This is featured post 1 title
Replace these every slider sentences with your featured post descriptions.Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha - Premiumbloggertemplates.com.
This is featured post 2 title
Replace these every slider sentences with your featured post descriptions.Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha - Premiumbloggertemplates.com.
This is featured post 3 title
Replace these every slider sentences with your featured post descriptions.Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha - Premiumbloggertemplates.com.
Hamid Iqbal
مکۃ المکرمہ: ناموں کی تجلی میں لپٹا ہوا حرم
ازقلم، ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی صاحب ،مالیگاؤں
مکہ، وہ سرزمین جسے اللہ نے اپنی وحدانیت کے اعلان کے لیے چنا، جہاں آدم علیہ السلام کے قدموں نے زمین کو پہچان۔ دی، جہاں ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھوں نے عشق کے گھر کو تعمیر کیا، جہاں حرا کی خاموشی میں وحی کی پہلی صدا گونجی — "اقرأ" اور یوں کائنات نے پڑھنا، لکھنا، بولنا سیکھا۔یہ مکہ ہے، جہاں پتھروں نے توحید کا درس دیا، جہاں وادیوں میں تلبیہ کی گونج بسی، جہاں دلوں نے بندگی کا مفہوم سمجھا، جہاں آنکھوں نے پہلی بار "لبیک" کہنا سیکھا۔ یہ وہ شہر ہے جہاں عبادت سانس بن جاتی ہے، جہاں طواف وقت کو تھما دیتا ہے، جہاں ہر قدم گناہوں کی معافی لکھتا ہے۔ یہ مکہ، اللہ کے گھر کی چوکھٹ ہے جہاں زمین کا سینہ سجدے میں اور آسمان کا دل گریہ میں ڈوبا رہتا ہے۔ یہ شہر فقط ایک مقام نہیں، یہ بندگی کا مرکز، عشقِ الٰہی کا آئینہ اور صدیوں سے بہتی ہوئی بخشش کی ندی ہے۔ اس کے نام بھی اتنے ہی مقدس ہیں جتنی اس کی مٹی ، ہر نام میں نور کی لہر، ہر لقب میں توحید کا عکس۔ کہیں یہ بکہ ہے، کہیں ام القریٰ، کہیں بلدالامین، کہیں البلد الحرام۔ہر نام میں حرم کی ہیبت، بیت اللہ کی حرارت، اور رب کی قربت جھلکتی ہے۔ ذیل میں مکہ مکرمہ کے چند نام نشانِ خاطر فرمائیں:مکۃ المکرمہ — کرامتوں کی زمینیہ وہ بستی ہے جسے اللہ نے مکرم فرمایا،جس کے ہر ذرّے میں دعا کا اثر، ہر ہوا میں ذکر کا اثر۔ یہاں کے طواف میں کرامتیں برستی ہیں، یہاں کی راتیں استغفار کی بارش میں بھیگی رہتی ہیں۔ یہ صرف زمین نہیں رب کے نور کا فرش ہے۔ البلد الحرام — حرمتوں کی وادییہ وہ شہر ہے جس کی حرمت عرش سے نازل ہوئی۔ جہاں درخت کاٹنا گناہ، پرندوں کا شکار جرم، جہاں پتھر بھی اللہ کے اذن سے خاموش کھڑے ہیں۔ یہ حرمتوں کی وادی ہے جہاں نفس بھی ادب سیکھتا ہے،جہاں دل بھی اجازت مانگ کر دھڑکتا ہے۔بکّہ — سجدوں کا مرکزیہ وہ نام ہے جو سجدوں کے جھکنے سے وجود میں آیا۔ یہاں کا ہر پتھر، ہر ذرہ سجدے کی لذت سے واقف ہے۔ یہ وہ زمین ہے جس پر پہلی بار انسان نے سجدہ کیا، جہاں بندگی نے پہچان پائی اور بندے نے خدا کو جانا۔ام القریٰ — بستیوں کی ماںیہ وہ شہر ہے جہاں سے تمام بستیوں کو زندگی ملی۔ یہی زمین تمام زمینوں کی ماں ہے، یہی وہ گود ہے جس میں انسانیت نے پہلا سجدہ کیا۔ یہاں سے ہدایت کے چشمے بہے اور دنیا نے خدا کے نام پر جینے کا سلیقہ سیکھا۔البلد الامین — امن کا پیکریہ وہ شہر ہے جہاں خوف داخل نہیں ہو سکتا۔ جہاں ظالم بھی آ جائے تو محفوظ ہو جاتا ہے، جہاں دشمن بھی آتا ہے تو دل نرم ہو جاتا ہے۔ یہ امن کی پناہ گاہ ہے، جہاں فرشتے پہرہ دیتے ہیں اور دل سلامتی میں بس جاتے ہیں۔البیت العتیق — قدامتِ عشق کی علامتیہ وہ گھر ہے جو ازل سے اللہ کا ہے۔ نہ اس پر وقت غالب آیا، نہ فنا کا سایہ۔ یہ عتیق ہے ازلی، ابدی، پاکیزہ۔ یہاں کی دیواریں بندگی کی تاریخ لکھتی ہیں اور غلاف کے نیچے عشق سجدہ کرتا ہے۔البلد الطیب — پاکیزگی کا استعارہیہاں کی مٹی پاک، یہاں کی ہوا طیب، یہاں دلوں کا میل دھل جاتا ہے، یہاں نیتیں نکھر جاتی ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بندہ خود کو دوبارہ دریافت کرتا ہے، اور کہتا ہے: "میں عبد ہوں، بس عبد۔" البلد النور — نورِ توحید کا مرکزیہ وہ جگہ ہے جہاں کعبہ کھڑا ہے، جہاں لا الٰہ الا اللہ کی روشنی پھوٹی۔ یہاں سے نور پھیلا تو دلوں میں ایمان جاگا۔ یہ شہر چراغِ توحید ہے، جس کی لَو کبھی مدھم نہیں ہوتی۔البلد الدعاء — دعا کی بستییہ وہ مقام ہے جہاں دعا رد نہیں ہوتی،جہاں ہاتھ اٹھتے نہیں کہ قبولیت جھک آتی ہے۔ یہاں آنکھوں کے آنسو لفظ نہیں، وسیلہ ہوتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بندگی بات نہیں کرتی، بس خاموشی میں سب کہہ جاتی ہے۔