یکم رمضان المبارک 1447ھ سے دس رمضان المبارک 1447ھ تک کی روحانی وارداتوں کی ڈائری سے 10 نعتیہ کلام۔ ان دنوں قلم نے جو کچھ لکھا، وہ محض فنی کاوش نہیں بلکہ دل کی تڑپ، آنکھ کی نمی اور روح کی حاضری کا بیان ہے۔ ہر نعت ایک دن کی سعادت ہے اور ہر دن حضورِ اقدس ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا ایک نذرانہ۔ احباب ملاحظہ فرمائیں:

نیاز مند : محمد حسین مشاہد رضوی 



1 رمضاں المبارک کی سعادت : 

صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم 
روش بدلنے لگی زندگی، حضور کرم
ہوئی ہے چاروں طرف تیرگی، حضور کرم 
ہو جس سے راضی خداوندِ دوجہاں ہم سے
ہمیں نصیب ہو وہ بندگی، حضور کرم 
گھرے ہیں نرغۂ اعدا میں چار جانب سے
بہت عروج پہ ہے خستگی، حضور کرم
سکون چھن گیا دنیا سے قومِ مسلم کا
نصیب ہو ہمیں دل بستگی، حضور کرم 
نواز دیجیے ابرِ نشاط و راحت سے
غم و الم کی بجھے شعلگی، حضور کرم 
ہمیشہ آپ کی یادوں میں زندگی گزرے
عطا ہو عشق کی وارفتگی، حضور کرم
مشاہد آپ کی نعتیں ہمیشہ لکھتا رہے
رہے ثنا سے ہی وابستگی، حضور کرم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



2 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم 
شکستہ روح کا موسم بھی اب بدلنے لگا 
دیارِ نور میں آیا تو دل سنورنے لگا
لگائی خاکِ مدینہ جو میں نے چہرے پر
وجودِ خاکی مرا خود بخود چمکنے لگا
نظر کے سامنے جب جلوہ گر ہوا روضہ
ہر ایک خواب حقیقت میں میرا ڈھلنے لگا
صدا مِلی جو دُرودوں کی راہِ طیبہ میں 
مرا سکوت بھی نغمات میں مچلنے لگا
فضاے شہرِ محبت شعار ملتے ہی 
بہارِ طیبہ سے مَیں سر بہ سر نکھرنے لگا
پڑی جو چشمِ کرم اک فقیرِ نالاں پر
وجودِ خستہ مرا آپ ہی سنبھلنے لگا
دیارِ طیبہ نے ایسی مسرتیں بخشیں
غبارِ رنج و الم ٹوٹ کر بکھرنے لگا
جو خارِ طیبہ نصیبوں سے مل گیا مجھ کو
تو مثلِ لالۂ خوش رنگ مَیں مہکنے لگا
فریبِ ذات میں کب سے تھا یہ مشاہد گم
نبی کے شہر میں آیا تو خود سے ملنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



3 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم 
مرا شعور ، ہر احساس و حال آپ سے ہے
مرے وجود میں رقصاں نہال آپ سے ہے
حضور آپ کی مجھ پر عنایت ہے پیہم
بہار آسا مرا ماہ و سال آپ سے ہے 
ہمیشہ نظروں میں رہتا ہے گنبدِ خضرا
تصورات کی دنیا بحال آپ سے ہے
عروج آپ سے حاصل ہوا زمانے کو
کمال جو بھی ہے سارا کمال آپ سے ہے
حضور طیبہ میں مل جائے دائمی مسکن
لبوں پہ میرے یہی اک سوال آپ ہے
حضور آپ کو رب نے بنایا ہے قاسم
سبھی کے کاسے میں جود و نَوال آپ سے
ہے کیف دونوں میں بس ہو مگر مدینے کا
سُرورِ ہجر قرارِ وصال آپ سے ہے
مرے ضمیر کی بیدار رہگزر پر جو
چراغ جلتے ہیں اُن میں اجال آپ سے ہے
 
مری تو لَو اے مشاہد لگی ہے مدحت سے 
مرے لہو میں مہکتا خیال آپ سے ہے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



4 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم 
دل میں جب اضطراب دیکھتے ہیں 
سوے عالی جناب دیکھتے ہیں 
نیند بن جاتی ہے عبادت ایک
جب مدینے کے خواب دیکھتے ہیں
خارِ طیبہ کو ہم عقیدت سے
مثلِ تازہ گلاب دیکھتے ہیں
جو بھی دشمن ہیں شاہِ کوثر کے
اُن کا خانہ خراب دیکھتے ہیں
یاد آتے ہی سیرتِ سرور
دل کا بدلا نصاب دیکھتے ہیں
نقشِ نعتِ نبی ابھرتا ہے
جب بھی ام الکتاب دیکھتے ہیں
دل کی دھڑکن میں روضۂ اقدس 
رات دن بے حساب دیکھتے ہیں 
لب پہ نامِ حضور آتے ہی 
منہ میں پھر شہدِ ناب دیکھتے ہیں 
نعت لکھتا ہے یہ مشاہد جب
شعریت میں شباب دیکھتے ہیں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



5 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت : 
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم 
بت خانوں میں کہرام مچا آئے محمد ﷺ
توحید کی پھیلے گی ضیا آئے محمد ﷺ 
اخلاق کی اقدار کی پھیلیں گی ضیائیں 
ساتھ اپنے لیے صدق و صفا آئے محمد ﷺ
جینے کا شرَف دخترِ حوّا کو ملے گا
یوں لے کے مساوات و وفا آئے محمد ﷺ
ہر سمت صدا صلِ علیٰ صلِ علیٰ ہے
ہر ذرہ ہوا مدح سرا آئے محمد ﷺ
ظلمت کے سمندر میں اُجالا سا لگے گا
ہر موج کو مل جائے بقا آئے محمد ﷺ
محروم دلوں کو ملی راحت کی بشارت
زخموں کے لیے بن کے شفا آئے محمد ﷺ
انوارِ مسلسل کی ہے تنزیل مشاہد
ہر سمت ہے رحمت کی گھٹا آئے محمد ﷺ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



