رخصتی کے بعد


نتیجہء فکر:* رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں

*موبائل:* 9130142313 


_____*صبح* کا وقت تھا۔ صحن میں دھوپ نرم اور مٹی کی خوشبو گہری تھی۔ ماں آٹے میں گوندھے ہاتھوں سے آنسو پونچھ رہی تھی، اور باپ خاموشی سے چھت پر بنے مچان کے کونے میں رکھے پرانے صندوق کو دیکھ رہا تھا — وہی صندوق جس میں میرے بچپن کی چپل، ٹوٹی پنسل، اور اسکول کا پہلا انعام اب بھی محفوظ تھا۔
_____*آج* میں اس گھر سے رخصت ہو رہا تھا۔ نہیں، شادی کی نہیں — روزگار کی رخصتی تھی۔ وہ رخصتی جس میں بارات نہیں نکلتی، صرف خاموش آنکھیں اور رکتے ہوئے قدم ہوتے ہیں۔
_____*ماں* کے لبوں پر دعائیں تھیں مگر آنکھوں میں اندیشے۔ باپ کے چہرے پر فخر بھی تھا اور فاصلوں کا خوف بھی۔ میں نے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کی، مگر اندر کہیں کچھ ٹوٹ رہا تھا۔ گھر کے ہر کونے سے آواز آ رہی تھی، “یہیں رہ جا، شہر میں تجھے کون سمجھے گا؟”
_____*ٹرین* کے دروازے پر کھڑا ہوا تو گاؤں پیچھے چھوٹتا گیا — وہی برگد کا پیڑ، وہی مسجد کی اذان، وہی کنویں کی رسی، سب نظروں سے اوجھل ہونے لگے۔ جیسے دل کے ایک ایک ریشے کو کوئی کھینچ رہا ہو۔
_____*شہر* پہنچ کر زندگی کی دوڑ شروع ہوئی۔ نوکری ملی، کمائی ہونے لگی، مگر دل خالی رہا۔ کھانے میں ذائقہ نہیں، خوابوں میں سکون نہیں۔ فون پر ماں کی آواز سن کر آنکھیں نم ہو جاتیں، باپ کے “خیریت ہے بیٹا؟” کہنے میں وہ سکون ملتا جو پورے شہر میں کہیں نہیں تھا۔
_____*کبھی کبھی* رات کو کھڑکی کے پار چاند دیکھتا ہوں تو لگتا ہے یہی چاند ماں کے صحن میں بھی چمک رہا ہوگا۔ بس فرق اتنا ہے کہ وہاں چاندنی کے ساتھ دعائیں ہیں، اور یہاں تنہائی۔
_____*کبھی* سوچتا ہوں روزگار نے زندگی تو دی، مگر جینے کا سبب چھین لیا۔
اور ہر صبح جب اسکول کے راستے پر نکلتا ہوں، دل کہتا ہے:
*"کاش یہ سفر واپسی کا ہوتا…"*
***

 
Design by Wordpress Theme | Bloggerized by Free Blogger Templates