر کچھ جملےاور ہمارا پورا دن برباد کرتے ہیں سنلیں یہ دنیا ہمیں کچرا سمجھ کر فٹ پاتھ پر پھینک دیںگی کیونکہ دنیا مضبوط عورت سے ڈرتی ہے اور کمزور عورتوں کو قابو میں کرتی ہیں۔آج خود سے وعدہ کرو کہ میں کمزور نہیں مضبوط بنوں گی اپنے دماغ کو مضبوط بنانا میرا مقصد ہے۔آج ہم ٥ پانچ ایسے طریقے سیکھے گے جو خواتین کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہونگے انشااللہ ۔
١.ہم اپنی پہچان خود بناے۔ ہمیں اپنا آپ صابت کرنے کےلئے کسی اور کے سہارے کی ضرورت نہیں بہترین سہارا،، اللہ تعالی ،،کا ہے دنیا کے ساتھ ساتھ دین کی رسی بہی مضبوطی سے پکڑے،، انشااللہ وہ رب العزت،، ہمیں تھامے رکھیں گا۔انسان کی اصل قوت اسکے اندر ہوتی ہے ،ہمارے مضبوط فیصلے میں ،ہماری پسند میں ،ہمارے انتخابات میں
ہمارے مضبوط ہونے کا پتہ لگتا ہے' ذرا غور کیجئے ایک ایسی خاتون جو ذہنی سطح پر مضبوط ہو۔ نا وہ کسی کو متاثر کرنا چاہتی ہےنا ہی خود کو اچھا ثابت کرنا چاہتی ہے نہ بنا وجہ بولتی ہے اسکی خود اعتمادی اسکی پہچان بن جاتی ہے ۔اور اسکی پرزینٹ ہی ایک اسٹیٹمینٹ بن جاتی ہے اور سب سے دلچسپ بات ایک خاتون جب اپنی پہچان خود بناتی ہے تو لوگ اسے سے ڈرتے نہیں بلکہ اسکی عزت کرتے ہیں'
کیونکہ جو انسان خود کے بارے میں صاف ہوتا ہے اسے پریشان کرنا ،چالاکی کرنا ،یا قابو میں رکھنا آسان نہیں ہوتا یہی وجہ ہےکہ ایسی خواتین بہت خاص ہوتی ہے اور خاص اشیاء کی ہمیشہ قدر کی جاتی ہے ایک بات ہمشہ یاد رکھو زندگی میں کو ئی بہی موڑ آے کوی بہی شخص آے یا جائے کوی بہی رشتہ کمزور یا مضبوط ہو سب سے پہلے ہمیں خود کا انتخاب کرنا ہے کیونکہ اگر ہم نے خود کو کھو دیا تو دنیا ہمارے لیۓ بے معنی ہے اپنے آپ سے کہتے رہو کہ میری خود اعتمادی میری پہچان ہے اور مجھے اپنی ذات پر فخر ہے۔
٢.کم ذہن لوگوں کو خود پر حاوی نہ ہونے دے۔
سچائی ہے کہ اکثر زندگی میں زیادہ نقصان بڑے طوفانوں سے نہیں چھوٹے لوگوں کی چھوٹی باتوں نے کیا ہے ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا اور آہستہ آہستہ انکی کم ذہنیت ہمارے ذہنی قوت ہماری خوشحالی اور ہماری صلاحیتوں کو نگل لیتی ہے جو انسان خود کچھ بہتر نہیں کرپاتے اسلیے دوسروں کو کمتر بتا کر مطمئن ہو جاتےہیں ۔ خبر ہے ہماری سب سے بڑی کمزروی کیا ہے؟ ہم ہر کس کی بات دل پر حاوی کرلیتے ھیں ایک چھوٹا سا طنزیہ جملہ ہمیں گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں تک پریشان کر سکتا ہے کسی نے جسمانی طور پر برا بول دیا کسی نے طرز زندگی پر طنز کردیا کسی نے ہماری ذاتی رشتوں ناطوں کو جانچا اور ہم بیوقوفوں جیسے گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں مہینوں تک وہ ہی دہراتے ہیں جیسے کوی ضروری اشتھار ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بارے میں تزات بولنے والے ٩٠/افراد یا تو آپ سے بعض رکھتے ہیں یا وہ خود ذہنی طور پر بکھرے پڑے ہیں یا خود سے ہی ناخوش ہیں وہ خود