6 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم 
زندگی ہے مگر پرائی ہے
ان کی نسبت سے جان پائی ہے
دل بھٹکتا تھا دشتِ غفلت میں
ان کی دہلیز یاد آئی ہے
میں جو ٹوٹا تو یہ کھلا مجھ پر
درد و غم میں میں بھی اک بھلائی ہے
میں فقیرِ درِ نبی ٹھہرا
بادشاہی بھی اب پرائی ہے
ان کی مدحت میں ہے قلم سیال
یہ کرم کی کرن سمائی ہے 
کوچۂ یار کے فقیروں نے
سروری کی سند کمائی ہے
ذکرِ طیبہ میں ڈوب کر ہم نے
اپنی ہستی نئی بنائی ہے
شافعِ حشر کی عنایت نے
عمر بھر کی خطا مٹائی ہے
اے مشاہد پڑھو دُرود وہی
جس نے عزت تری بڑھائی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



7 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم 
مرے رسول کی جب بات ہوتی جائے گی
فضا میں نور کی برسات ہوتی جائے گی 
انھیں کے ذکر سے تابندہ دن رہے گا مرا
انھیں سے نور فشاں رات ہوتی جائے گی 
رہے گا نور سے معمور فکر کا خطہ
دُرود پڑھتے رہو نعت ہوتی جائے گی
سلام پڑھنے سے ہوگا سکونِ دل حاصل 
ہجومِ رنج کو بھی مات ہوتی جائے گی
صفاتِ سیدِ عالم لکھے گا جب خامہ
قریبِ نور مری ذات ہوتی جائے گی
لبوں پہ نامِ محمد رہے اگر ہر دم
تو روح منبعِ برکات ہوتی جائے گی
مشاہد اُن کی ثنا کے طفیل شکرِ خدا
فقیرِ نعت کی اوقات ہوتی جائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



8 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت : 
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم 
زندگی ہوتی ہے تنویرِ مدینہ پہ نثار
ظلمتِ قلب و نظر ہوگئی میری ضوبار
ریت کے سینے پہ لکھی ہے کرم کی تحریر
آپ کے نام سے کِھلتا ہے دعا کا گلزار
آپ آئے تو اندھیروں نے سفر چھوڑ دیا
نور کی فوج نے باندھی ہے اجالوں کی قطار
درد کی شام میں جب یادِ نبی چمکی ہے
دل کے ویران نگر میں اتر آئے انوار
چاند شرمائے ہے رخسارِ نبی دیکھ کے جب
ڈوب جاتا ہے فلک، اوڑھ کے نوروں کا عذار
ہم خطاکار سہی، پر یہ کرم کم نہ ہوا
عاصیوں کے لیے ہیں شافعِ محشر سرکار
نامِ احمد سے مہکتی ہے رگِ جان و جگر
جس سے افکارِ مشاہد ہے بہت خوشبودار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



9 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم
حضور مجھ کو  سعادت نصیب ہوجائے 
حضور مصرعۂ مدحت نصیب ہوجائے
حضور نعت سے رشتہ رہے مرا محکم
حضور نعت سے الفت نصیب ہوجائے 
حضور بخشیں ہمیں صدق و عدل و وفا
حضور عز و شرافت نصیب ہوجائے 
حضور آپ کی حرمت پہ جان دے دیں ہم
حضور حسنِ عقیدت نصیب ہوجائے 
حضور آپ کی امت ہے زار و خوں گشتہ
حضور عظمت و شوکت نصیب ہوجائے
حضور چاروں طرف ظلم ہے تباہی ہے
حضور امن و مروت نصیب ہوجائے
حضور روز مشاہد لکھے ثناے کریم
حضور ایسی بصیرت نصیب ہوجائے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



10 رمضان المبارک 1447ھ کی سعادت :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم 
کرم کی چلتی ہے بادِ بہار طیبہ سے
نصیب ہوتا ہے سب کو قرار طیبہ سے
دوبارہ جانے کی پل پل تمنا رہتی ہے 
جو جا کے آتا ہے بس ایک بار طیبہ سے
وہاں کی خاک میں لپٹا ہے نور کا موسم
مہک اٹھا ہے دلِ داغدار طیبہ سے
گناہ دھلتے ہیں اشکوں کے آبشاروں میں
برستی رہتی ہے ایسی پھوار طیبہ سے
جہاں بھی جائیں، وہ خوشبو ہمارے ساتھ رہے
کہ روح باندھ گئی اپنا تار طیبہ سے
میں خاک ہو کے بھی خوش ہوں کہ ان کی امت ہوں
ملا ہے مجھ کو یہ عز و وقار طیبہ سے
مشاہدؔ اب نہ کہیں اور دل لگائے گا
رکھے گا ربط فقط استوار طیبہ سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

  

       کان کا روزہ

 یقینا کان،آنکھ اور دل ان میں سے ہرایک کے بارے میں سوال ہونگا(سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر ٣٦ )
روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کے لئے ہے جب تک ہم کسی کو بتاتے نہیں کہ میں روزے سے ہوں کسی کو پتہ نہیں چلتا ۔روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ ہمیں سر تا پا تک اپنے ہر اعضاء کو اللہ کی خوشنودی کے لئے استعمال کرنا چاہئے کچھ باتوں پر 
عمل کرکے ہم یہ کر سکتے ہیں 