البلد السجود — سجدوں کا گھریہاں زمین سجدہ گاہ ہے اور آسمان محراب۔ یہاں جھکنا سعادت ہے، گرنا نجات۔ یہاں ہر سجدہ خود رب کا استقبال ہے۔القادسۃ — پاک کرنے والی زمینیہ مکہ، قلوب کو طہارت عطا کرتا ہے۔ یہاں پہنچ کر نیتیں نکھر جاتی ہیں، آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ مٹی ہے جو انسان کو گناہوں سے دھو دیتی ہے اور بندگی کے لباس میں سجاتی ہے۔المرزوقۃ — رزق و برکت کا مرکزیہ شہر فقر نہیں دیتا، قناعت دیتا ہے۔یہاں کے لقمہ میں شکر ہے، یہاں کی ہوا میں برکت۔ یہ وہ زمین ہے جہاں بھوکا بھی سیر ہوجاتا ہے۔ بلد الصفاء — دلوں کا آئینہیہاں غبار نہیں، صفا ہے۔ یہاں کے دل آئینے کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ خود کو دیکھ کر خدا کو پہچان لیتا ہے۔الناسۃ — کھینچ لینے والا شہریہ شہر خود نہیں بلاتا بلکہ کھینچ لیتا ہے۔جو ایک بار آیا، وہ بار بار آتا ہے۔ یہ مکہ ہے رب کے عشق کا محور، جو دلوں کو اپنی کشش میں گرفتار رکھتا ہے۔ام النور — روشنیوں کی ماںیہاں سے وہ نور پھوٹا جو مدینہ تک پہنچا،اور مدینہ سے عالمِ انسانیت تک۔ یہ مکہ، وہ گود ہے جس نے ایمان کو جنم دیا،اور جس کے آغوش سے رسالت کا نور نکلا۔اے مکہ!تو زمین کا دل ہے، عبادت کا محور، اور عشقِ الٰہی کا پہلا منظر۔ تیری وادیوں میں جو آنسو گرتا ہے وہ بخشش بن جاتا ہے۔ تیری ہوا جو چھوتی ہے، وہ ایمان بن جاتی ہے۔ تو وہ شہر ہے جہاں بندگی شروع ہوتی ہے اور رضا پر ختم۔ تیری پہاڑیاں "وحدت" کی علامت ہیں؛ تیرا غبار عام نہیں، حرم کا تعویذ ہے۔ تو حرمِ خدا ہے جہاں انسان فنا ہوتا ہے اور خدا مل جاتا ہے۔اے مکہ، تیرے ناموں کی کوئی انتہا نہیں؛ہر نام تیری عظمت کا آئینہ، ہر لقب تیری حرمت کا اعلان۔ تو کبھی "بکہ" کہلاتا ہے، کبھی "بلد الامین" ، کبھی" ام القریٰ" ، کبھی "البیت العتیق" اور ہر نام تیرے وجود سے بندگی کی خوشبو لاتا ہے۔ تو وہ شہر ہے جہاں سے 'اقرأ" کی آواز اٹھی اور جہاں سے کائنات نے سجدہ کرنا سیکھا۔ اے مکہ، تیرا ذکر لبوں پر نہیں، دلوں میں اترتا ہے اور تیرے در پر آ کر انسان نہیں رہتا، عبد بن جاتا ہے۔___ مشاہد رضوییکم نومبر 2025ء بروز سنیچر
Hamid Iqbal
اقبالؔ کا خواب، ٹیپوؔ کی بہادری، آزادؔ کی بصیرت۔۔۔۔۔
از: طٰہٰ نلّامندومعاون معلّمہ، پونے مہانگر پالیکا اُردو مدرسہ
اردو زبان ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اس زبان نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے، محبت، اتحاد اور علم کی روشنی پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ہر سال نومبر کا دوسرا ہفتہ ہماری تاریخ کے اُن درخشاں ستاروں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے علم، زبان، اور وطن کی خدمت میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ ۹ نومبر کو ہم علامہ اقبالؔ کا یومِ پیدائش مناتے ہیں ۔ وہ شاعرِ مشرق جنہوں نے اپنی شاعری سے مسلمانوں کے دلوں میں خودی، بیداری، اور عزتِ نفس کا جذبہ پیدا کیا۔ اقبالؔ نے کہا تھا۔۔۔"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے۔ اقبالؔ نے تعلیم کو روحِ حیات قرار دیا اور نوجوانوں کو علم، عمل، اور یقینِ محکم کا درس دیا۔ ۱۰ نومبر کو ٹیپو سلطانؒ کی پیدائش کا دن منایا جاتا ہے۔ٹیپو سلطانؒ بہادری، قربانی اور حب الوطنی کی روشن مثال ہیں۔ انھوں نے وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی۔ ان کا قول آج بھی ہمیں جوش و ولولہ دیتا ہے“شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔” ۱۱ نومبر کو مولانا ابوالکلام آزادؒ کا یومِ پیدائش ہے، جو ہمارے ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم تھے۔ اسی دن کو ہم یومِ تعلیم کے طور پر مناتے ہیں۔مولانا آزادؒ نے تعلیم کو انسان کی سب سے بڑی ضرورت بتایا۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانیت کی ترقی کا زینہ ہے۔ان کے یہ الفاظ ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہیں “تعلیم انسان کو محض جاہل ہونے سے نہیں بچاتی بلکہ اسے انسان بناتی ہے۔” ان تینوں عظیم شخصیات کی زندگیاں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ زبان، علم، اور کردار کے ذریعے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔اسی لیے اس ہفتے کو ہم "یومِ اردو و تعلیم ہفتہ" کے طور پر مناتے ہیں۔ اس موقع پر اسکولوں میں مختلف سرگرمیاں جیسے تقریری مقابلے، کوئز، اردو شاعری کے پروگرام، ٹیپو سلطانؒ پر ڈرامہ، اور تعلیمی نمائشیں منعقد کی جاتی ہیں تاکہ بچے نہ صرف اپنی زبان سے محبت کریں بلکہ علم کی اہمیت کو بھی سمجھیں۔بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ علم ہی وہ طاقت ہے جو جہالت کے اندھیروں کو مٹا سکتی ہے۔اقبالؔ کے الفاظ میں۔۔۔ "علم کی روشنی ہر دل میں روشن ہو،یہی تعلیم کا مقصد اور اردو کا پیغام ہو۔" یومِ اردو و تعلیم ہفتہ منانا دراصل اپنی زبان، اپنے ہیروز، اور اپنی تعلیم سے محبت کا اظہار ہے۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اردو زبان کو فروغ دیں، علم کو عام کریں، اور اپنے طلبہ کے دلوں میں حب الوطنی، خودی، اور ۔۔۔ ۔اخلاقی اقدار کو زندہ رکھیں.
