*تعلیمی پالیسی پر نیا تنازعہ: لڑکیوں کے مستقبل پر سوال*


*مہاراشٹر حکومت کا یک جنس اسکول ختم کرنے کا فیصلہ والدین و ماہرین کی تشویش کا باعث
*


خصوصی تجزیاتی رپورٹ: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں 
مہاراشٹر حکومت کی جانب سے ریاست کے تمام یک جنس (Single-Gender) اسکولوں کو بتدریج مخلوط (Co-Educational) اداروں میں ضم کرنے کے فیصلے نے ایک نئے مباحثے کو جنم دے دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے صنفی برابری اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا مگر کئی ماہرین اور والدین اس پالیسی کو لڑکیوں کے تعلیمی تسلسل اور تحفظ کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
7 اکتوبر 2025ء کو جاری کردہ حکومتی قرارداد (Government Resolution) کے مطابق آنے والے برسوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے علیحدہ اسکول ختم کر کے انہیں مشترکہ اداروں میں بدلا جائے گا۔ جہاں لڑکے لڑکیاں ایک ہی کلاس میں تعلیم حاصل کریں گی۔ اس فیصلے کے پیچھے حکومت کا مقصد “صنفی مساوات” کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔ تاہم ٹائمز آف انڈیا (27 اکتوبر 2025) کے مطابق مہاراشٹر میں اس وقت تقریباً 1,02,837 ایسے اسکول موجود ہیں جو صرف لڑکیوں کے لیے مخصوص ہیں جن میں تقریباً 3.54 لاکھ طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اسکول بند کر دیے گئے تو ہزاروں بچیاں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گی جس سے ڈراپ آؤٹ ریٹ میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکومتِ مہاراشٹر کی یہ پالیسی صرف ماہرین تعلیم ہی نہیں بلکہ کئی طبقات کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے بالخصوص ان والدین کے لیے جو روایت پسند یا دیہی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
بہت سے والدین کا ماننا ہے کہ ان کا اعتراض نظریاتی نہیں بلکہ حفاظتی اور ثقافتی نوعیت کا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے سماج میں جنسی ہیجان برپا کر رکھا ہے جس سے اسکولی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بھی محفوظ نہیں ہیں، اخلاقی بگاڑ کے علاوہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں اب بھی بیشتر اسکولوں میں علیحدہ بیت الخلاؤں کی کمی، خواتین اساتذہ کی عدم دستیابی، ٹرانسپورٹ کی عدم سہولیات اور سیکیورٹی کے ناقص انتظامات جیسے مسائل عام ہیں۔ ان حالات میں والدین کی بڑی تعداد اپنی بچیوں کو مخلوط اسکولوں میں بھیجنے سے گریز کرے گی جس کا نتیجہ ڈراپ آؤٹ ریٹ میں اضافے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر ریاست واقعی خواتین کی ترقی چاہتی ہے تو اسے آئینِ ہند کے آرٹیکل 15(3) کو مدنظر رکھنا چاہیے جو عورتوں اور بچوں کے لیے خصوصی اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ ان کے مطابق یک صنفی اسکول خواتین کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کا ذریعہ رہے ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ کرنا صنفی مساوات کے بجائے تعلیمی محرومی کو جنم دے سکتا ہے۔
محکمۂ تعلیم کے مطابق حکومت کا ارادہ کسی طبقے کو محروم کرنے کا نہیں بلکہ “تعلیم میں رکاوٹیں ختم کرنے” کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو جدید سہولیات، سیکیورٹی، اور خواتین اسٹاف سے آراستہ کر کے ماحول کو ایسا بنایا جائے گا کہ والدین بلا خوف اپنی بچیوں کو اسکول بھیج سکیں۔ جبکہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت کو یکدم فیصلے کے بجائے مرحلہ وار، اختیاری اور علاقائی حکمتِ عملی اپنانی چاہئے۔ جس کے لیے ممکنہ حل یہ ہو سکتے ہیں کہ جن اسکولوں میں سہولیات بہتر ہیں وہاں سے تجرباتی بنیاد پر مخلوط نظامِ تعلیم شروع کیا جائے۔ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں فی الحال یک جنس اسکول برقرار رکھے جائیں۔ والدین کے خدشات دور کرنے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے۔ اسکولوں میں خواتین اسٹاف اور سیکیورٹی گارڈز کی لازمی تعیناتی کی جائے۔
صنفی برابری کے خواب تبھی شرمندۂ تعبیر ہو سکتے ہیں جب ان کی بنیاد اعتماد، تحفظ اور شمولیت پر ہو۔ اگر والدین کو اپنی بچیوں کے تحفظ پر یقین نہیں تو محض اسکولوں کا انضمام برابری پیدا نہیں کر سکتا۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حساس فیصلے کو محض انتظامی حکم کے طور پر نہیں بلکہ سماجی اصلاحی منصوبہ سمجھ کر نافذ کرے۔ ایسا منصوبہ جو لڑکیوں کے تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اعتماد، عزت اور مستقبل کو بھی محفوظ بنائے۔
***
(بعض اعداد و معلومات The Times of India, Education Times, 27 Oct 2025 کی رپورٹ سے ماخوذ۔) 