١.غیبت اور بہتان سننے سے انکار ۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم روزہ میں غیبت چغلی سے بچتے ہیں لیکن ہم لوگوں کا منہ تو نہیں روک سکتے لیکن ہم بغیر کسی کی دلآزاری کییے بنا انھیں روک سکتے ہیں سب سے پہلے تو فون سے رابطہ قائم کرنے سے پرہیز کرے ضرورت پڑنے پر ہی اسکا استعمال کرنا چاہئے ۔دوسرا جو لوگ اطراف میں ہے تو مختصر میں گفتگو ختم کرے اور اگر موضوع چھڑ ہی جاے تو مصروفیت کا بہانہ بناتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کرے۔

٢.قرآن اور اچھی نصیحت سننے کو ترجیح دیں ۔
کہتے ہیں اللہ والوں کی صحبت اختیار کرنے سے گناہ کم اور صواب زیادہ ہوتے ہیں اک وقت مقرر کرے کب تلاوت کرنی ہے اگرچہ مصروفیت زیادہ ہے تو بیانات تلاوت مع ترجمع سننے کو ترجیح دیں ۔

٣.فحش اور بے حیائ پر مبنی گفتگو سے بچے۔
جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو جھوٹ بولنے ،سننے سے تو بچتے ہیں لیکن اپنی گفتگو میں ڈرامے ،ناول،بے مطلب کے چیزوں پر تبصروں سے احتیاط نہیں کرتے لیکن اب ہمیں عہد کرنا ہے کہ اپنی گفتگو میں احتیاط کرے گے اکثر ہم دنیاوی تبصرے کرنے میں ہنسی مذاق میں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اگر ہم فضول گوئی سے پرہیز کرے تو بہت حد تک گناہ سے بچ سکتے ہیں۔

٤.ذکر اللہ اور ذکر رسول اور خیر کی باتیں سننا ۔
رمضان کے مبارک مہینے میں خواتین اور ذیادہ مصروف ہو جاتی ہے لیکن ان مصروفیت میں سے جب بھی وقت ملے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ذکر کرے درود پاک پڑھے اور بیانات سنے خیر کی باتیں  کرےان سب چیزوں پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کرے مشکل ضرور ہے نا ممکن نہیں۔
اسطرح ہم کان کا روزہ رکھ سکتے ہیں آے ہم عہد کرے کہ اپنے کان سے صرف حق،خیر اور بھلائی کی باتیں ہی سنے گے انشااللہ اللہ رب العزت کہنے سننے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرماۓ اللہ آپ کا ہمارا سبکا ہامی و ناصر ہو اللہ حافظ ۔

 4



*حادثے جیسے ہیں سب دیکھے ہوئے سمجھے ہوئے*
*کوئی حیرانی نہیں اب آنکھ اور منظر کے بیچ*

کہیں ہم زندہ ہوتے ہوئے مر تو نہیں گئے؟
از قلم: طٰہٰ جمیل نلاّمندو 
( معلمہ و قلم کار پونے مہانگر پالیکا)

ایک دن ہمیں اسکول میں عادت کے بارے میں کچھ سمجھایا گیا تھا۔استاد نے مثال دی کہ جب ہم کسی ناگوار بدبو کو پہلی مرتبہ سونگھتے ہیں تو ہمارا اعصابی نظام فوراً بیدار ہو جاتا ہے۔ ناک کے اندر موجود حساس ریشے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہیں، دل و دماغ کو خبردار کرتے ہیں، اور ہم بے اختیار ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔
       لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اگر ہم اسی بدبو کے ساتھ کچھ وقت گزار لیں تو آہستہ آہستہ وہ ناگواری کم ہونے لگتی ہے، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہی بدبو ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ بدبو ختم ہو گئی ۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اندر احساس مر گیا۔یہی کیفیت سماعت کے ساتھ بھی پیش آتی ہے۔
جب کوئی شخص پہلی بار کسی شور شرابے والے بازار میں داخل ہوتا ہے تو کانوں کو چبھنے والی آوازیں اس کے اعصاب کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ سر میں درد، الجھن اور بےچینی پیدا ہو جاتی ہے۔
لیکن وہی شخص اگر روزانہ اسی ماحول میں رہے، تو چند دنوں بعد اسے وہ شور معمولی لگنے لگتا ہے۔
         جو آوازیں پہلے اذیت تھیں، اب پس منظر کا حصہ بن جاتی ہیں۔اسی لیے بازاروں کے کاریگر، مشینوں میں کام کرنے والے مزدور اور ٹریفک میں دن گزارنے والے لوگ شور کے عادی ہو جاتے ہیں۔کیونکہ حساسیت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔یہی اصول صرف حواس تک محدود نہیں، بلکہ دل، ضمیر اور احساسات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
         شروع میں جب ہم کسی ناانصافی کو دیکھتے ہیں تو دل تڑپ اٹھتا ہے۔کسی غریب کی بے بسی، کسی بچے کے ساتھ زیادتی، کسی عورت کی تذلیل یہ سب ہمیں بےچین کر دیتے ہیں۔لیکن جب یہی مناظر بار بار دیکھنے کو ملیں، جب ہم روز خبروں میں ظلم، جھوٹ اور بےحسی پڑھیں، تو آہستہ آہستہ ہمارے ردِعمل مدھم ہو جاتے ہیں۔پہلے ہم بولتے تھے، پھر صرف افسوس کرتے تھے،
اور آخرکار خاموش ہو جاتے ہیں۔یہ خاموشی عادت نہیں، یہ موت ہے۔احساس کی موت۔
         بالکل اسی طرح جیسے
شروع میں جھوٹ بولتے ہوئے ضمیر ملامت کرتا ہے،لیکن بار بار جھوٹ بولنے سے وہ ملامت بھی خاموش ہو جاتی ہے۔شروع میں گناہ دل کو بوجھل کرتا ہے۔لیکن تسلسل کے ساتھ وہ بوجھ بھی ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے۔شروع میں غلط ماحول اجنبی لگتا ہے،
پھر وہی ماحول نارمل بن جاتا ہے۔اصل المیہ یہ ہے کہ
ہم کسی چیز کے عادی تب ہوتے ہیں، جب ہمارے اندر سے کچھ مر چکا ہوتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ
آج ہم جن برائیوں کو “زمانے کا حصہ” کہہ کر قبول کر چکے ہیں،جن غلطیوں پر سب ہی تو ایسا کرتے ہیں کا لیبل لگا دیا ہے،اور جن ناانصافیوں پر ہم نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ان سب کے بدلے ہمارے اندر کیا کیا مر چکا ہوگا؟
شاید
حساس دل…
جاگتا ہوا ضمیر…
اور سچ کو پہچاننے کی صلاحیت۔ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ۔۔ "کہیں ہم زندہ ہوتے ہوئے مر تو نہیں گئے؟"
       کیونکہ جو شخص ہر چیز کا عادی ہو جائے،وہ دراصل ہر چیز سے بےحس ہو چکا ہوتا ہے۔اور بےحسی زندگی نہیں، ایک خاموش موت ہے۔