Hamid Iqbal
*تعلیمی پالیسی پر نیا تنازعہ: لڑکیوں کے مستقبل پر سوال*
*مہاراشٹر حکومت کا یک جنس اسکول ختم کرنے کا فیصلہ والدین و ماہرین کی تشویش کا باعث*
خصوصی تجزیاتی رپورٹ: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں مہاراشٹر حکومت کی جانب سے ریاست کے تمام یک جنس (Single-Gender) اسکولوں کو بتدریج مخلوط (Co-Educational) اداروں میں ضم کرنے کے فیصلے نے ایک نئے مباحثے کو جنم دے دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے صنفی برابری اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا مگر کئی ماہرین اور والدین اس پالیسی کو لڑکیوں کے تعلیمی تسلسل اور تحفظ کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔7 اکتوبر 2025ء کو جاری کردہ حکومتی قرارداد (Government Resolution) کے مطابق آنے والے برسوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے علیحدہ اسکول ختم کر کے انہیں مشترکہ اداروں میں بدلا جائے گا۔ جہاں لڑکے لڑکیاں ایک ہی کلاس میں تعلیم حاصل کریں گی۔ اس فیصلے کے پیچھے حکومت کا مقصد “صنفی مساوات” کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔ تاہم ٹائمز آف انڈیا (27 اکتوبر 2025) کے مطابق مہاراشٹر میں اس وقت تقریباً 1,02,837 ایسے اسکول موجود ہیں جو صرف لڑکیوں کے لیے مخصوص ہیں جن میں تقریباً 3.54 لاکھ طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اسکول بند کر دیے گئے تو ہزاروں بچیاں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گی جس سے ڈراپ آؤٹ ریٹ میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔حکومتِ مہاراشٹر کی یہ پالیسی صرف ماہرین تعلیم ہی نہیں بلکہ کئی طبقات کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے بالخصوص ان والدین کے لیے جو روایت پسند یا دیہی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔بہت سے والدین کا ماننا ہے کہ ان کا اعتراض نظریاتی نہیں بلکہ حفاظتی اور ثقافتی نوعیت کا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے سماج میں جنسی ہیجان برپا کر رکھا ہے جس سے اسکولی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بھی محفوظ نہیں ہیں، اخلاقی بگاڑ کے علاوہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں اب بھی بیشتر اسکولوں میں علیحدہ بیت الخلاؤں کی کمی، خواتین اساتذہ کی عدم دستیابی، ٹرانسپورٹ کی عدم سہولیات اور سیکیورٹی کے ناقص انتظامات جیسے مسائل عام ہیں۔ ان حالات میں والدین کی بڑی تعداد اپنی بچیوں کو مخلوط اسکولوں میں بھیجنے سے گریز کرے گی جس کا نتیجہ ڈراپ آؤٹ ریٹ میں اضافے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر ریاست واقعی خواتین کی ترقی چاہتی ہے تو اسے آئینِ ہند کے آرٹیکل 15(3) کو مدنظر رکھنا چاہیے جو عورتوں اور بچوں کے لیے خصوصی اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ ان کے مطابق یک صنفی اسکول خواتین کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کا ذریعہ رہے ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ کرنا صنفی مساوات کے بجائے تعلیمی محرومی کو جنم دے سکتا ہے۔محکمۂ تعلیم کے مطابق حکومت کا ارادہ کسی طبقے کو محروم کرنے کا نہیں بلکہ “تعلیم میں رکاوٹیں ختم کرنے” کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو جدید سہولیات، سیکیورٹی، اور خواتین اسٹاف سے آراستہ کر کے ماحول کو ایسا بنایا جائے گا کہ والدین بلا خوف اپنی بچیوں کو اسکول بھیج سکیں۔ جبکہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت کو یکدم فیصلے کے بجائے مرحلہ وار، اختیاری اور علاقائی حکمتِ عملی اپنانی چاہئے۔ جس کے لیے ممکنہ حل یہ ہو سکتے ہیں کہ جن اسکولوں میں سہولیات بہتر ہیں وہاں سے تجرباتی بنیاد پر مخلوط نظامِ تعلیم شروع کیا جائے۔ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں فی الحال یک جنس اسکول برقرار رکھے جائیں۔ والدین کے خدشات دور کرنے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے۔ اسکولوں میں خواتین اسٹاف اور سیکیورٹی گارڈز کی لازمی تعیناتی کی جائے۔صنفی برابری کے خواب تبھی شرمندۂ تعبیر ہو سکتے ہیں جب ان کی بنیاد اعتماد، تحفظ اور شمولیت پر ہو۔ اگر والدین کو اپنی بچیوں کے تحفظ پر یقین نہیں تو محض اسکولوں کا انضمام برابری پیدا نہیں کر سکتا۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حساس فیصلے کو محض انتظامی حکم کے طور پر نہیں بلکہ سماجی اصلاحی منصوبہ سمجھ کر نافذ کرے۔ ایسا منصوبہ جو لڑکیوں کے تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اعتماد، عزت اور مستقبل کو بھی محفوظ بنائے۔***(بعض اعداد و معلومات The Times of India, Education Times, 27 Oct 2025 کی رپورٹ سے ماخوذ۔)
-----------------------------------------------
Hamid Iqbal
رخصتی کے بعد
نتیجہء فکر:* رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں
*موبائل:* 9130142313
_____*صبح* کا وقت تھا۔ صحن میں دھوپ نرم اور مٹی کی خوشبو گہری تھی۔ ماں آٹے میں گوندھے ہاتھوں سے آنسو پونچھ رہی تھی، اور باپ خاموشی سے چھت پر بنے مچان کے کونے میں رکھے پرانے صندوق کو دیکھ رہا تھا — وہی صندوق جس میں میرے بچپن کی چپل، ٹوٹی پنسل، اور اسکول کا پہلا انعام اب بھی محفوظ تھا۔_____*آج* میں اس گھر سے رخصت ہو رہا تھا۔ نہیں، شادی کی نہیں — روزگار کی رخصتی تھی۔ وہ رخصتی جس میں بارات نہیں نکلتی، صرف خاموش آنکھیں اور رکتے ہوئے قدم ہوتے ہیں۔_____*ماں* کے لبوں پر دعائیں تھیں مگر آنکھوں میں اندیشے۔ باپ کے چہرے پر فخر بھی تھا اور فاصلوں کا خوف بھی۔ میں نے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کی، مگر اندر کہیں کچھ ٹوٹ رہا تھا۔ گھر کے ہر کونے سے آواز آ رہی تھی، “یہیں رہ جا، شہر میں تجھے کون سمجھے گا؟”_____*ٹرین* کے دروازے پر کھڑا ہوا تو گاؤں پیچھے چھوٹتا گیا — وہی برگد کا پیڑ، وہی مسجد کی اذان، وہی کنویں کی رسی، سب نظروں سے اوجھل ہونے لگے۔ جیسے دل کے ایک ایک ریشے کو کوئی کھینچ رہا ہو۔_____*شہر* پہنچ کر زندگی کی دوڑ شروع ہوئی۔ نوکری ملی، کمائی ہونے لگی، مگر دل خالی رہا۔ کھانے میں ذائقہ نہیں، خوابوں میں سکون نہیں۔ فون پر ماں کی آواز سن کر آنکھیں نم ہو جاتیں، باپ کے “خیریت ہے بیٹا؟” کہنے میں وہ سکون ملتا جو پورے شہر میں کہیں نہیں تھا۔_____*کبھی کبھی* رات کو کھڑکی کے پار چاند دیکھتا ہوں تو لگتا ہے یہی چاند ماں کے صحن میں بھی چمک رہا ہوگا۔ بس فرق اتنا ہے کہ وہاں چاندنی کے ساتھ دعائیں ہیں، اور یہاں تنہائی۔_____*کبھی* سوچتا ہوں روزگار نے زندگی تو دی، مگر جینے کا سبب چھین لیا۔اور ہر صبح جب اسکول کے راستے پر نکلتا ہوں، دل کہتا ہے:*"کاش یہ سفر واپسی کا ہوتا…"****
Hamid Iqbal
*وِکسِت
بھارت بِلڈاتَھون 2025: نئی نسل کے طلبہ کی اختراعی پہچان
✍️ رپورٹ: رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں
موبائل: 9130142313
وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند نے نیتی آیوگ کے "اٹل انوویشن مشن" کے اشتراک سے “وِکسِت بھارت بلڈاتھون 2025” کا آغاز کیا ہے۔ یہ ملک گیر تحریک اسکولی طلبہ میں اختراع، تخلیقی سوچ اور عملی تعلیم کو فروغ دینے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے۔ یہ بھارت کی اب تک کی سب سے بڑی طلبہ اختراعی مہم ہے جس میں ششم جماعت سے دوازدہم (بارہویں) جماعت تک کے طلبہ شریک ہو سکتے ہیں۔ یہ پروگرام حکومتِ ہند کے وکست بھارت @2047 کے وژن کی سمت ایک مضبوط قدم سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت سرکار منسٹری آف ایجوکیشن کی ویب سائٹ کے مطابق بلڈاتھون کے تحت چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے 5 سے 7 طلبہ کا گروپ اپنے اساتذہ کی رہنمائی میں اپنی ٹیمیں بنا کر حقیقی زندگی کے مسائل کے حل کے لیے آئیڈیاز اور ماڈلز تیار کریں گے۔ ایک اسکول سے ایک سے زائد ٹیمیں رجسٹر کی جاسکتی ہیں۔ ماہرین کی قومی کمیٹی ان اندراجات کا جائزہ لے گی۔ جب کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کو انعامات، رہنمائی اور کارپوریٹ شراکت داری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
*اس اختراعی مہم کے لیے چار قومی موضوعات*