اپنی زندگی سوار نہیں پاتے اسلیے وہ دوسروں کی خود اعتمادی کو پست کرکے اپنی انا کو وقتیکہ تسکین پہنچاتے ہیں اور ہم ایسے کمزرفو کی باتوں کو اپنے اندر زہر کی طرح پالتے ہیں اور یہ ہی سب سے بڑا خود اعتمادی کو پست کرنے والا خسارا ہے سوچے کسی کی کمزرفی آپ کی پورے دن کی قوت کو پست کردے تو آپ کا کتنا وقت ضایع ہو گیا کیا یہ ہمارے خود کے ساتھ نا انصافی نہیں کیا ہمارے جذبات اتنے سستے ہیں کہ ہر کوی ہماری دل آزاری کردے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے لیے کونسا جملہ معنی رکھتاہے کچھ آوازیں صرف نظر انداز کرنے کیلئے ہوتی ہے کسی دانشور نے کہاکہ ،،کتوں کے ساتھ بھوکا نہیں جاتا ،،ذہنی طور پر مظبوط عورت وہی ہوتی ہے جو فیصلہ لیتی ہے جو اپنے جذبات اور احساسات کو قابو میں رکھنا جانتیں ہے وہ سمجھتی ہے کہ ردعمل دینا بھی ایک سہولت فراہم کرنا ہے اور یہ سہولت ہر کسی کو مہیا نہیں کرای جاتی وہ جانتی ہے کہ خاموشی بھی ایک جواب ہے ایک بات ہمیشہ یاد رکھے ہمارا دماغ ہمارے گھر کا ماسٹر بیڈروم ہے ہر کوی اسمیں رہنے لایق نہیں ہوتا جو لوگ ہمیں نیچا گرانے کی کوشش کریں انہیں ہمیں اپنے ذہن سے نکالنا ہوگا۔
٣.مشکل وقت میں خاموشی اختیار کرنا ۔
غور طلب بات ہے کہ ہماری اصل صلاحیت جب نہیں دکھائی دیتی جب حالات بہتر ہو بلکہ جب حالات ناساز گار ہو اور اسی وقت ہم اطمینان سے فیصلے لے جیسے ،،کسی کی ملازمت چھوٹ گئی ،،کسی کی شادی ٹوٹ گئی ،،کسی کے کاروبار میں نقصان ہوتاہے ایسی بی شمار نقصان ہر کسی کی زندگی میں الگ الگ صورت میں ہوتےہے فرق اتنا ہے کہ کوی اپنا آپ سمیٹ لیتا ہے تو کوی ٹوٹکر بکھر جاتا ہے خاموشی کمزوری نہیں اپنے آپ میں ایک طاقت ہے فلسفہ ہے کہ angry mind looses calm mind win. ہم سوچتے ہیں کہ ردعمل دینا طاقت ہے غلط ردعمل ہمیں کمزور بناتا ہے جب ہم جذبات میں آکر فیصلے لیتے ہیں تو اکثر ہم ہار جاتے ہیں ردعمل سے پہلے سوچو سمجھو عمل کرو ۔
٤.لوگوکی خوشامتیں بند کردیں ۔کڑوا ہے مگر سچ ہے کہ ہمارے زندگی کا بیشتر بیش قیمت حصہ لوگوں کو خوش کرنے میں گزر جاتا ہے،،فلاں کیا سوچے گا ،فلاں ناراض تو نہیں ہوجاے گا،فلاں میری میرے ماں باپ کی تربیت پر انگلی تو نہیں اٹھائے گا یہ سوال ہمارے زندگی کے جیلر ہے جو ہمیں جیل کی طرح جکڑے ہوے ہیں ایسا جیسے ہماری ذندگی کسی اور کے کندھوں پر ٹکی ہو۔اپنے آپ سے کہے ،،بس اب بس،،کیونکہ اب وقت ہے حقیقت پسند بننے کا ہم دنیا کے اصولوں پر چلکر کبھی بھی مضبوط نہیں بن سکتے مضبوط بننے کیلیے حوصلا چاہیے اور حوصلا انکے پاس ہرگز نہیں ہوتا جو دوسروں کے اصولوں پر مبنی زندگی گذارتے ہیں لوگوں کی آپ سے امیدیں انکی غرض نکلنے تک ہوتی ہیں ہر عورت کو یہ پتہ ہونا چاہیئے کہ ہم ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے اور اسکی کوی ضرورت بھی نہیں کیونکہ لوگوں کو پریشانی تم سے نہیں تمہاری ترقی سے ہوتی ہے تم پرانے کپڑے پہنو ایک وقت کھانا کھاؤ کوی نہیں پوچھے گا جہاں آپ اچھی زندگی جینا شروع کرو مفت کے مشورے شروع۔