 



از قلم 

عظمیٰ ناز تجمل بیگ 

💪خود اعتماد خاتون بنیں🧕

 غور وفکر کی بات ہے کہ ہمیں (خواتین)کو کمزور رکھنے میں دنیا کو فائدہ ہے کیونکہ جیسے ہی ہم ذہنی طور پر مظبوط بن گئیں ہم خود بخود خود اعتماد بن جاءیگے ۔لوگ ہمیں قابو میں کرنا بند کردینگے اور عزت دینا شروع کردینگے۔سنو ہمیں کسی سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے نہ کسی مرد سے نہ کسی رشتے سے نہ دنیا کی بکواس ایکسییپٹیشن سے ہمارا اصل دشمن ہمارا دماغ ہےجب ہمارا دماغ کمزور ہو تا ہے تو دنیا ہمیں قابو میں کرنے کی کوششیں کرتیں ہیں اور جب دماغ مضبوط ہوتا ہے تو دنیا ہمیں چھو بھی نہیں سکتی اور آج ہم ایسا ہی مضبوط ذہن ترتیب دینگے سب سے پہلا قدم 


کوءی بہانہ نہیں صرف حقیقت پسندی ۔


اگر ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر بکھر جاتے ہیں لوگوں کی باتوں کو دل پر لیلیتے ہیں تو ایک طنز ،ایک نظر انداز کرنے والی نظر کچھ جملےاور ہمارا پورا دن برباد کرتے ہیں سنلیں یہ دنیا ہمیں کچرا سمجھ کر فٹ پاتھ پر پھینک دیںگی کیونکہ دنیا مضبوط عورت سے ڈرتی ہے اور کمزور عورتوں کو قابو میں کرتی ہیں۔آج خود سے وعدہ کرو کہ میں کمزور نہیں مضبوط بنوں گی اپنے دماغ کو مضبوط بنانا میرا مقصد ہے۔آج ہم ٥ پانچ ایسے طریقے سیکھے گے جو خواتین کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہونگے انشااللہ ۔

١.ہم اپنی پہچان خود بناے۔ ہمیں اپنا آپ صابت کرنے کےلئے کسی اور کے سہارے کی ضرورت نہیں بہترین سہارا،، اللہ تعالی ،،کا ہے دنیا کے ساتھ ساتھ دین کی رسی بہی مضبوطی سے پکڑے،، انشااللہ وہ رب العزت،، ہمیں تھامے رکھیں گا۔انسان کی اصل قوت اسکے اندر ہوتی ہے ،ہمارے مضبوط فیصلے میں ،ہماری پسند میں ،ہمارے انتخابات میں 

ہمارے مضبوط ہونے کا پتہ لگتا ہے' ذرا غور کیجئے ایک ایسی خاتون جو ذہنی سطح پر مضبوط ہو۔ نا وہ کسی کو متاثر کرنا چاہتی ہےنا ہی خود کو اچھا ثابت کرنا چاہتی ہے نہ بنا وجہ بولتی ہے اسکی خود اعتمادی اسکی پہچان بن جاتی ہے ۔اور اسکی پرزینٹ ہی ایک اسٹیٹمینٹ بن جاتی ہے اور سب سے دلچسپ بات ایک خاتون جب اپنی پہچان خود بناتی ہے تو لوگ اسے سے ڈرتے نہیں بلکہ اسکی عزت کرتے ہیں' 

کیونکہ جو انسان خود کے بارے میں صاف ہوتا ہے اسے پریشان کرنا ،چالاکی کرنا ،یا قابو میں رکھنا آسان نہیں ہوتا یہی وجہ ہےکہ ایسی خواتین بہت خاص ہوتی ہے اور خاص اشیاء کی ہمیشہ قدر کی جاتی ہے ایک بات ہمشہ یاد رکھو زندگی میں کو ئی بہی موڑ آے کوی بہی شخص آے یا جائے کوی بہی رشتہ کمزور یا مضبوط ہو سب سے پہلے ہمیں خود کا انتخاب کرنا ہے کیونکہ اگر ہم نے خود کو کھو دیا تو دنیا ہمارے لیۓ بے معنی ہے اپنے آپ سے کہتے رہو کہ میری خود اعتمادی میری پہچان ہے اور مجھے اپنی ذات پر فخر ہے۔


