روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کے لئے ہے جب تک ہم کسی کو بتاتے نہیں کہ میں روزے سے ہوں کسی کو پتہ نہیں چلتا ۔روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ ہمیں سر تا پا تک اپنے ہر اعضاء کو اللہ کی خوشنودی کے لئے استعمال کرنا چاہئے کچھ باتوں پر
عمل کرکے ہم یہ کر سکتے ہیں
١.غیبت اور بہتان سننے سے انکار ۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم روزہ میں غیبت چغلی سے بچتے ہیں لیکن ہم لوگوں کا منہ تو نہیں روک سکتے لیکن ہم بغیر کسی کی دلآزاری کییے بنا انھیں روک سکتے ہیں سب سے پہلے تو فون سے رابطہ قائم کرنے سے پرہیز کرے ضرورت پڑنے پر ہی اسکا استعمال کرنا چاہئے ۔دوسرا جو لوگ اطراف میں ہے تو مختصر میں گفتگو ختم کرے اور اگر موضوع چھڑ ہی جاے تو مصروفیت کا بہانہ بناتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کرے۔
٢.قرآن اور اچھی نصیحت سننے کو ترجیح دیں ۔
کہتے ہیں اللہ والوں کی صحبت اختیار کرنے سے گناہ کم اور صواب زیادہ ہوتے ہیں اک وقت مقرر کرے کب تلاوت کرنی ہے اگرچہ مصروفیت زیادہ ہے تو بیانات تلاوت مع ترجمع سننے کو ترجیح دیں ۔
٣.فحش اور بے حیائ پر مبنی گفتگو سے بچے۔
جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو جھوٹ بولنے ،سننے سے تو بچتے ہیں لیکن اپنی گفتگو میں ڈرامے ،ناول،بے مطلب کے چیزوں پر تبصروں سے احتیاط نہیں کرتے لیکن اب ہمیں عہد کرنا ہے کہ اپنی گفتگو میں احتیاط کرے گے اکثر ہم دنیاوی تبصرے کرنے میں ہنسی مذاق میں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اگر ہم فضول گوئی سے پرہیز کرے تو بہت حد تک گناہ سے بچ سکتے ہیں۔
٤.ذکر اللہ اور ذکر رسول اور خیر کی باتیں سننا ۔
رمضان کے مبارک مہینے میں خواتین اور ذیادہ مصروف ہو جاتی ہے لیکن ان مصروفیت میں سے جب بھی وقت ملے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ذکر کرے درود پاک پڑھے اور بیانات سنے خیر کی باتیں کرےان سب چیزوں پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کرے مشکل ضرور ہے نا ممکن نہیں۔