اقبالؔ کا خواب، ٹیپوؔ کی بہادری، آزادؔ کی بصیرت۔۔۔۔۔
از: طٰہٰ نلّامندو
معاون معلّمہ، پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ
اردو زبان ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اس زبان نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے، محبت، اتحاد اور علم کی روشنی پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ہر سال نومبر کا دوسرا ہفتہ ہماری تاریخ کے اُن درخشاں ستاروں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے علم، زبان، اور وطن کی خدمت میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔
۹ نومبر کو ہم علامہ اقبالؔ کا یومِ پیدائش مناتے ہیں ۔ وہ شاعرِ مشرق جنہوں نے اپنی شاعری سے مسلمانوں کے دلوں میں خودی، بیداری، اور عزتِ نفس کا جذبہ پیدا کیا۔ اقبالؔ نے کہا تھا۔۔۔
"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے۔ اقبالؔ نے تعلیم کو روحِ حیات قرار دیا اور نوجوانوں کو علم، عمل، اور یقینِ محکم کا درس دیا۔
۱۰ نومبر کو ٹیپو سلطانؒ کی پیدائش کا دن منایا جاتا ہے۔ٹیپو سلطانؒ بہادری، قربانی اور حب الوطنی کی روشن مثال ہیں۔ انھوں نے وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی۔ ان کا قول آج بھی ہمیں جوش و ولولہ دیتا ہے“شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”
۱۱ نومبر کو مولانا ابوالکلام آزادؒ کا یومِ پیدائش ہے، جو ہمارے ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم تھے۔ اسی دن کو ہم یومِ تعلیم کے طور پر مناتے ہیں۔
مولانا آزادؒ نے تعلیم کو انسان کی سب سے بڑی ضرورت بتایا۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانیت کی ترقی کا زینہ ہے۔
ان کے یہ الفاظ ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہیں
“تعلیم انسان کو محض جاہل ہونے سے نہیں بچاتی بلکہ اسے انسان بناتی ہے۔”
ان تینوں عظیم شخصیات کی زندگیاں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ زبان، علم، اور کردار کے ذریعے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔اسی لیے اس ہفتے کو ہم "یومِ اردو و تعلیم ہفتہ" کے طور پر مناتے ہیں۔
اس موقع پر اسکولوں میں مختلف سرگرمیاں جیسے تقریری مقابلے، کوئز، اردو شاعری کے پروگرام، ٹیپو سلطانؒ پر ڈرامہ، اور تعلیمی نمائشیں منعقد کی جاتی ہیں تاکہ بچے نہ صرف اپنی زبان سے محبت کریں بلکہ علم کی اہمیت کو بھی سمجھیں۔بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ علم ہی وہ طاقت ہے جو جہالت کے اندھیروں کو مٹا سکتی ہے۔اقبالؔ کے الفاظ میں۔۔۔
"علم کی روشنی ہر دل میں روشن ہو،
یہی تعلیم کا مقصد اور اردو کا پیغام ہو۔"
یومِ اردو و تعلیم ہفتہ منانا دراصل اپنی زبان، اپنے ہیروز، اور اپنی تعلیم سے محبت کا اظہار ہے۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اردو زبان کو فروغ دیں، علم کو عام کریں، اور اپنے طلبہ کے دلوں میں حب الوطنی، خودی، اور ۔۔۔ ۔اخلاقی اقدار کو زندہ رکھیں.