-----------------------------------------------

 



رخصتی کے بعد


نتیجہء فکر:* رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں

*موبائل:* 9130142313 


_____*صبح* کا وقت تھا۔ صحن میں دھوپ نرم اور مٹی کی خوشبو گہری تھی۔ ماں آٹے میں گوندھے ہاتھوں سے آنسو پونچھ رہی تھی، اور باپ خاموشی سے چھت پر بنے مچان کے کونے میں رکھے پرانے صندوق کو دیکھ رہا تھا — وہی صندوق جس میں میرے بچپن کی چپل، ٹوٹی پنسل، اور اسکول کا پہلا انعام اب بھی محفوظ تھا۔
_____*آج* میں اس گھر سے رخصت ہو رہا تھا۔ نہیں، شادی کی نہیں — روزگار کی رخصتی تھی۔ وہ رخصتی جس میں بارات نہیں نکلتی، صرف خاموش آنکھیں اور رکتے ہوئے قدم ہوتے ہیں۔
_____*ماں* کے لبوں پر دعائیں تھیں مگر آنکھوں میں اندیشے۔ باپ کے چہرے پر فخر بھی تھا اور فاصلوں کا خوف بھی۔ میں نے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کی، مگر اندر کہیں کچھ ٹوٹ رہا تھا۔ گھر کے ہر کونے سے آواز آ رہی تھی، “یہیں رہ جا، شہر میں تجھے کون سمجھے گا؟”
_____*ٹرین* کے دروازے پر کھڑا ہوا تو گاؤں پیچھے چھوٹتا گیا — وہی برگد کا پیڑ، وہی مسجد کی اذان، وہی کنویں کی رسی، سب نظروں سے اوجھل ہونے لگے۔ جیسے دل کے ایک ایک ریشے کو کوئی کھینچ رہا ہو۔
_____*شہر* پہنچ کر زندگی کی دوڑ شروع ہوئی۔ نوکری ملی، کمائی ہونے لگی، مگر دل خالی رہا۔ کھانے میں ذائقہ نہیں، خوابوں میں سکون نہیں۔ فون پر ماں کی آواز سن کر آنکھیں نم ہو جاتیں، باپ کے “خیریت ہے بیٹا؟” کہنے میں وہ سکون ملتا جو پورے شہر میں کہیں نہیں تھا۔
_____*کبھی کبھی* رات کو کھڑکی کے پار چاند دیکھتا ہوں تو لگتا ہے یہی چاند ماں کے صحن میں بھی چمک رہا ہوگا۔ بس فرق اتنا ہے کہ وہاں چاندنی کے ساتھ دعائیں ہیں، اور یہاں تنہائی۔
_____*کبھی* سوچتا ہوں روزگار نے زندگی تو دی، مگر جینے کا سبب چھین لیا۔
اور ہر صبح جب اسکول کے راستے پر نکلتا ہوں، دل کہتا ہے:
*"کاش یہ سفر واپسی کا ہوتا…"*
***

 




 *وِکسِت




 بھارت بِلڈاتَھون 2025: نئی نسل کے طلبہ کی اختراعی پہچان

✍️ رپورٹ: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں 

موبائل: 9130142313 


وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند نے نیتی آیوگ کے "اٹل انوویشن مشن" کے اشتراک سے “وِکسِت بھارت بلڈاتھون 2025” کا آغاز کیا ہے۔ یہ ملک گیر تحریک اسکولی طلبہ میں اختراع، تخلیقی سوچ اور عملی تعلیم کو فروغ دینے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے۔ یہ بھارت کی اب تک کی سب سے بڑی طلبہ اختراعی مہم ہے جس میں ششم جماعت سے دوازدہم (بارہویں) جماعت تک کے طلبہ شریک ہو سکتے ہیں۔ یہ پروگرام حکومتِ ہند کے وکست بھارت @2047 کے وژن کی سمت ایک مضبوط قدم سمجھا جا رہا ہے۔