اس مہم میں ششم سے دوازدہم تک کی جماعتوں کے طلبہ چار اہم موضوعات پر اپنی تخلیقی صلاحیتیں پیش کرسکتے ہیں جن میں پہلا موضوع "آتم نربھر بھارت" ہے جس کے تحت خود کفیل نظام اور حل تیار کرنا ہوگا۔ دوسرا موضوع "سودیشی" قرار دیا گیا ہے جس کے تحت مقامی نظریات اور اختراعات، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ جبکہ تیسرے عنوان کے تحت "ووکل فار لوکل" کے ذریعہ مقامی مصنوعات اور دستکاری کی حمایت کو شامل کیا گیا۔ اسی طرح چوتھے موضوع کا نام "سمردھی" دیا گیا ہے جس کے ذریعہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کے راستے تلاش کرنا شامل ہیں۔ یہ چاروں موضوعات دراصل اُس خود انحصار، اختراعی (تخلیقی) اور مضبوط ہندوستان کی بنیاد ہیں جس کا خواب مشن 2047 کے لیے دیکھا گیا ہے۔
*تعلیم سے آگے، تجربے کی دنیا تک*
منسڑی آف ایجوکیشن، حکومتِ ہند کی ویب سائٹ کے مطابق بلڈاتھون محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ سیکھنے اور مشق کرنے کا ایک عملی تجربہ ہے۔
اس کے ذریعے طلبہ قومی تعلیمی پالیسی 2020ء کے اصولوں کے مطابق عملی اور تجرباتی تعلیم حاصل کریں گے۔ یہ ان طلبہ کے اندر سوال پوچھنے، سوچنے، بنانے اور پیش کرنے کی عادت پیدا کرے گا۔
یہ مہم خاص طور پر قبائلی، پسماندہ اور دور دراز اضلاع کے اسکولوں کو بھی شامل کرتی ہے تاکہ ہر بچے کو اپنی ذہانت دکھانے کا برابر موقع مل سکے۔ مستقبل میں اختراع کا یہ سفر شہروں سے دیہات تک اور اسکولوں سے قوم کے مستقبل تک پھیلنے والا ہے۔ وِکست بھارت بلڈاتھون نامی اس مہم کا آغاز 23 ستمبر 2025ء سے کیا گیا ہے۔ اسکولوں کو آن لائن رجسٹریشن کے لیے 23 ستمبر تا 6 اکتوبر تک کا موقع دیا گیا تھا جسے ضرورت کے مطابق آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ جبکہ طلبہ کے لیے تیاری کی سرگرمیوں کی تکمیل کے لیے 6 تا 12 اکتوبر 2025ء تک کا وقت دیا گیا ہے۔ 13 اکتوبر ملک گیر لائیو بلڈاتھون، 14 تا 31 اکتوبر اندراجات جمع کرانا، نومبر میں ملک بھر سے جمع ہونے والے طلبہ کے پراجیکٹس کی جانچ کرنا اور دسمبر میں فاتحین کا ناموں کا اعلان کرنا ظاہر کیا گیا ہے۔
“وکست بھارت بلڈاتھون 2025” دراصل بھارت سرکار کی نئی ایجوکیشن پالیسی 2020ء کے تحت اس بات کا اعلان ہے کہ ہندوستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔
یہی نوجوان ہی وہ تخلیقی ذہن ہیں جو سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے ملک کو ترقی یافتہ قوم بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس لیے یہ صرف ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک قومی تحریک ہے جو طلبہ کو خواب دیکھنے، سوچنے، اور بے خوف اختراع کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ وزارتِ تعلیم نے تمام اسکولوں، اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ پورے جوش و جذبے کے ساتھ اس میں حصہ لیں اور ہندوستان کی اختراعی کہانی میں اپنا نام درج کرائیں۔
***
Hamid Iqbal
*پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم: محبت و عقیدت کا عظیم الشان تہوار*
از:رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں
موبائل: 9130142313
عیدوں کی عید، عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ مقدس دن ہے جب ہمارے پیارے نبی، سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا یہ یادگار دن پندرہ سوّاں 12/ربیع الاول شریف ہوگا۔امسال پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ایک عظیم الشان موقع ہے جو امت مسلمہ کے لیے خوشیوں، برکتوں اور ایمان کی تجدید کا باعث ہے۔ یہ جشن اور تہوار صرف ایک دن کا جشن نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی سفر ہے جو ہمیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔
اس سال پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلادُ النّبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کے استقبال میں امت مسلمہ اپنی محبت و عقیدت کے رنگارنگ انداز سے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے رشتے کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔ وہ لوگ جو اس عظیم موقع پر اپنی خوشیوں کا اظہار کر رہے ہیں، وہ یقیناً سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے انعام و اکرام کے مستحق ہیں۔ ان کی محنت، عقیدت اور محبتِ رسول کا جذبہ قابلِ تحسین ہے، کیونکہ خوشی کا یہ سب کچھ اظہار صرف اور صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آپ کے ذکر خیر کو ذہنوں میں پیوست کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
*لنگرِ رسول: محبت کی تقسیم*
