وَلَيَالٍ عَشْر
“اور قسم ہے دس راتوں کی۔”

(سورۃ الفجر: 2)


از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ )  



عشرۂ ذوالحجہ اسلام کے نہایت بابرکت اور عظیم ایام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمتوں، برکتوں اور فضیلتوں سے نوازا ہے۔ رمضان المبارک کے بعد ایک بار پھر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اپنے بندوں کے لیے عبادت، مغفرت اور قربِ الٰہی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہی وہ مبارک دن ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا.

﴿وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾

“اور قسم ہے دس راتوں کی۔”

(سورۃ الفجر: 2)

مفسرینِ کرام کے مطابق اس سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی محبوب اور افضل دن شمار ہوتے ہیں۔ انہی دنوں میں حج جیسی عظیم عبادت ادا کی جاتی ہے، لاکھوں فرزندانِ توحید بیت اللہ میں حاضر ہو کر اپنے رب کے حضور گڑگڑاتے ہیں، میدانِ عرفات دعاؤں، آنسوؤں اور استغفار سے بھر جاتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنتِ قربانی کو زندہ کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا.

﴿وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِىۡۤ اَيَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ﴾

“اور مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں۔”

(سورۃ الحج: 28)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ “ایامِ معلومات” سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دنوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

“ایسے کوئی دن نہیں ہیں جن میں نیک اعمال اللہ تعالیٰ کو ان دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہوں۔”

(صحیح البخاری: 969)

صحابۂ کرامؓ نے دریافت کیا کہ کیا جہاد بھی نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا اور کچھ واپس نہ لایا۔ اہلِ علم نے لکھا ہے کہ جس طرح رمضان المبارک کی آخری دس راتیں سال بھر کی راتوں میں سب سے افضل ہیں، اسی طرح ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن پورے سال کے دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں.

“ذوالحجہ کے پہلے دس دن سال کے تمام دنوں سے افضل ہیں، اور رمضان کی آخری دس راتیں سال کی تمام راتوں سے افضل ہیں۔”

(مجموع الفتاویٰ: 25/287)

ان مبارک دنوں کی ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ ان میں نیک اعمال کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور ذکر، تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا.

“ان دنوں میں کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید پڑھا کرو۔”

(مسند احمد: 5446)

انہی دنوں میں یومِ ترویہ، یومِ عرفہ، مزدلفہ کی بابرکت رات، حج اور قربانی جیسی عظیم عبادات ادا کی جاتی ہیں۔ خاص طور پر یومِ عرفہ کے روزے کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔”

(صحیح مسلم: 1162)

اللہ تعالیٰ نے حج کی فرضیت بیان کرتے ہوئے فرمایا.

﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾

“اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔”

(سورۃ آل عمران: 97)

اسی طرح قربانی کے بارے میں حکم دیا گیا:

﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾

“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”

(سورۃ الکوثر: 2)

یہ مبارک دن دراصل بندۂ مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہیں تاکہ وہ اپنے اعمال سنوارے، عبادات میں اضافہ کرے، گناہوں سے توبہ کرے اور اپنے رب کا قرب حاصل کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ان دنوں میں نمازوں کی پابندی کریں، قرآنِ مجید کی تلاوت بڑھائیں، نفلی روزوں خصوصاً یومِ عرفہ کے روزے کا اہتمام کریں، صدقہ و خیرات کریں، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، صلہ رحمی اختیار کریں اور ہر قسم کے گناہوں اور فضولیات سے خود کو بچائیں۔ کیا معلوم کون سا چھوٹا سا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو کر ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عشرۂ ذوالحجہ کی حقیقی برکتیں نصیب فرمائے، ان مبارک دنوں میں خوب نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری عبادات، دعائیں اور قربانیاں قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رضا، رحمت اور مغفرت سے مالا مال فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

 
Design by Wordpress Theme | Bloggerized by Free Blogger Templates