کان کا روزہ

 یقینا کان،آنکھ اور دل ان میں سے ہرایک کے بارے میں سوال ہونگا(سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر ٣٦ )
روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کے لئے ہے جب تک ہم کسی کو بتاتے نہیں کہ میں روزے سے ہوں کسی کو پتہ نہیں چلتا ۔روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ ہمیں سر تا پا تک اپنے ہر اعضاء کو اللہ کی خوشنودی کے لئے استعمال کرنا چاہئے کچھ باتوں پر 
عمل کرکے ہم یہ کر سکتے ہیں 

١.غیبت اور بہتان سننے سے انکار ۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم روزہ میں غیبت چغلی سے بچتے ہیں لیکن ہم لوگوں کا منہ تو نہیں روک سکتے لیکن ہم بغیر کسی کی دلآزاری کییے بنا انھیں روک سکتے ہیں سب سے پہلے تو فون سے رابطہ قائم کرنے سے پرہیز کرے ضرورت پڑنے پر ہی اسکا استعمال کرنا چاہئے ۔دوسرا جو لوگ اطراف میں ہے تو مختصر میں گفتگو ختم کرے اور اگر موضوع چھڑ ہی جاے تو مصروفیت کا بہانہ بناتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کرے۔

٢.قرآن اور اچھی نصیحت سننے کو ترجیح دیں ۔
کہتے ہیں اللہ والوں کی صحبت اختیار کرنے سے گناہ کم اور صواب زیادہ ہوتے ہیں اک وقت مقرر کرے کب تلاوت کرنی ہے اگرچہ مصروفیت زیادہ ہے تو بیانات تلاوت مع ترجمع سننے کو ترجیح دیں ۔

٣.فحش اور بے حیائ پر مبنی گفتگو سے بچے۔
جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو جھوٹ بولنے ،سننے سے تو بچتے ہیں لیکن اپنی گفتگو میں ڈرامے ،ناول،بے مطلب کے چیزوں پر تبصروں سے احتیاط نہیں کرتے لیکن اب ہمیں عہد کرنا ہے کہ اپنی گفتگو میں احتیاط کرے گے اکثر ہم دنیاوی تبصرے کرنے میں ہنسی مذاق میں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اگر ہم فضول گوئی سے پرہیز کرے تو بہت حد تک گناہ سے بچ سکتے ہیں۔

٤.ذکر اللہ اور ذکر رسول اور خیر کی باتیں سننا ۔
رمضان کے مبارک مہینے میں خواتین اور ذیادہ مصروف ہو جاتی ہے لیکن ان مصروفیت میں سے جب بھی وقت ملے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ذکر کرے درود پاک پڑھے اور بیانات سنے خیر کی باتیں  کرےان سب چیزوں پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کرے مشکل ضرور ہے نا ممکن نہیں۔
اسطرح ہم کان کا روزہ رکھ سکتے ہیں آے ہم عہد کرے کہ اپنے کان سے صرف حق،خیر اور بھلائی کی باتیں ہی سنے گے انشااللہ اللہ رب العزت کہنے سننے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرماۓ اللہ آپ کا ہمارا سبکا ہامی و ناصر ہو اللہ حافظ ۔

 4



*حادثے جیسے ہیں سب دیکھے ہوئے سمجھے ہوئے*
*کوئی حیرانی نہیں اب آنکھ اور منظر کے بیچ*

کہیں ہم زندہ ہوتے ہوئے مر تو نہیں گئے؟
از قلم: طٰہٰ جمیل نلاّمندو 
( معلمہ و قلم کار پونے مہانگر پالیکا)

