یومِ جمہوریہ( سوال، شعور اور ذمہ داری)
از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو 
(معلمہ و قلم کار پونے مہانگر پالیکا)


         یومِ جمہوریہ بھارت کی تاریخ کا وہ روشن دن ہے جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزادی محض اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ ایک منظم، باوقار اور ذمہ دار قومی زندگی کا آغاز ہے۔ 26 جنوری 1950 کو جب آئینِ ہند نافذ ہوا تو یہ اعلان ہوا کہ اس ملک کی بنیاد افراد کی خواہشات پر نہیں بلکہ قانون، انصاف اور مساوات پر ہوگی۔ یہی دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس آئینی روح کے ساتھ جینے کی کوشش کر رہے ہیں یا جمہوریت کو صرف ایک رسمی تہوار تک محدود کر چکے ہیں۔


جمہوریت محض ووٹ ڈالنے یا حکومت بنانے کا نظام نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری عمل ہے، جس میں سوال کی گونج، شعور کی روشنی اور ذمہ داری کا احساس بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی سماج میں سوال کرنے کی روایت ختم ہو جائے تو وہاں جمود پیدا ہو جاتا ہے، اور اگر شعور مفقود ہو جائے تو آزادی بے معنی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر ذمہ داری کا احساس ختم ہو جائے تو حقوق بھی غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ یومِ جمہوریہ ہمیں انہی تین بنیادی ستونوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔سوال کرنا جمہوریت کی زندگی ہے۔ سوال انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور نظام کو جواب دہ بناتا ہے۔ سوال نہ ہوں تو اقتدار بے لگام ہو جاتا ہے اور عوام خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ آئینِ ہند ہر شہری کو اظہارِ رائے اور سوال کا حق دیتا ہے، مگر یہ بھی سکھاتا ہے کہ سوال کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ انتشار۔ تعمیری سوال معاشرے کو جوڑتے ہیں جبکہ منفی اور نفرت انگیز رویے جمہوری اقدار کو کمزور کرتے ہیں۔


شعور وہ چراغ ہے جو آزادی کے اندھیروں میں روشنی فراہم کرتا ہے۔ بغیر شعور کے آزادی ایک کھوکھلا نعرہ بن جاتی ہے۔ باشعور شہری وہ ہوتا ہے جو خبر اور افواہ میں فرق کر سکتا ہے، جو جذبات کے بجائے عقل سے فیصلے کرتا ہے اور جو اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کا حسن سمجھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں شعور سے محروم ہوئیں تو ان کی آزادی خطرے میں پڑ گئی۔ یومِ جمہوریہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آئین کو سمجھنا، قانون کا احترام کرنا اور دوسروں کے حقوق کو تسلیم کرنا ہی اصل حب الوطنی ہے۔


ذمہ داری جمہوریت کا وہ پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز تو بلند کرتے ہیں، مگر فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ذمہ داری کے بغیر حقوق کی حفاظت ممکن نہیں۔ ایک ذمہ دار شہری قانون کی پاسداری کرتا ہے، ووٹ کو امانت سمجھتا ہے، عوامی املاک کی حفاظت کرتا ہے اور سماج میں امن و رواداری کو فروغ دیتا ہے۔ جب ہر فرد یہ محسوس کرے کہ اس کے اعمال کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے تو جمہوریت مضبوط بنیادوں پر قائم رہتی ہے اسلامی و اخلاقی تعلیمات بھی سوال، شعور اور ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔ قرآنِ کریم میں بارہا غور و فکر اور عقل کے استعمال کی دعوت دی گئی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ سوال کرنا ایمان کے خلاف نہیں بلکہ فہم و بصیرت کی علامت ہے۔ اسلام میں ہر انسان اپنے عمل کا جواب دہ ہے، چاہے وہ ذاتی زندگی ہو یا اجتماعی معاملات۔ عدل، امانت داری اور سچائی وہ اقدار ہیں جو اسلامی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام کی روح بھی ہیں۔ اس طرح دینی تعلیمات اور آئینی اقدار ایک دوسرے کی تکمیل کرتی نظر آتی ہیں۔

        نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، اور جمہوریت کی بقا بھی بڑی حد تک انہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر نوجوان باشعور، سوال کرنے والے اور ذمہ دار ہوں تو قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے، اور اگر وہ بے حسی اور لاپرواہی کا شکار ہوں تو مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ یومِ جمہوریہ نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ محض تماشائی نہ بنیں بلکہ فعال، باخبر اور باکردار شہری بن کر جمہوریت کو مضبوط کریں۔ یومِ جمہوریہ ہمیں جشن منانے کے ساتھ ساتھ خود احتسابی کی دعوت بھی دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف حکومت کا نام نہیں بلکہ عوام کے سوال، شعور اور ذمہ داری کا مجموعہ ہے۔ جب سوال زندہ رہیں. شعور بیدار ہو اور ذمہ داری دیانت داری سے ادا کی جائے تو ایک مضبوط، منصف اور باوقار قوم وجود میں آتی ہے۔ اسی عہد کے ساتھ یومِ جمہوریہ منانا ہی اس دن کا اصل پیغام ہے۔

 
Design by Wordpress Theme | Bloggerized by Free Blogger Templates