٢.کم ذہن لوگوں کو خود پر حاوی نہ ہونے دے۔

سچائی ہے کہ اکثر زندگی میں زیادہ نقصان بڑے طوفانوں سے نہیں چھوٹے لوگوں کی چھوٹی باتوں نے کیا ہے ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا اور آہستہ آہستہ انکی کم ذہنیت ہمارے ذہنی قوت ہماری خوشحالی اور ہماری صلاحیتوں کو نگل لیتی ہے جو انسان خود کچھ بہتر نہیں کرپاتے اسلیے دوسروں کو کمتر بتا کر مطمئن ہو جاتےہیں ۔ خبر ہے ہماری سب سے بڑی کمزروی کیا ہے؟ ہم ہر کس کی بات دل پر حاوی کرلیتے ھیں ایک چھوٹا سا طنزیہ جملہ ہمیں گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں تک پریشان کر سکتا ہے کسی نے جسمانی طور پر برا بول دیا کسی نے طرز زندگی پر طنز کردیا کسی نے ہماری ذاتی رشتوں ناطوں کو جانچا اور ہم بیوقوفوں جیسے گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں مہینوں تک وہ ہی دہراتے ہیں جیسے کوی ضروری اشتھار ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بارے میں تزات بولنے والے ٩٠/افراد یا تو آپ سے بعض رکھتے ہیں یا وہ خود ذہنی طور پر بکھرے پڑے ہیں یا خود سے ہی ناخوش ہیں وہ خود اپنی زندگی سوار نہیں پاتے اسلیے وہ دوسروں کی خود اعتمادی کو پست کرکے اپنی انا کو وقتیکہ تسکین پہنچاتے ہیں اور ہم ایسے کمزرفو کی باتوں کو اپنے اندر زہر کی طرح پالتے ہیں اور یہ ہی سب سے بڑا خود اعتمادی کو پست کرنے والا خسارا ہے سوچے کسی کی کمزرفی آپ کی پورے دن کی قوت کو پست کردے تو آپ کا کتنا وقت ضایع ہو گیا کیا یہ ہمارے خود کے ساتھ نا انصافی نہیں کیا ہمارے جذبات اتنے سستے ہیں کہ ہر کوی ہماری دل آزاری کردے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے لیے کونسا جملہ معنی رکھتاہے کچھ آوازیں صرف نظر انداز کرنے کیلئے ہوتی ہے کسی دانشور نے کہاکہ ،،کتوں کے ساتھ بھوکا نہیں جاتا ،،ذہنی طور پر مظبوط عورت وہی ہوتی ہے جو فیصلہ لیتی ہے جو اپنے جذبات اور احساسات کو قابو میں رکھنا جانتیں ہے وہ سمجھتی ہے کہ ردعمل دینا بھی ایک سہولت فراہم کرنا ہے اور یہ سہولت ہر کسی کو مہیا نہیں کرای جاتی وہ جانتی ہے کہ خاموشی بھی ایک جواب ہے ایک بات ہمیشہ یاد رکھے ہمارا دماغ ہمارے گھر کا ماسٹر بیڈروم ہے ہر کوی اسمیں رہنے لایق نہیں ہوتا جو لوگ ہمیں نیچا گرانے کی کوشش کریں انہیں ہمیں اپنے ذہن سے نکالنا ہوگا۔

٣.مشکل وقت میں خاموشی اختیار کرنا ۔

غور طلب بات ہے کہ ہماری اصل صلاحیت جب نہیں دکھائی دیتی جب حالات بہتر ہو بلکہ جب حالات ناساز گار ہو اور اسی وقت ہم اطمینان سے فیصلے لے جیسے ،،کسی کی ملازمت چھوٹ گئی ،،کسی کی شادی ٹوٹ گئی ،،کسی کے کاروبار میں نقصان ہوتاہے ایسی بی شمار نقصان ہر کسی کی زندگی میں الگ الگ صورت میں ہوتےہے فرق اتنا ہے کہ کوی اپنا آپ سمیٹ لیتا ہے تو کوی ٹوٹکر بکھر جاتا ہے خاموشی کمزوری نہیں اپنے آپ میں ایک طاقت ہے فلسفہ ہے کہ angry mind looses calm mind win. ہم سوچتے ہیں کہ ردعمل دینا طاقت ہے غلط ردعمل ہمیں کمزور بناتا ہے جب ہم جذبات میں آکر فیصلے لیتے ہیں تو اکثر ہم ہار جاتے ہیں ردعمل سے پہلے سوچو سمجھو عمل کرو ۔


٤.لوگوکی خوشامتیں بند کردیں ۔کڑوا ہے مگر سچ ہے کہ ہمارے زندگی کا بیشتر بیش قیمت حصہ لوگوں کو خوش کرنے میں گزر جاتا ہے،،فلاں کیا سوچے گا ،فلاں ناراض تو نہیں ہوجاے گا،فلاں میری میرے ماں باپ کی تربیت پر انگلی تو نہیں اٹھائے گا یہ سوال ہمارے زندگی کے جیلر ہے جو ہمیں جیل کی طرح جکڑے ہوے ہیں ایسا جیسے ہماری ذندگی کسی اور کے کندھوں پر ٹکی ہو۔اپنے آپ سے کہے ،،بس اب بس،،کیونکہ اب وقت ہے حقیقت پسند بننے کا ہم دنیا کے اصولوں پر چلکر کبھی بھی مضبوط نہیں بن سکتے مضبوط بننے کیلیے حوصلا چاہیے اور حوصلا انکے پاس ہرگز نہیں ہوتا جو دوسروں کے اصولوں پر مبنی زندگی گذارتے ہیں لوگوں کی آپ سے امیدیں انکی غرض نکلنے تک ہوتی ہیں ہر عورت کو یہ پتہ ہونا چاہیئے کہ ہم ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے اور اسکی کوی ضرورت بھی نہیں کیونکہ لوگوں کو پریشانی تم سے نہیں تمہاری ترقی سے ہوتی ہے تم پرانے کپڑے پہنو ایک وقت کھانا کھاؤ کوی نہیں پوچھے گا جہاں آپ اچھی زندگی جینا شروع کرو مفت کے مشورے شروع۔حاصل مطلب یہ کہ ہم خود کو کتنا بھی بدل دیں لوگ آپ میں کو ئی نا کوی برائی اپنے مطلب کی ڈھونڈ ہی لینگے انہیں ہماری چپ بھی کھٹکے گی اور آواز بھی اسلیے اپنے اصول بنائے جسطرح آپ کو ہاں بولنا آتا ہے اسطرح نا بولنا بھی سیکھے لوگ اگر کہے کہ تم بدل گئے ہو تو خود اعتمادی سے کہے ہاں اب میں خود کے اور خود سے جڑے مخلص رشتوں کے لئے جیتی ہوں اسلیے لوگوں کی خوشامد یں بند کردیں لوگ خود بخود آپکی عزت کرینگے عزت اسی کو ملتی ہے جو خود کی عزت دینا جانتا ہو۔