بھارت سرکار منسٹری آف ایجوکیشن کی ویب سائٹ کے مطابق بلڈاتھون کے تحت چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے 5 سے 7 طلبہ کا گروپ اپنے اساتذہ کی رہنمائی میں اپنی ٹیمیں بنا کر حقیقی زندگی کے مسائل کے حل کے لیے آئیڈیاز اور ماڈلز تیار کریں گے۔ ایک اسکول سے ایک سے زائد ٹیمیں رجسٹر کی جاسکتی ہیں۔ ماہرین کی قومی کمیٹی ان اندراجات کا جائزہ لے گی۔ جب کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کو انعامات، رہنمائی اور کارپوریٹ شراکت داری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔


*اس اختراعی مہم کے لیے چار قومی موضوعات*

اس مہم میں ششم سے دوازدہم تک کی جماعتوں کے طلبہ چار اہم موضوعات پر اپنی تخلیقی صلاحیتیں پیش کرسکتے ہیں جن میں پہلا موضوع "آتم نربھر بھارت" ہے جس کے تحت خود کفیل نظام اور حل تیار کرنا ہوگا۔ دوسرا موضوع "سودیشی" قرار دیا گیا ہے جس کے تحت مقامی نظریات اور اختراعات، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ جبکہ تیسرے عنوان کے تحت "ووکل فار لوکل" کے ذریعہ مقامی مصنوعات اور دستکاری کی حمایت کو شامل کیا گیا۔ اسی طرح چوتھے موضوع کا نام "سمردھی" دیا گیا ہے جس کے ذریعہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کے راستے تلاش کرنا شامل ہیں۔ یہ چاروں موضوعات دراصل اُس خود انحصار، اختراعی (تخلیقی) اور مضبوط ہندوستان کی بنیاد ہیں جس کا خواب مشن 2047 کے لیے دیکھا گیا ہے۔


*تعلیم سے آگے، تجربے کی دنیا تک*

منسڑی آف ایجوکیشن، حکومتِ ہند کی ویب سائٹ کے مطابق بلڈاتھون محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ سیکھنے اور مشق کرنے کا ایک عملی تجربہ ہے۔

اس کے ذریعے طلبہ قومی تعلیمی پالیسی 2020ء کے اصولوں کے مطابق عملی اور تجرباتی تعلیم حاصل کریں گے۔ یہ ان طلبہ کے اندر سوال پوچھنے، سوچنے، بنانے اور پیش کرنے کی عادت پیدا کرے گا۔

یہ مہم خاص طور پر قبائلی، پسماندہ اور دور دراز اضلاع کے اسکولوں کو بھی شامل کرتی ہے تاکہ ہر بچے کو اپنی ذہانت دکھانے کا برابر موقع مل سکے۔ مستقبل میں اختراع کا یہ سفر شہروں سے دیہات تک اور اسکولوں سے قوم کے مستقبل تک پھیلنے والا ہے۔ وِکست بھارت بلڈاتھون نامی اس مہم کا آغاز 23 ستمبر 2025ء سے کیا گیا ہے۔ اسکولوں کو آن لائن رجسٹریشن کے لیے 23 ستمبر تا 6 اکتوبر تک کا موقع دیا گیا تھا جسے ضرورت کے مطابق آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ جبکہ طلبہ کے لیے تیاری کی سرگرمیوں کی تکمیل کے لیے 6 تا 12 اکتوبر 2025ء تک کا وقت دیا گیا ہے۔ 13 اکتوبر ملک گیر لائیو بلڈاتھون، 14 تا 31 اکتوبر اندراجات جمع کرانا، نومبر میں ملک بھر سے جمع ہونے والے طلبہ کے پراجیکٹس کی جانچ کرنا اور دسمبر میں فاتحین کا ناموں کا اعلان کرنا ظاہر کیا گیا ہے۔

“وکست بھارت بلڈاتھون 2025” دراصل بھارت سرکار کی نئی ایجوکیشن پالیسی 2020ء کے تحت اس بات کا اعلان ہے کہ ہندوستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔

یہی نوجوان ہی وہ تخلیقی ذہن ہیں جو سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے ملک کو ترقی یافتہ قوم بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس لیے یہ صرف ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک قومی تحریک ہے جو طلبہ کو خواب دیکھنے، سوچنے، اور بے خوف اختراع کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ وزارتِ تعلیم نے تمام اسکولوں، اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ پورے جوش و جذبے کے ساتھ اس میں حصہ لیں اور ہندوستان کی اختراعی کہانی میں اپنا نام درج کرائیں۔ 

***

 
Design by Wordpress Theme | Bloggerized by Free Blogger Templates