ازقلم، ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی صاحب ،مالیگاؤں
مکہ، وہ سرزمین جسے اللہ نے اپنی وحدانیت کے اعلان کے لیے چنا، جہاں آدم علیہ السلام کے قدموں نے زمین کو پہچان۔ دی، جہاں ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھوں نے عشق کے گھر کو تعمیر کیا، جہاں حرا کی خاموشی میں وحی کی پہلی صدا گونجی — "اقرأ" اور یوں کائنات نے پڑھنا، لکھنا، بولنا سیکھا۔
یہ مکہ ہے، جہاں پتھروں نے توحید کا درس دیا، جہاں وادیوں میں تلبیہ کی گونج بسی، جہاں دلوں نے بندگی کا مفہوم سمجھا، جہاں آنکھوں نے پہلی بار "لبیک" کہنا سیکھا۔ یہ وہ شہر ہے جہاں عبادت سانس بن جاتی ہے، جہاں طواف وقت کو تھما دیتا ہے، جہاں ہر قدم گناہوں کی معافی لکھتا ہے۔ یہ مکہ، اللہ کے گھر کی چوکھٹ ہے جہاں زمین کا سینہ سجدے میں اور آسمان کا دل گریہ میں ڈوبا رہتا ہے۔ یہ شہر فقط ایک مقام نہیں، یہ بندگی کا مرکز، عشقِ الٰہی کا آئینہ اور صدیوں سے بہتی ہوئی بخشش کی ندی ہے۔ اس کے نام بھی اتنے ہی مقدس ہیں جتنی اس کی مٹی ، ہر نام میں نور کی لہر، ہر لقب میں توحید کا عکس۔ کہیں یہ بکہ ہے، کہیں ام القریٰ، کہیں بلدالامین، کہیں البلد الحرام۔
ہر نام میں حرم کی ہیبت، بیت اللہ کی حرارت، اور رب کی قربت جھلکتی ہے۔ ذیل میں مکہ مکرمہ کے چند نام نشانِ خاطر فرمائیں:
مکۃ المکرمہ — کرامتوں کی زمین
یہ وہ بستی ہے جسے اللہ نے مکرم فرمایا،
جس کے ہر ذرّے میں دعا کا اثر، ہر ہوا میں ذکر کا اثر۔ یہاں کے طواف میں کرامتیں برستی ہیں، یہاں کی راتیں استغفار کی بارش میں بھیگی رہتی ہیں۔ یہ صرف زمین نہیں رب کے نور کا فرش ہے۔
البلد الحرام — حرمتوں کی وادی
یہ وہ شہر ہے جس کی حرمت عرش سے نازل ہوئی۔ جہاں درخت کاٹنا گناہ، پرندوں کا شکار جرم، جہاں پتھر بھی اللہ کے اذن سے خاموش کھڑے ہیں۔ یہ حرمتوں کی وادی ہے جہاں نفس بھی ادب سیکھتا ہے،
جہاں دل بھی اجازت مانگ کر دھڑکتا ہے۔
بکّہ — سجدوں کا مرکز
یہ وہ نام ہے جو سجدوں کے جھکنے سے وجود میں آیا۔ یہاں کا ہر پتھر، ہر ذرہ سجدے کی لذت سے واقف ہے۔ یہ وہ زمین ہے جس پر پہلی بار انسان نے سجدہ کیا، جہاں بندگی نے پہچان پائی اور بندے نے خدا کو جانا۔
ام القریٰ — بستیوں کی ماں
یہ وہ شہر ہے جہاں سے تمام بستیوں کو زندگی ملی۔ یہی زمین تمام زمینوں کی ماں ہے، یہی وہ گود ہے جس میں انسانیت نے پہلا سجدہ کیا۔ یہاں سے ہدایت کے چشمے بہے اور دنیا نے خدا کے نام پر جینے کا سلیقہ سیکھا۔
البلد الامین — امن کا پیکر
یہ وہ شہر ہے جہاں خوف داخل نہیں ہو سکتا۔ جہاں ظالم بھی آ جائے تو محفوظ ہو جاتا ہے، جہاں دشمن بھی آتا ہے تو دل نرم ہو جاتا ہے۔ یہ امن کی پناہ گاہ ہے، جہاں فرشتے پہرہ دیتے ہیں اور دل سلامتی میں بس جاتے ہیں۔
البیت العتیق — قدامتِ عشق کی علامت
یہ وہ گھر ہے جو ازل سے اللہ کا ہے۔ نہ اس پر وقت غالب آیا، نہ فنا کا سایہ۔ یہ عتیق ہے ازلی، ابدی، پاکیزہ۔ یہاں کی دیواریں بندگی کی تاریخ لکھتی ہیں اور غلاف کے نیچے عشق سجدہ کرتا ہے۔