حاصل مطلب یہ کہ ہم خود کو کتنا بھی بدل دیں لوگ آپ میں کو ئی نا کوی برائی اپنے مطلب کی ڈھونڈ ہی لینگے انہیں ہماری چپ بھی کھٹکے گی اور آواز بھی اسلیے اپنے اصول بنائے جسطرح آپ کو ہاں بولنا آتا ہے اسطرح نا بولنا بھی سیکھے لوگ اگر کہے کہ تم بدل گئے ہو تو خود اعتمادی سے کہے ہاں اب میں خود کے اور خود سے جڑے مخلص رشتوں کے لئے جیتی ہوں اسلیے لوگوں کی خوشامد یں بند کردیں لوگ خود بخود آپکی عزت کرینگے عزت اسی کو ملتی ہے جو خود کی عزت دینا جانتا ہو۔
٥.اپنی اصل طاقت صلاحیتوں کو ابھار و
یہ وہ آخری نقطہ نظر ہے جو صرف پڑھنا نہیں جینا ہے
کیونکہ یہ وہ طاقت ہے جو ہمارے اندر پہلے سے موجود ہے ہم معاشرہ ،لوگ،رشتےکے ڈر نے اسے ذہن کے کسی کونے میں دفن کر دیا ہے یہ طاقت ہے خود اعتمادی خود داری ہمیں کسی غیر کی منظوری مشورے کی ضرورت نہیں ہے ہماری اصلی طاقت جب شروع ہوتی ہے جب ہم فیصلہ لیتے ہیں کہ اب سے ہم ہماری ذندگی خود کے اصولوں پر جیے گے کسی اور کے اشاروں پر ناچنے سے بہتر ہے اپنا آپ سوارے یقین مانیے یہی وہ وقت ہے جب ہم پرفیکٹ ہو جاءے گےہماری اصلی طاقت خود کو پہچاننا ہے سنو کہ ہمیں دنیا بدلنے کی ضرورت نہیں لوگوں کو بدلنے کی ضرورت نہیں بس ایک فیصلہ بدل دیں کہ آج کے بعد ان لوگوں کے قریب بھی نہیں جانا جنہوں نے آپ کو غلط قرار دیا سازشیں کیں اور کر رہے ہیں سب کو برا خواب خیال کرتے ہوۓ اپنے مقدمہ کا جج اللہ رب العزت کو بناے اور اپنی زندگی کو پر سکون گزارتے ہوے اسکے فیصلے کا انتظار کرے اللہ رب العزت ہم سبکا ہامی و ناصر ہو اللہ حافظ ۔
Hamid Iqbal
از قلم.عظمہ ناز تجمل بیگ
یہ جملہ آپ کو شائد عجیب سا لگ سکتا ہے، ہاں اگر آپ اپنی اولاد کو ایک نفسیاتی و ذہنی دباؤ سے بچانا چاہتے ہیں، تو اپنے بچوں کو کسی بھی طرح سے تنگ کرنے کی اجازت نہ دیں۔ میں نے خاص طور پر اپنے کہا ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ آپ کے بچوں کے ساتھ آپ کے سامنے ایسے جملے بول سکتے ہیں، آپ کے بچوں کے حلیے پر، ان کی عادات پر، ان کے معاملات پر، غیر مناسب تنقید یا واقعتا سنجیدہ موڈ میں یا ہنسی مذاق میں ایسے بے ہودہ قسم کے سوالات کر سکتے ہیں، جنہیں سن کر ممکن ہے کہ آپ کو بھی اچھا نہیں لگے گا، مگر آپ خاموش رہتے ہیں کیونکہ اگر آپ انہیں ایسے جملے بولنے سے روکیں گے، تو آپ کی رشتہ داری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ آپ کا بچہ ایسی کسی کیفیت کا جواب نہیں دے سکتا، مگر آپ ہوشمندی کا مظاہرہ کریں اور انہیں اس تکلیف سے بچائیں۔ بچوں کو خاص طور سے سکھاے کہ اپنا ڈیلی روٹین کسی کے ساتھ شءر نا کریں کیونکہ تجربے سے ثابت ہے کہ لوگ پوچھتے تو پیار سے ہے لیکن انہی باتوں کو بنیاد بنا کر طعنہ دینے میں دیر نہیں کرتے
