*امید کا بستہ
*

*از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں*

گاؤں کے سرکاری اسکول میں اُس دن غیر معمولی رونق تھی۔ ضلع کے افسران اسکول کے دورے پر آنے والے تھے۔ اساتذہ بچوں کو بار بار سمجھا رہے تھے کہ صفائی، نظم و ضبط اور پڑھائی سب بہترین نظر آنی چاہیے۔

ساتویں جماعت میں ایک دبلا پتلا لڑکا “احمد” خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھا تھا۔ اُس نے پیوند لگی قمیض پہنی ہوئی تھی اور بستہ کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں بڑے خواب تھے۔

جب افسران کلاس میں آئے تو بچوں سے پوچھا گیا: “آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں؟”

کسی نے ڈاکٹر کہا، کسی نے انجینئر۔

احمد کی باری آئی تو اُس نے دھیمی آواز میں کہا “میں استاد بننا چاہتا ہوں۔”

افسر نے مسکرا کر پوچھا: “کیوں؟”

احمد نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔

“اس لیے کہ میرے ابو کہتے تھے، غریب آدمی سے سب کچھ چھن جائے تو بھی علم اُس کے پاس باقی رہتا ہے۔”

یہ کہتے کہتے اُس کی آواز بھرّا گئی۔ پھر آہستہ سے بولا: “ابو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ امّی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور میں شام کو ہوٹل پر برتن دھوتا ہوں تاکہ پڑھائی جاری رکھ سکوں۔”

کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ ایک افسر کی نظر اُس کے پھٹے بستے پر پڑی تو پوچھا “یہی بستہ استعمال کرتے ہو؟”

احمد ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: “جی… ابھی چل رہا ہے۔”

یہ سن کر سب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ دورے کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ احمد کی تعلیم کا پورا خرچ انتظامیہ برداشت کرے گی۔

احمد اپنے پرانے بستے کو سینے سے لگائے کھڑا تھا۔ اُس دن سب نے جان لیا کہ *اصل طاقت دولت میں نہیں، بلکہ حوصلے اور خوابوں میں ہوتی ہے۔* کا بستہ*

*از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں*

گاؤں کے سرکاری اسکول میں اُس دن غیر معمولی رونق تھی۔ ضلع کے افسران اسکول کے دورے پر آنے والے تھے۔ اساتذہ بچوں کو بار بار سمجھا رہے تھے کہ صفائی، نظم و ضبط اور پڑھائی سب بہترین نظر آنی چاہیے۔

ساتویں جماعت میں ایک دبلا پتلا لڑکا “احمد” خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھا تھا۔ اُس نے پیوند لگی قمیض پہنی ہوئی تھی اور بستہ کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں بڑے خواب تھے۔

جب افسران کلاس میں آئے تو بچوں سے پوچھا گیا: “آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں؟”

کسی نے ڈاکٹر کہا، کسی نے انجینئر۔

احمد کی باری آئی تو اُس نے دھیمی آواز میں کہا “میں استاد بننا چاہتا ہوں۔”

افسر نے مسکرا کر پوچھا: “کیوں؟”

احمد نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔

“اس لیے کہ میرے ابو کہتے تھے، غریب آدمی سے سب کچھ چھن جائے تو بھی علم اُس کے پاس باقی رہتا ہے۔”

یہ کہتے کہتے اُس کی آواز بھرّا گئی۔ پھر آہستہ سے بولا: “ابو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ امّی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور میں شام کو ہوٹل پر برتن دھوتا ہوں تاکہ پڑھائی جاری رکھ سکوں۔”

کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ ایک افسر کی نظر اُس کے پھٹے بستے پر پڑی تو پوچھا “یہی بستہ استعمال کرتے ہو؟”

احمد ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: “جی… ابھی چل رہا ہے۔”

یہ سن کر سب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ دورے کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ احمد کی تعلیم کا پورا خرچ انتظامیہ برداشت کرے گی۔

احمد اپنے پرانے بستے کو سینے سے لگائے کھڑا تھا۔ اُس دن سب نے جان لیا کہ *اصل طاقت دولت میں نہیں، بلکہ حوصلے اور خوابوں میں ہوتی ہے۔*

 
Design by Wordpress Theme | Bloggerized by Free Blogger Templates