اس مبارک موقع پر وہ افراد اور مساجد و مدارس کے ذمہ داران خصوصی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں جو رضا اکیڈمی کے اعلان پر گذشتہ سال سے ہر پیر کو لنگرِ رسول تقسیم کر رہے ہیں، اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ صرف اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ اطعام کو بھی زندہ کر رہے ہیں۔ لنگرِ رسول کی یہ روایت جو سال بھر کے 52 ہفتے جاری رہی، ضرورت مندوں کے لیے رزق اور برکت کا ذریعہ بنتی رہی ہے۔ یہ عمل نہ صرف معاشرے میں خیرات و صدقات کے جذبے کو فروغ دیتا ہے بلکہ امت کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ ایسے لوگ جنہوں نے اپنے مال و دولت کو راہِ خدا میں خرچ کیا ہے، یقیناً رب تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے مستحق ہیں۔ ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس عظیم الشان جشن اور "عیدوں کی عید" کی خوشیوں میں بھوکے اور ضرورت مندوں کو شامل کرکے انہیں اس کا حصہ بناتے رہے ہیں۔
*نعتیہ مشاعرے: سرکار کی مدحت کا عظیم الشان سلسلہ*
سالِ گذشتہ سے ہر ماہ نعتیہ مشاعروں کا اہتمام کرنے والے منتظمین، سامعین، شاعر اور نعت خواں افراد بھی خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ یہ نعتیہ محافل دلوں کے سکون اور روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہیں۔ نعت خوانی اور میلاد کی محافل محض الفاظ کی ترسیل کا مجموعہ نہیں بلکہ دل سے دل تک پہنچنے والی وہ دعا ہے جو ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑتی ہے، یہ محافل ہر عمر کے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہیں، جہاں وہ اپنے نبی اور محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت و عقیدت کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ ہم ان تمام شعراء، نعت خوانوں اور منتظمین و سامعین کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس خوبصورت روایت کو جاری رکھیں اور ہر دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا چراغ روشن کرتے رہیں۔
*سجاوٹ، جلوس اور جلسے: خوشیوں کا رنگا رنگ اظہار*
پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال میں وہ افراد جو گلیوں، بازاروں، گھروں اور مساجد و مدارس کو سجا رہے ہیں، وہ بھی اس عظیم تہوار "عیدوں کی عید" کی رونق بڑھا رہے ہیں۔ روشنیوں، قمقموں، جھنڈیوں اور پرچمِ رسالت سے سجے یہ مناظر ہر دیکھنے والے کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو تازہ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو جلوس اور جلسوں کا اہتمام کر رہے ہیں، وہ امتِ مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اتحاد و محبت کا پیغام دے رہے ہیں۔ یہ جلوس اور جلسے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعتوں اور نعروں اور ذکرِ خیر کی گونج ہوتی ہے، نہ صرف ایمان کو تازہ کرتے ہیں بلکہ غیروں کو بھی سرکار کی سیرت طیبہ سے متعارف کرانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ہم ان سب کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس جذبے کو جاری رکھیں اور ہر ممکن طریقے سے اس عظیم جشن کو یادگار بنائیں۔
*عیدِ میلادُ النّبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کا عظیم پیغام*
امسال منعقد ہونے والا پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ یہ تہوار ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ان کی سیرت طیبہ کے مطابق ڈھالیں، محبت، اخلاص اور ایثار کے جذبے کو اپنائیں، اور معاشرے میں خیر و برکت پھیلائیں۔ وہ تمام افراد جو اس جشن کو منانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، وہ نہ صرف اپنے ایمان کو مضبوط کر رہے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک عظیم مثال قائم کر رہے ہیں۔
آئیے، ہم سب مل کر اس پندرہ سو سالہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عظیم الشان تہوار کے طور پر اس طرح منائیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اُتاریں، اُن پر عمل آوری کا اپنے آپ سے عہد کریں، سنت و سیرتِ رسول کو اپنائیں، برائیوں سے دور رہنے کا عہد کریں، نیکیوں کو عام کریں۔ اپنے دلوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے منور کریں، ان کی سنتوں پر عمل کریں، اور اس "عیدوں کی عید" کے اس عظیم الشان موقع پر انعام و اکرام کے مستحق بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مبارک تہوار کی برکتوں سے مالا مال کرے اور ہمیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین!