٥.اپنی اصل طاقت صلاحیتوں کو ابھار و

یہ وہ آخری نقطہ نظر ہے جو صرف پڑھنا نہیں جینا ہے 

کیونکہ یہ وہ طاقت ہے جو ہمارے اندر پہلے سے موجود ہے ہم معاشرہ ،لوگ،رشتےکے ڈر نے اسے ذہن کے کسی کونے میں دفن کر دیا ہے یہ طاقت ہے خود اعتمادی خود داری ہمیں کسی غیر کی منظوری مشورے کی ضرورت نہیں ہے ہماری اصلی طاقت جب شروع ہوتی ہے جب ہم فیصلہ لیتے ہیں کہ اب سے ہم ہماری ذندگی خود کے اصولوں پر جیے گے کسی اور کے اشاروں پر ناچنے سے بہتر ہے اپنا آپ سوارے یقین مانیے یہی وہ وقت ہے جب ہم پرفیکٹ ہو جاءے گےہماری اصلی طاقت خود کو پہچاننا ہے سنو کہ ہمیں دنیا بدلنے کی ضرورت نہیں لوگوں کو بدلنے کی ضرورت نہیں بس ایک فیصلہ بدل دیں کہ آج کے بعد ان لوگوں کے قریب بھی نہیں جانا جنہوں نے آپ کو غلط قرار دیا سازشیں کیں اور کر رہے ہیں سب کو برا خواب خیال کرتے ہوۓ اپنے مقدمہ کا جج اللہ رب العزت کو بناے اور اپنی زندگی کو پر سکون گزارتے ہوے اسکے فیصلے کا انتظار کرے اللہ رب العزت ہم سبکا ہامی و ناصر ہو اللہ حافظ ۔

 

از قلم.عظمہ ناز تجمل بیگ


رشتے داروں کو کیا کسی کو بھی موقع نہ دیں۔ 


       یہ جملہ آپ کو شائد عجیب سا لگ سکتا ہے، ہاں اگر آپ اپنی اولاد کو ایک نفسیاتی و ذہنی دباؤ سے بچانا چاہتے ہیں، تو اپنے بچوں کو کسی بھی طرح سے تنگ کرنے کی اجازت نہ دیں۔ میں نے خاص طور پر اپنے کہا ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ آپ کے بچوں کے ساتھ آپ کے سامنے ایسے جملے بول سکتے ہیں، آپ کے بچوں کے حلیے پر، ان کی عادات پر، ان کے معاملات پر، غیر مناسب تنقید یا واقعتا سنجیدہ موڈ میں یا ہنسی مذاق میں ایسے بے ہودہ  قسم کے سوالات کر سکتے ہیں، جنہیں سن کر  ممکن ہے کہ آپ کو بھی اچھا نہیں لگے گا، مگر آپ خاموش رہتے ہیں کیونکہ اگر آپ انہیں ایسے جملے بولنے سے روکیں گے، تو آپ کی رشتہ داری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ آپ کا بچہ ایسی کسی کیفیت کا جواب نہیں دے سکتا، مگر آپ ہوشمندی کا مظاہرہ کریں اور انہیں اس تکلیف سے بچائیں۔ بچوں کو خاص طور سے سکھاے کہ اپنا ڈیلی روٹین کسی کے ساتھ شءر نا کریں کیونکہ تجربے سے ثابت ہے کہ لوگ پوچھتے تو پیار سے ہے لیکن انہی باتوں کو بنیاد بنا کر طعنہ دینے میں دیر نہیں کرتے

دوسری اور اہم بات جو میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آپ کے بچوں کو ذاتی طور سے سمجھدار اور ذمے دار بنائیں لیکن ان کا بچپن لوگوں کی نظر میں قائم رہنے دیں کیونکہ انھی کے برابر کے یا تھوڑے چھوٹے بڑے بچے آپ کے بچوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور وہ بچہ ہے اسکو نہیں سمجھتا بولکر لوگ آپکے بچوں کی سمجھداری کو غلط استعمال کرتے ہیں اور خود کے بچوں کو نا سمجھ ہے چھوٹا ہے بولکر ہٹا دیتے ہے۔

       بچوں کی شکل کے حوالے سے، ان کے بالوں کے حوالے سے، ان کی رنگت، ان کے جسمانی اعضاء پر، یا کسی بھی نوعیت کے اعتبار سے ان کی عادات کے اعتبار سے ان کے لباس پر اگر آپ کے بچے پر کوئی تنقید کرتا ہے، یا بچے کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، ہوسکتا ہے کہ  اپنے تئیں وہ سمجھا رہا ہوتا ہے لیکن اس کا انداز طنزیہ ہو سکتا ہے، یا اس میں حقارت یا ڈانٹ کی کیفیت موجود ہوسکتی ہے، تب آپ کو لگتا ہے کہ وہ ایک خاندان کا ایک بڑا فرد بطور ایک well wisher کے آپ کے بچے کے ساتھ یہ سب کر رہا ہے۔ اور چلیں مان لیں کہ آپ کو بھی لگ رہا ہو کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ لیکن آپ اپنی رشتہ داری کو قائم رکھنے کے لیے، بزرگ یا کسی بھی رشتہ دار خاتون کی وہ بات برداشت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا بچہ تو  "ایک چھوٹا بچہ جو کل اس بات کو یا اس ڈانٹ کو بھول جائے گا" ۔ تو ایسا ہر گز نہیں ہے۔بچے ایسی باتیں کبھی نہیں بھولتے، اس کا اظہار نہیں کر سکتے وہ ایک "بند بوتل کی طرح ہوتے ہیں اور بوتل بند احساسات کبھی نہیں مرتے، وہ زندہ رہتے ہوئے دفن ہوجاتے ہیں، اور ساری زندگی بعد میں ان بچوں میں احساس کمتری اور بدصورت رویے مختلف صورتوں میں ابھرتے ہیں۔