دوسری اور اہم بات جو میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آپ کے بچوں کو ذاتی طور سے سمجھدار اور ذمے دار بنائیں لیکن ان کا بچپن لوگوں کی نظر میں قائم رہنے دیں کیونکہ انھی کے برابر کے یا تھوڑے چھوٹے بڑے بچے آپ کے بچوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور وہ بچہ ہے اسکو نہیں سمجھتا بولکر لوگ آپکے بچوں کی سمجھداری کو غلط استعمال کرتے ہیں اور خود کے بچوں کو نا سمجھ ہے چھوٹا ہے بولکر ہٹا دیتے ہے۔
بچوں کی شکل کے حوالے سے، ان کے بالوں کے حوالے سے، ان کی رنگت، ان کے جسمانی اعضاء پر، یا کسی بھی نوعیت کے اعتبار سے ان کی عادات کے اعتبار سے ان کے لباس پر اگر آپ کے بچے پر کوئی تنقید کرتا ہے، یا بچے کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، ہوسکتا ہے کہ اپنے تئیں وہ سمجھا رہا ہوتا ہے لیکن اس کا انداز طنزیہ ہو سکتا ہے، یا اس میں حقارت یا ڈانٹ کی کیفیت موجود ہوسکتی ہے، تب آپ کو لگتا ہے کہ وہ ایک خاندان کا ایک بڑا فرد بطور ایک well wisher کے آپ کے بچے کے ساتھ یہ سب کر رہا ہے۔ اور چلیں مان لیں کہ آپ کو بھی لگ رہا ہو کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ لیکن آپ اپنی رشتہ داری کو قائم رکھنے کے لیے، بزرگ یا کسی بھی رشتہ دار خاتون کی وہ بات برداشت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا بچہ تو "ایک چھوٹا بچہ جو کل اس بات کو یا اس ڈانٹ کو بھول جائے گا" ۔ تو ایسا ہر گز نہیں ہے۔بچے ایسی باتیں کبھی نہیں بھولتے، اس کا اظہار نہیں کر سکتے وہ ایک "بند بوتل کی طرح ہوتے ہیں اور بوتل بند احساسات کبھی نہیں مرتے، وہ زندہ رہتے ہوئے دفن ہوجاتے ہیں، اور ساری زندگی بعد میں ان بچوں میں احساس کمتری اور بدصورت رویے مختلف صورتوں میں ابھرتے ہیں۔
اس لیے اورو کو کبھی بھی اپنے بچوں کے بچپن، معصومیت اور خوشی کو مسخ کرنے کی اجازت نہ دیں اور جب بھی آپ کے بچے اپنا بچپن یاد کریں تو وہ اسے خوبصورت احساسات اور رویوں کے ساتھ یاد رکھیں، یہ چیز آپ کے بچوں کی خود اعتمادی کو مجروح کرتی ہے اور ان کے لیے نفسیاتی مسائل پیدا کرتی ہے۔ جو مستقبل میں انہیں نقصان پہنچائی گی، اگر ایسے کسی لمحے میں آپ اپنے کسی رشتہ دار کو موقع پر ہی ٹوک دیں گے ممکن ہے وہ رشتے دار چند روز، ہفتے، مہینے یا سال بھر آپ سے ناراض ہوسکتا ہے، لیکن یہ آپ کے بچے کی نفسیاتی حفاظت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جو اس کا بنیادی حق ہے، کہ وہ اپنے آپ کو کم تر محسوس کریں یا اپنے جسم یا شخصیت کے کسی حصے سے نفرت کریں۔ اس لئے ایسے کسی بھی موقع پر رشتہ داروں کو سختی سے منع کریں، اپنے بچوں کے ساتھ کسی کو بھی حدود سے تجاوز نہ کرنے دیں، چاہے وہ مذاق میں ہو یا سنجیدگی میں بات میں ہو یا عمل میں ہر صورت یہ رویہ ناقابل قبول رکھیں۔