Hamid Iqbal
ریاستی گیت کی ادبی و ثقافتی اہمیت، تاریخ کے آئینے میں
✍️رضوی سلیم شہزاد مالیگاؤں
(9130142313)
سن 2023 میں مہاراشٹر حکومت نے سرکاری طور پر حکم جاری کیا تھا کہ ریاست کی تمام زبانوں کی تمام نجی و سرکاری اسکولوں میں روزانہ اسکول اسمبلی میں پیش درس کے دوران ریاستی گیت "جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا" اس گیت کو گایا جائے۔ ایک سال بعد دوبارہ حکومت مہاراشٹر ڈیپارٹمنٹ آف اسکول ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس نے اپنے سرکلر نمبر: سنکرنا-2024/P.No.127/SD-4 تاریخ: 15 مارچ 2024ء کو اسکولوں میں اس راجیہ گیت کو پڑھنا لازمی قرار دیا اور سختی کے ساتھ اس پر عمل آوری کے لئے افسران کو پابند کیا۔
ریاستی حکومت کے ان حکمناموں کی روشنی میں نئے تعلیمی سال 2025-26 کیلئے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن، ٹیچنگ ڈیپارٹمنٹ آفس کے ایڈمنسٹریٹیو آفیسر شری چندر کانت پاٹل نے 9/جولائی کے اپنے ایک حکمِ گشتی جاوک نمبر ایم.این.پی/محکمہ تعلیم/ استھاپنا/ 220/ 2025ء کے تحت شہر کی تمام میڈیم کی تمام سرکاری و نجی پرائمری و سیکنڈری اسکولوں میں اس گیت کو گانا لازمی قرار دیا ہے۔ اے او شری چندر کانت پاٹل کے اس حکمِ گشتی میں مذکورہ بالا حکومتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ "آزادی کے امرت مہوتسو" پر ریاست کے نوجوانوں کو متاثر کرنے والا ریاستی گیت "جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا" ریاست کے تمام میڈیم اور تمام انتظامی سرکاری و نجی اسکولوں میں روزانہ سیشن کے آغاز سے پہلے قومی ترانہ، تلاوت، دعا وغیرہ کے ساتھ "جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا" گایا جائے گا۔ موصوف نے اسکول انتظامیہ کمیٹی سے امید کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسکولوں میں یومیہ سیشن شروع ہونے سے پہلے قومی ترانہ، تلاوت، دعا، عہد وغیرہ کے ساتھ ریاستی ترانہ "جئے جئے مہاراشٹرا، گرجا مہاراشٹرا ماجا" بلند آواز سے گایا جائے۔
اپنے حکمِ گشتی کے آخری میں اے او موصوف نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ حکومتی حکم پر سختی سے عمل کیا جانا ضروری ہے۔ اسکولوں میں دورانِ وزٹ اگر پایا گیا کہ کوئی اسکول مذکورہ حکم پر عمل نہیں کررہا ہے تو متعلقہ اسکول کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے حکومت کو تجویز روانہ کی جائے گی۔
اس گیت کو نوجوان نسل اور طلبہ تک پہنچانے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نوجوان نسل میں مہاراشٹر کی تاریخ، بہادری، ثقافت، محنت اور خودداری کا شعور بیدار کرنا ہی اس گیت کا پیغام ہے جس میں مہاراشٹر کے عظیم مجاہد شیواجی مہاراج کی میراث کا ذکر کرتے ہوئے کسانوں اور مزدوروں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔
-----------------------------------------------
*🏛️ مہاراشٹر کے ریاستی گیت کا تاریخی، ادبی اور ثقافتی پس منظر*
یہ گیت پہلی بار 1960 میں مہاراشٹر ریاست کے قیام کے بعد گایا گیا، جب بمبئی اسٹیٹ سے الگ ہوکر مہاراشٹر کو ایک علاحدہ ریاست کا درجہ دیا گیا۔ اس گیت کو مہاراشٹر کے مشہور قومی و عوامی شاعر راجہ بڈھے نے لکھا تھا، جو مراٹھی زبان کے ملک گیر شہرت یافتہ ادیب اور محب وطن شاعر تھے۔
*مہاراشٹر کے ریاستی گیت کی ادبی خصوصیات:*
یہ گیت مارشل انداز میں لکھا گیا ہے، جس میں ولولہ، فخر، جذبہء حبّ الوطنی، اور ریاستی غیرت نمایاں ہے۔اس گیت میں شیواجی مہاراج، محنت کش عوام، اور ان کی دلیری جیسے عناصر کو مہاراشٹر کی شناخت قرار دیا گیا ہے۔ تشبیہات اور استعارے خوبصورتی سے استعمال ہوئے ہیں جیسے "آسمان کی سلطنت"، "فولادی من" اور "گرمی میں جلنا" وغیرہ
-----------------------------------------------
*🌺اردو رسم الخط میں مہاراشٹر راجیہ گیت🌺*
جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا
جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا۔۔
بِھیتی نا آمہا تُجھی مُڑی ہی، گڑگڑناریا نَبھا
اسَماناچیا سُلتانی لا، جباب دیتی جِبھا
سَہیادری چیا سِینھ گَرجتو، شِیو شَنبھو راجا
دَری دری تُن ناد گُنجلا، مہاراشٹر ماجھا
جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا۔۔
جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا۔۔
کاڑیا چھاتی وَری کورلی، ابھیماناچی لِینی
پَولادی من گَٹے کِھیڑتی، کھیل جیو گِھینی
دارِدرا چیا اُنهات شِجلا، نِڈھڑا چیا گھامانے بِھجلا
دیش گَوروا ساٹھی جھجلا، دِلّی چے ہی تخت راکھیتو، مہاراشٹر ماجھا
جئے جئے مہاراشٹر ماجھا، گرجا مہاراشٹر ماجھا،
جئے جئے مہاراشٹر ماجھا۔۔
-----------------------------------------------