         اس لیے اورو کو کبھی بھی اپنے بچوں کے بچپن، معصومیت اور خوشی کو مسخ کرنے کی اجازت نہ دیں اور جب بھی آپ کے بچے اپنا بچپن یاد کریں تو وہ اسے خوبصورت احساسات اور رویوں کے ساتھ یاد رکھیں، یہ چیز آپ کے بچوں کی خود اعتمادی کو مجروح کرتی ہے اور ان کے لیے نفسیاتی مسائل پیدا کرتی ہے۔ جو مستقبل میں انہیں نقصان پہنچائی گی، اگر ایسے کسی لمحے میں آپ اپنے کسی رشتہ دار کو موقع پر ہی ٹوک دیں گے ممکن ہے وہ رشتے دار چند روز، ہفتے، مہینے یا سال بھر آپ سے ناراض ہوسکتا ہے، لیکن یہ آپ کے بچے کی نفسیاتی حفاظت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جو اس کا بنیادی حق ہے، کہ وہ اپنے آپ کو کم تر محسوس کریں یا اپنے جسم یا شخصیت کے کسی حصے سے نفرت کریں۔ اس لئے ایسے کسی بھی موقع پر رشتہ داروں کو سختی سے منع کریں، اپنے بچوں کے ساتھ کسی کو بھی حدود سے تجاوز نہ کرنے دیں، چاہے وہ مذاق میں ہو یا سنجیدگی میں بات میں ہو یا عمل میں ہر صورت یہ رویہ ناقابل قبول رکھیں۔ 


         اکثر  قریبی عزیز ہی یہ ہمت کرتے ہیں، کہ آپ کے بچوں کو ان کی ہئیت و رنگ کی وجہ سے کسی نامناسب نام سے پکار لیتے ہیں، جیسے موٹو، پتلو، بچوں کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ بہت گھنا ہے، یہ کتنا غیر مناسب لفظ ہے، بچوں کے لئے اس کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے کہ آپ کسی بچے کو ایک طرح سے دھوکے باز کہہ رہے ہیں، بچوں کے بارے میں ایسے الفاظ یا مذاق کرنا سختی سے روکنا چاہئے، جو بچے کے لیے ناپسندیدہ یا تکلیف دہ ہو، یہ سب کرنے والے والے چاہے آپ کی بہن، یا آپ کے بھائی، آپ کی پھوپھی، آپ کی خالہ یا چچا تایا تای ماموں وغیرہ  کوئی بھی کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہوں، انہیں بچوں کی جسمانی ساخت پر تبصرہ یا تضحیک کرنے سے سختی سے روکنا چاہئے کہ جیسے آپ کا بچہ اس طرح کیوں نہیں بھاگ سکتا؟ اس کا رنگ ایسا کیوں ہے، اس کا قد عمر کے حساب سے کم ہے، وہ ایسے کیوں پڑھتا ہے، ایسے کیوں کھاتا ہے، وہ ٹھیک سے بول نہیں سکتا۔ وغیرہ وغیرہ، اصل میں یہ تمام منفی باتیں بچوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ان کے دماغ میں رہتی ہیں اور اس عمر میں ان کا دماغ اس پر یقین کر لیتا ہے۔ 


         ایسے تمام برے لفظ یا جملے بچوں کے ذہن پر چھا جاتے ہیں، اور وہ مختلف مسائل کی صورت سامنے آتے ہیں، بچوں کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے، اور ان مسائل سے نکلنے میں انہیں وقت لگتا ہے، ایسے ہر برے لفظ یا تنقیدی و تضحیکی جملوں کے اثر کو دور کرنے کے لیے ایک تکیلف دہ مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایسے ایک جملے سے انہیں ذہنی طور پر چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے 100 اچھے جملوں کی ضرورت پڑے گی۔ اپنے بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ نہ ہی خود موازنہ کرنا چاہیے نہ ہی کسی اور کا موازنہ کرنے دینا چاہیے، چاہے وہ آپ کے کتنے ہی بہترین رشتہ دار کیوں نہ ہو، کیونکہ ہر بچے کی اپنی شخصیت کی خصوصیات ہوتی ہیں، جو ایک بچے سے دوسرے بچے میں مختلف ہوتی ہیں، اور یہی موازنہ پہلی چیز ہے جو بچے کی شخصیت کو تباہ کرتی ہے اور خود اعتمادی کو کمزور کرتی ہے۔ آخری بات یہی ہے کہ افعال رویوں اور جملوں سے اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والی ایسی بدمعاشی کو روکیں۔ کیونکہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، اور خود بھی بحیثیت رشتہ دار آپ دوسروں کے بچوں کے بارے میں جملہ بولتے وقت سو بار سوچیں کہ آپ کے جملے کا اس بچے پر کیا اثر ہوگا۔

آخری اور اہم بات کہ بچوں کے ساتھ برا سلوک کرنے کے بعد انہیں کہا جاتا ہے کہ یہ بات اپنے والدین کو نہ بتایا جائے یا یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ تم بولتے ہو اپنے ممی بابا کو ہم ایسے ذہن والے لوگوں کو روک نہیں سکتے لیکن ہم اپنے بچوں کو ضرور سمجھا سکتے ھیں کہ کوی کتنا بھی بولے والدین کے ساتھ سب کچھ شییر کرنا چاہیے اپنے بچوں کے دماغ سے یہ بات نکالنا بھی ضروری ہے کہ ہم فلا کے بغیر کھیل نہیں سکتے یا رہ نہیں سکتے بچوں کو استعمال ہونے سے بچاءے اللہ رب العزت ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے آمین.