اکثر قریبی عزیز ہی یہ ہمت کرتے ہیں، کہ آپ کے بچوں کو ان کی ہئیت و رنگ کی وجہ سے کسی نامناسب نام سے پکار لیتے ہیں، جیسے موٹو، پتلو، بچوں کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ بہت گھنا ہے، یہ کتنا غیر مناسب لفظ ہے، بچوں کے لئے اس کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے کہ آپ کسی بچے کو ایک طرح سے دھوکے باز کہہ رہے ہیں، بچوں کے بارے میں ایسے الفاظ یا مذاق کرنا سختی سے روکنا چاہئے، جو بچے کے لیے ناپسندیدہ یا تکلیف دہ ہو، یہ سب کرنے والے والے چاہے آپ کی بہن، یا آپ کے بھائی، آپ کی پھوپھی، آپ کی خالہ یا چچا تایا تای ماموں وغیرہ کوئی بھی کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہوں، انہیں بچوں کی جسمانی ساخت پر تبصرہ یا تضحیک کرنے سے سختی سے روکنا چاہئے کہ جیسے آپ کا بچہ اس طرح کیوں نہیں بھاگ سکتا؟ اس کا رنگ ایسا کیوں ہے، اس کا قد عمر کے حساب سے کم ہے، وہ ایسے کیوں پڑھتا ہے، ایسے کیوں کھاتا ہے، وہ ٹھیک سے بول نہیں سکتا۔ وغیرہ وغیرہ، اصل میں یہ تمام منفی باتیں بچوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ان کے دماغ میں رہتی ہیں اور اس عمر میں ان کا دماغ اس پر یقین کر لیتا ہے۔
ایسے تمام برے لفظ یا جملے بچوں کے ذہن پر چھا جاتے ہیں، اور وہ مختلف مسائل کی صورت سامنے آتے ہیں، بچوں کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے، اور ان مسائل سے نکلنے میں انہیں وقت لگتا ہے، ایسے ہر برے لفظ یا تنقیدی و تضحیکی جملوں کے اثر کو دور کرنے کے لیے ایک تکیلف دہ مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایسے ایک جملے سے انہیں ذہنی طور پر چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے 100 اچھے جملوں کی ضرورت پڑے گی۔ اپنے بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ نہ ہی خود موازنہ کرنا چاہیے نہ ہی کسی اور کا موازنہ کرنے دینا چاہیے، چاہے وہ آپ کے کتنے ہی بہترین رشتہ دار کیوں نہ ہو، کیونکہ ہر بچے کی اپنی شخصیت کی خصوصیات ہوتی ہیں، جو ایک بچے سے دوسرے بچے میں مختلف ہوتی ہیں، اور یہی موازنہ پہلی چیز ہے جو بچے کی شخصیت کو تباہ کرتی ہے اور خود اعتمادی کو کمزور کرتی ہے۔ آخری بات یہی ہے کہ افعال رویوں اور جملوں سے اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والی ایسی بدمعاشی کو روکیں۔ کیونکہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، اور خود بھی بحیثیت رشتہ دار آپ دوسروں کے بچوں کے بارے میں جملہ بولتے وقت سو بار سوچیں کہ آپ کے جملے کا اس بچے پر کیا اثر ہوگا۔
آخری اور اہم بات کہ بچوں کے ساتھ برا سلوک کرنے کے بعد انہیں کہا جاتا ہے کہ یہ بات اپنے والدین کو نہ بتایا جائے یا یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ تم بولتے ہو اپنے ممی بابا کو ہم ایسے ذہن والے لوگوں کو روک نہیں سکتے لیکن ہم اپنے بچوں کو ضرور سمجھا سکتے ھیں کہ کوی کتنا بھی بولے والدین کے ساتھ سب کچھ شییر کرنا چاہیے اپنے بچوں کے دماغ سے یہ بات نکالنا بھی ضروری ہے کہ ہم فلا کے بغیر کھیل نہیں سکتے یا رہ نہیں سکتے بچوں کو استعمال ہونے سے بچاءے اللہ رب العزت ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے آمین.