ایک دن ہمیں اسکول میں عادت کے بارے میں کچھ سمجھایا گیا تھا۔استاد نے مثال دی کہ جب ہم کسی ناگوار بدبو کو پہلی مرتبہ سونگھتے ہیں تو ہمارا اعصابی نظام فوراً بیدار ہو جاتا ہے۔ ناک کے اندر موجود حساس ریشے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہیں، دل و دماغ کو خبردار کرتے ہیں، اور ہم بے اختیار ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔
       لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اگر ہم اسی بدبو کے ساتھ کچھ وقت گزار لیں تو آہستہ آہستہ وہ ناگواری کم ہونے لگتی ہے، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہی بدبو ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ بدبو ختم ہو گئی ۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اندر احساس مر گیا۔یہی کیفیت سماعت کے ساتھ بھی پیش آتی ہے۔
جب کوئی شخص پہلی بار کسی شور شرابے والے بازار میں داخل ہوتا ہے تو کانوں کو چبھنے والی آوازیں اس کے اعصاب کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ سر میں درد، الجھن اور بےچینی پیدا ہو جاتی ہے۔
لیکن وہی شخص اگر روزانہ اسی ماحول میں رہے، تو چند دنوں بعد اسے وہ شور معمولی لگنے لگتا ہے۔
         جو آوازیں پہلے اذیت تھیں، اب پس منظر کا حصہ بن جاتی ہیں۔اسی لیے بازاروں کے کاریگر، مشینوں میں کام کرنے والے مزدور اور ٹریفک میں دن گزارنے والے لوگ شور کے عادی ہو جاتے ہیں۔کیونکہ حساسیت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔یہی اصول صرف حواس تک محدود نہیں، بلکہ دل، ضمیر اور احساسات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
         شروع میں جب ہم کسی ناانصافی کو دیکھتے ہیں تو دل تڑپ اٹھتا ہے۔کسی غریب کی بے بسی، کسی بچے کے ساتھ زیادتی، کسی عورت کی تذلیل یہ سب ہمیں بےچین کر دیتے ہیں۔لیکن جب یہی مناظر بار بار دیکھنے کو ملیں، جب ہم روز خبروں میں ظلم، جھوٹ اور بےحسی پڑھیں، تو آہستہ آہستہ ہمارے ردِعمل مدھم ہو جاتے ہیں۔پہلے ہم بولتے تھے، پھر صرف افسوس کرتے تھے،
اور آخرکار خاموش ہو جاتے ہیں۔یہ خاموشی عادت نہیں، یہ موت ہے۔احساس کی موت۔
         بالکل اسی طرح جیسے
شروع میں جھوٹ بولتے ہوئے ضمیر ملامت کرتا ہے،لیکن بار بار جھوٹ بولنے سے وہ ملامت بھی خاموش ہو جاتی ہے۔شروع میں گناہ دل کو بوجھل کرتا ہے۔لیکن تسلسل کے ساتھ وہ بوجھ بھی ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے۔شروع میں غلط ماحول اجنبی لگتا ہے،
پھر وہی ماحول نارمل بن جاتا ہے۔اصل المیہ یہ ہے کہ
ہم کسی چیز کے عادی تب ہوتے ہیں، جب ہمارے اندر سے کچھ مر چکا ہوتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ
آج ہم جن برائیوں کو “زمانے کا حصہ” کہہ کر قبول کر چکے ہیں،جن غلطیوں پر سب ہی تو ایسا کرتے ہیں کا لیبل لگا دیا ہے،اور جن ناانصافیوں پر ہم نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ان سب کے بدلے ہمارے اندر کیا کیا مر چکا ہوگا؟
شاید
حساس دل…
جاگتا ہوا ضمیر…
اور سچ کو پہچاننے کی صلاحیت۔ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ۔۔ "کہیں ہم زندہ ہوتے ہوئے مر تو نہیں گئے؟"
       کیونکہ جو شخص ہر چیز کا عادی ہو جائے،وہ دراصل ہر چیز سے بےحس ہو چکا ہوتا ہے۔اور بےحسی زندگی نہیں، ایک خاموش موت ہے۔

 
Design by Wordpress Theme | Bloggerized by Free Blogger Templates