*🌍🌺مہاراشٹر راجیہ گیت کا اردو ترجمہ🌺*
مہاراشٹر کی جے ہو، مہاراشٹر گونجے، للکارے
مہاراشٹر کی جے ہو، مہاراشٹر گونجے، للکارے
ہم تجھ سے نہیں ڈرتے، اے گرجنے والے آسمان۔
آسمان کی سلطانی کے لیے ہماری زبان للکار رکھتی ہے۔ (مُراد ہم ہواؤں پر ہمارا راج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔)
سہیادری کا شیر دھاڑتا ہے، شیو شمبھو بادشاہ (مراد شیواجی مہاراج)
پہاڑوں کے دامن میں چاروں طرف مہاراشٹر کی آواز گونج رہی ہے۔
ہم نے (پہاڑوں کے سیاہ سینے پر) فخر و غرور کا غار کندہ کیا ہے۔
ہماری فولادی کلائیاں جان لیوا کھیل کھیلتی ہیں۔
ہم غربت کی دھوپ میں (تپ کر) کُندن بنے ہیں۔
ہم شدید محنت کے پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں۔ (مراد محنت کش ہیں۔)
-----------------------------------------------
*🌺مہاراشٹر کے ریاستی گیت کی تشریح🌺*
*پہلے بند کی تشریح:*
ہم ان لوگوں سے نہیں ڈرتے جو ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور ہمارے خلاف بولتے ہیں۔ گرجتے بادل ہمیں ڈرا نہیں سکتے۔ ان کا جواب دینے کے لیے ہماری زبانیں کافی ہیں۔ ایسی ہی تعلیم ہمیں چھترپتی شیواجی نے دی ہے، سہادریوں کے شیر کی تعلیمات کے نعرے گھر گھر جا رہے ہیں۔ یہ مہاراشٹر میرا ہے۔
*دوسرے بند کی تشریح:*
مہاراشٹر کے لوگ بہادر ہیں۔ ان کے سیاہ سینے پر مہاراشٹر کا فخر نقش ہے۔ ان کی کلائیاں فولاد کی بنی ہوئی ہیں۔ اس لیے وہ اپنی جانوں سے کھیلنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ مہاراشٹر کے لوگ غربت کی دھوپ میں تپتے ہیں، محنت کرکے پسینہ بہاتے ہیں۔ نسل در نسل لوگوں نے ملک کی شان کے لیے محنت کی ہے۔ مہاراشٹر ایسا ہے کہ دہلی کے تخت کی حفاظت بھی کر سکتا ہے۔
-----------------------------------------------
Hamid Iqbal
پیشۂ درس و تدریس: اساتذہ، سماج اور انتظامیہ کے ٹیم ورک سے تربیتی عمل مکمل ہوتا ہے۔
(روزنامہ انقلاب ممبئی کے 13/جولائی 2025ء کے اداریہ سے متاثر ہوکر لکھی گئی تحریر)
*تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد* اور اس کے مستقبل کا ضامن ہوتی ہے، اور اس تعلیمی عمل کا سب سے اہم کردار معلم یعنی استاذ ادا کرتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب استاد کو روحانی والد، سماجی رہنما اور علم و اخلاق کا مینار سمجھا جاتا تھا۔ آج اگر معاشرے میں بگاڑ، بد اخلاقی، جہالت، بے راہ روی اور خودکشی جیسی وبا عام ہورہی ہے تو اس کا ایک بڑا سبب خود نظامِ تعلیم میں پائی جانے والی کمزوریاں، اساتذہ کی ذمہ داریوں سے غفلت، سماج کی اساتذہ کرام سے اُکتاہٹ و بے رغبتی اور انتظامیہ کی جانب سے اساتذہ پر لادی جانے والی غیر تدریسی سرگرمیاں بھی ہیں۔
*اساتذہ کا پیشہ محض روزگار یا ملازمت نہیں* بلکہ یہ ایک مقدس فریضہ، نبوی وراثت اور انسانی تربیت کا منصب ہے۔ استاد محض کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ وہ ایک رہبر، مشیر، کردار ساز اور قوم کا معمار ہوتا ہے۔ آج کے دور میں جب دنیا معاشی و سائنسی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے تعلیمی ادارے اور اساتذہ کہیں نہ کہیں اپنی اصل روح سے دور ہوتے جارہے ہیں، جس سے سماج میں ان کا مرتبہ کم ہوتا جارہا ہے۔ ایک استاد کے لیے سب سے ضروری ہوتا ہے اپنے کردار و اخلاق کو مجروح ہونے سے بچانا مگر افسوس! کم کم ہی سہی مگر بہت سے اساتذہ اپنے کردار و اخلاق پر حرف آنے کی بالکل بھی پرواہ نہیں کرتے، کسی شاعر نے کہا ہے کہ
13/جولائی 2025ء اتوار کے روزنامہ انقلاب ممبئی کے حالیہ اداریہ میں بجا طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ پیشۂ تدریس آج چمک دمک کھو چکا ہے! یعنی اس مقدس پیشے کی شان، تاثیر اور اخلاقی اثر ختم ہوتا جارہا ہے۔ نہ اساتذہ کو اپنے مقام کا احساس رہا ہے، نہ طلبہ میں استاد کے لیے ادب و احترام کی وہ چمک باقی رہی ہے جو کبھی مشرقی تہذیب کا خاصہ تھی۔
*ضرورت اس بات کی ہے کہ* اساتذہ کو دوبارہ ان کے مقدس مقام کا شعور دیا جائے۔ تربیتی ورکشاپس، اخلاقی تربیت، اور تعلیمی فلسفے پر مبنی نشستیں وقت کی اہم ضرورت ہیں اور یہ کام سرکاری یا انتظامی سطح پر نہیں بلکہ اساتذہ کی انجمنوں اور یونین کے ذریعہ کیا جانا چاہیے تاکہ ان میں خود احتسابی کا جذبہ پروان چڑھے اس لئے کہ بذاتِ خود اپنی اصلاح زیادہ موثر اور مستقل ہوتی ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت و تعلیمی اداروں کو بھی اساتذہ کی معاشی، سماجی اور تعلیمی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے، تاکہ وہ بے فکری سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
Hamid Iqbal
آخری کمبل
(افسانچہ)
Posted in: Hamid Iqbal








