البلد الطیب — پاکیزگی کا استعارہ
یہاں کی مٹی پاک، یہاں کی ہوا طیب، یہاں دلوں کا میل دھل جاتا ہے، یہاں نیتیں نکھر جاتی ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بندہ خود کو دوبارہ دریافت کرتا ہے، اور کہتا ہے: "میں عبد ہوں، بس عبد۔"
البلد النور — نورِ توحید کا مرکز
یہ وہ جگہ ہے جہاں کعبہ کھڑا ہے، جہاں لا الٰہ الا اللہ کی روشنی پھوٹی۔ یہاں سے نور پھیلا تو دلوں میں ایمان جاگا۔ یہ شہر چراغِ توحید ہے، جس کی لَو کبھی مدھم نہیں ہوتی۔
البلد الدعاء — دعا کی بستی
یہ وہ مقام ہے جہاں دعا رد نہیں ہوتی،
جہاں ہاتھ اٹھتے نہیں کہ قبولیت جھک آتی ہے۔ یہاں آنکھوں کے آنسو لفظ نہیں، وسیلہ ہوتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بندگی بات نہیں کرتی، بس خاموشی میں سب کہہ جاتی ہے۔
البلد السجود — سجدوں کا گھر
یہاں زمین سجدہ گاہ ہے اور آسمان محراب۔ یہاں جھکنا سعادت ہے، گرنا نجات۔ یہاں ہر سجدہ خود رب کا استقبال ہے۔
القادسۃ — پاک کرنے والی زمین
یہ مکہ، قلوب کو طہارت عطا کرتا ہے۔ یہاں پہنچ کر نیتیں نکھر جاتی ہیں، آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ مٹی ہے جو انسان کو گناہوں سے دھو دیتی ہے اور بندگی کے لباس میں سجاتی ہے۔
المرزوقۃ — رزق و برکت کا مرکز
یہ شہر فقر نہیں دیتا، قناعت دیتا ہے۔
یہاں کے لقمہ میں شکر ہے، یہاں کی ہوا میں برکت۔ یہ وہ زمین ہے جہاں بھوکا بھی سیر ہوجاتا ہے۔
بلد الصفاء — دلوں کا آئینہ
یہاں غبار نہیں، صفا ہے۔ یہاں کے دل آئینے کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ خود کو دیکھ کر خدا کو پہچان لیتا ہے۔
الناسۃ — کھینچ لینے والا شہر
یہ شہر خود نہیں بلاتا بلکہ کھینچ لیتا ہے۔
جو ایک بار آیا، وہ بار بار آتا ہے۔ یہ مکہ ہے رب کے عشق کا محور، جو دلوں کو اپنی کشش میں گرفتار رکھتا ہے۔
ام النور — روشنیوں کی ماں
یہاں سے وہ نور پھوٹا جو مدینہ تک پہنچا،
اور مدینہ سے عالمِ انسانیت تک۔ یہ مکہ، وہ گود ہے جس نے ایمان کو جنم دیا،
اور جس کے آغوش سے رسالت کا نور نکلا۔
اے مکہ!
تو زمین کا دل ہے، عبادت کا محور، اور عشقِ الٰہی کا پہلا منظر۔ تیری وادیوں میں جو آنسو گرتا ہے وہ بخشش بن جاتا ہے۔ تیری ہوا جو چھوتی ہے، وہ ایمان بن جاتی ہے۔ تو وہ شہر ہے جہاں بندگی شروع ہوتی ہے اور رضا پر ختم۔ تیری پہاڑیاں "وحدت" کی علامت ہیں؛ تیرا غبار عام نہیں، حرم کا تعویذ ہے۔ تو حرمِ خدا ہے جہاں انسان فنا ہوتا ہے اور خدا مل جاتا ہے۔
اے مکہ، تیرے ناموں کی کوئی انتہا نہیں؛
ہر نام تیری عظمت کا آئینہ، ہر لقب تیری حرمت کا اعلان۔ تو کبھی "بکہ" کہلاتا ہے، کبھی "بلد الامین" ، کبھی" ام القریٰ" ، کبھی "البیت العتیق" اور ہر نام تیرے وجود سے بندگی کی خوشبو لاتا ہے۔ تو وہ شہر ہے جہاں سے 'اقرأ" کی آواز اٹھی اور جہاں سے کائنات نے سجدہ کرنا سیکھا۔ اے مکہ، تیرا ذکر لبوں پر نہیں، دلوں میں اترتا ہے اور تیرے در پر آ کر انسان نہیں رہتا، عبد بن جاتا ہے۔
___ مشاہد رضوی
یکم نومبر 2025ء بروز سنیچر