Hamid Iqbal
یومِ جمہوریہ بھارت کی تاریخ کا وہ روشن دن ہے جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزادی محض اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ ایک منظم، باوقار اور ذمہ دار قومی زندگی کا آغاز ہے۔ 26 جنوری 1950 کو جب آئینِ ہند نافذ ہوا تو یہ اعلان ہوا کہ اس ملک کی بنیاد افراد کی خواہشات پر نہیں بلکہ قانون، انصاف اور مساوات پر ہوگی۔ یہی دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس آئینی روح کے ساتھ جینے کی کوشش کر رہے ہیں یا جمہوریت کو صرف ایک رسمی تہوار تک محدود کر چکے ہیں۔
جمہوریت محض ووٹ ڈالنے یا حکومت بنانے کا نظام نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری عمل ہے، جس میں سوال کی گونج، شعور کی روشنی اور ذمہ داری کا احساس بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی سماج میں سوال کرنے کی روایت ختم ہو جائے تو وہاں جمود پیدا ہو جاتا ہے، اور اگر شعور مفقود ہو جائے تو آزادی بے معنی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر ذمہ داری کا احساس ختم ہو جائے تو حقوق بھی غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ یومِ جمہوریہ ہمیں انہی تین بنیادی ستونوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔سوال کرنا جمہوریت کی زندگی ہے۔ سوال انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور نظام کو جواب دہ بناتا ہے۔ سوال نہ ہوں تو اقتدار بے لگام ہو جاتا ہے اور عوام خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ آئینِ ہند ہر شہری کو اظہارِ رائے اور سوال کا حق دیتا ہے، مگر یہ بھی سکھاتا ہے کہ سوال کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ انتشار۔ تعمیری سوال معاشرے کو جوڑتے ہیں جبکہ منفی اور نفرت انگیز رویے جمہوری اقدار کو کمزور کرتے ہیں۔
شعور وہ چراغ ہے جو آزادی کے اندھیروں میں روشنی فراہم کرتا ہے۔ بغیر شعور کے آزادی ایک کھوکھلا نعرہ بن جاتی ہے۔ باشعور شہری وہ ہوتا ہے جو خبر اور افواہ میں فرق کر سکتا ہے، جو جذبات کے بجائے عقل سے فیصلے کرتا ہے اور جو اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کا حسن سمجھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں شعور سے محروم ہوئیں تو ان کی آزادی خطرے میں پڑ گئی۔ یومِ جمہوریہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آئین کو سمجھنا، قانون کا احترام کرنا اور دوسروں کے حقوق کو تسلیم کرنا ہی اصل حب الوطنی ہے۔
ذمہ داری جمہوریت کا وہ پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز تو بلند کرتے ہیں، مگر فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ذمہ داری کے بغیر حقوق کی حفاظت ممکن نہیں۔ ایک ذمہ دار شہری قانون کی پاسداری کرتا ہے، ووٹ کو امانت سمجھتا ہے، عوامی املاک کی حفاظت کرتا ہے اور سماج میں امن و رواداری کو فروغ دیتا ہے۔ جب ہر فرد یہ محسوس کرے کہ اس کے اعمال کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے تو جمہوریت مضبوط بنیادوں پر قائم رہتی ہے اسلامی و اخلاقی تعلیمات بھی سوال، شعور اور ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔ قرآنِ کریم میں بارہا غور و فکر اور عقل کے استعمال کی دعوت دی گئی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ سوال کرنا ایمان کے خلاف نہیں بلکہ فہم و بصیرت کی علامت ہے۔ اسلام میں ہر انسان اپنے عمل کا جواب دہ ہے، چاہے وہ ذاتی زندگی ہو یا اجتماعی معاملات۔ عدل، امانت داری اور سچائی وہ اقدار ہیں جو اسلامی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام کی روح بھی ہیں۔ اس طرح دینی تعلیمات اور آئینی اقدار ایک دوسرے کی تکمیل کرتی نظر آتی ہیں۔
نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، اور جمہوریت کی بقا بھی بڑی حد تک انہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر نوجوان باشعور، سوال کرنے والے اور ذمہ دار ہوں تو قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے، اور اگر وہ بے حسی اور لاپرواہی کا شکار ہوں تو مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ یومِ جمہوریہ نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ محض تماشائی نہ بنیں بلکہ فعال، باخبر اور باکردار شہری بن کر جمہوریت کو مضبوط کریں۔ یومِ جمہوریہ ہمیں جشن منانے کے ساتھ ساتھ خود احتسابی کی دعوت بھی دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف حکومت کا نام نہیں بلکہ عوام کے سوال، شعور اور ذمہ داری کا مجموعہ ہے۔ جب سوال زندہ رہیں. شعور بیدار ہو اور ذمہ داری دیانت داری سے ادا کی جائے تو ایک مضبوط، منصف اور باوقار قوم وجود میں آتی ہے۔ اسی عہد کے ساتھ یومِ جمہوریہ منانا ہی اس دن کا اصل پیغام ہے۔