 


یومِ جمہوریہ( سوال، شعور اور ذمہ داری)
از قلم : طٰہٰ جمیل نلاّمندو 
(معلمہ و قلم کار پونے مہانگر پالیکا)


         یومِ جمہوریہ بھارت کی تاریخ کا وہ روشن دن ہے جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزادی محض اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ ایک منظم، باوقار اور ذمہ دار قومی زندگی کا آغاز ہے۔ 26 جنوری 1950 کو جب آئینِ ہند نافذ ہوا تو یہ اعلان ہوا کہ اس ملک کی بنیاد افراد کی خواہشات پر نہیں بلکہ قانون، انصاف اور مساوات پر ہوگی۔ یہی دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس آئینی روح کے ساتھ جینے کی کوشش کر رہے ہیں یا جمہوریت کو صرف ایک رسمی تہوار تک محدود کر چکے ہیں۔


جمہوریت محض ووٹ ڈالنے یا حکومت بنانے کا نظام نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری عمل ہے، جس میں سوال کی گونج، شعور کی روشنی اور ذمہ داری کا احساس بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی سماج میں سوال کرنے کی روایت ختم ہو جائے تو وہاں جمود پیدا ہو جاتا ہے، اور اگر شعور مفقود ہو جائے تو آزادی بے معنی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر ذمہ داری کا احساس ختم ہو جائے تو حقوق بھی غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ یومِ جمہوریہ ہمیں انہی تین بنیادی ستونوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔سوال کرنا جمہوریت کی زندگی ہے۔ سوال انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور نظام کو جواب دہ بناتا ہے۔ سوال نہ ہوں تو اقتدار بے لگام ہو جاتا ہے اور عوام خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ آئینِ ہند ہر شہری کو اظہارِ رائے اور سوال کا حق دیتا ہے، مگر یہ بھی سکھاتا ہے کہ سوال کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ انتشار۔ تعمیری سوال معاشرے کو جوڑتے ہیں جبکہ منفی اور نفرت انگیز رویے جمہوری اقدار کو کمزور کرتے ہیں۔


شعور وہ چراغ ہے جو آزادی کے اندھیروں میں روشنی فراہم کرتا ہے۔ بغیر شعور کے آزادی ایک کھوکھلا نعرہ بن جاتی ہے۔ باشعور شہری وہ ہوتا ہے جو خبر اور افواہ میں فرق کر سکتا ہے، جو جذبات کے بجائے عقل سے فیصلے کرتا ہے اور جو اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کا حسن سمجھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں شعور سے محروم ہوئیں تو ان کی آزادی خطرے میں پڑ گئی۔ یومِ جمہوریہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آئین کو سمجھنا، قانون کا احترام کرنا اور دوسروں کے حقوق کو تسلیم کرنا ہی اصل حب الوطنی ہے۔


ذمہ داری جمہوریت کا وہ پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز تو بلند کرتے ہیں، مگر فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ذمہ داری کے بغیر حقوق کی حفاظت ممکن نہیں۔ ایک ذمہ دار شہری قانون کی پاسداری کرتا ہے، ووٹ کو امانت سمجھتا ہے، عوامی املاک کی حفاظت کرتا ہے اور سماج میں امن و رواداری کو فروغ دیتا ہے۔ جب ہر فرد یہ محسوس کرے کہ اس کے اعمال کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے تو جمہوریت مضبوط بنیادوں پر قائم رہتی ہے اسلامی و اخلاقی تعلیمات بھی سوال، شعور اور ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔ قرآنِ کریم میں بارہا غور و فکر اور عقل کے استعمال کی دعوت دی گئی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ سوال کرنا ایمان کے خلاف نہیں بلکہ فہم و بصیرت کی علامت ہے۔ اسلام میں ہر انسان اپنے عمل کا جواب دہ ہے، چاہے وہ ذاتی زندگی ہو یا اجتماعی معاملات۔ عدل، امانت داری اور سچائی وہ اقدار ہیں جو اسلامی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام کی روح بھی ہیں۔ اس طرح دینی تعلیمات اور آئینی اقدار ایک دوسرے کی تکمیل کرتی نظر آتی ہیں۔

        نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، اور جمہوریت کی بقا بھی بڑی حد تک انہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر نوجوان باشعور، سوال کرنے والے اور ذمہ دار ہوں تو قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے، اور اگر وہ بے حسی اور لاپرواہی کا شکار ہوں تو مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ یومِ جمہوریہ نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ محض تماشائی نہ بنیں بلکہ فعال، باخبر اور باکردار شہری بن کر جمہوریت کو مضبوط کریں۔ یومِ جمہوریہ ہمیں جشن منانے کے ساتھ ساتھ خود احتسابی کی دعوت بھی دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف حکومت کا نام نہیں بلکہ عوام کے سوال، شعور اور ذمہ داری کا مجموعہ ہے۔ جب سوال زندہ رہیں. شعور بیدار ہو اور ذمہ داری دیانت داری سے ادا کی جائے تو ایک مضبوط، منصف اور باوقار قوم وجود میں آتی ہے۔ اسی عہد کے ساتھ یومِ جمہوریہ منانا ہی اس دن کا اصل پیغام ہے۔

 




 

 
Design by Wordpress Theme | Bloggerized by Free Blogger Templates