استاد واقعی روحانی باپ ہوتا ہے، اور اس حقیقت کا جیتا جاگتا نمونہ میرے محترم استاد، جناب عبدالمقیت صاحب (موظف مدرس) ہیں۔* 🌹


*جماعتِ اوّل سے لے کر پی۔ایچ۔ڈی کے سفر تک مجھے بے شمار اساتذۂ کرام سے علم حاصل کرنے کا شرف ملا۔ ہر استاد نے اپنی جگہ میری شخصیت کی تعمیر میں کوئی نہ کوئی کردار ادا کیا، لیکن ان میں چند ایسی عظیم ہستیاں بھی ہیں جنہیں نہ کبھی فراموش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے احسانات کا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ انہی قابلِ احترام اور محسن اساتذہ میں ایک نام میرے نہایت محترم جناب عبدالمقید صاحب (موظف مدرس) کا بھی ہے، جن کی شفقت، خلوص، تربیت اور بے لوث محبت میری زندگی کا ہمیشہ انمول سرمایہ رہے گی۔*
*میں نے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا کہ "استاد روحانی باپ ہوتا ہے، اور والدین کے بعد اگر کسی کو شاگرد کی کامیابی پر سب سے زیادہ خوشی ہوتی ہے تو وہ اس کا استاد ہوتا ہے۔" لیکن اس حقیقت کو میں نے اپنی زندگی میں جس شخصیت کے ذریعے محسوس کیا، وہ میرے نہایت محترم استاد، عالی جناب عبدالمقید صاحب (موظف مدرس) ہیں۔*
*میرے ڈی۔ایڈ (ڈاکٹر ذاکر حسین ڈی۔ایڈ کالج، پربھنی) کے زمانۂ طالب علمی میں آپ نے صرف ایک استاد کا کردار ادا نہیں کیا، بلکہ ایک شفیق باپ، مخلص رہنما اور بہترین مربی کی حیثیت سے ہر قدم پر میری رہنمائی فرمائی۔ میری تعلیمی، فکری اور عملی زندگی میں آپ کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی ہمیشہ میرے لیے مشعلِ راہ رہی۔ آپ نہ صرف درس گاہ میں میری مدد کرتے تھے بلکہ کئی مرتبہ میرے کمرے پر تشریف لا کر میری خیریت دریافت کرتے، میرا حوصلہ بڑھاتے اور زندگی کے ہر مشکل مرحلے میں میری ڈھارس بندھاتے۔*
*اتنا ہی نہیں، آپ مجھے اپنے گھر بھی مدعو فرماتے، اپنے دسترخوان پر اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے، جس سے کبھی یہ احساس ہی نہ ہوا کہ میں اپنے گھر والوں سے دور ہوں۔ درس گاہ کے اوقات کے علاوہ بھی جب کبھی ملاقات ہوتی تو آپ ایک استاد نہیں بلکہ ایک مخلص دوست کی طرح پیش آتے۔ آپ کی مجلس میں بیٹھتے ہی ساری تھکن اتر جاتی، دل کو ایک عجیب سا سکون نصیب ہوتا اور گھر کی یاد بھی مدھم پڑ جاتی۔*
*جب میں ڈی۔ایڈ میں داخل ہوا تو ایک نہایت خاموش، جھجکنے والا اور کمزور طالب علم تھا۔ اپنے مافی الضمیر کو بھی مؤثر انداز میں بیان نہیں کر پاتا تھا۔ میری خاموشی کا عالم یہ تھا کہ اگر کبھی استاد کلاس روم میں موجود نہ ہوتے تب بھی میں خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھا رہتا۔ لیکن میرے اساتذۂ کرام، خصوصاً میرے محترم استاد جناب عبدالمقید صاحب نے میری اس خاموشی کو اعتماد میں بدل دیا۔ انہوں نے مجھے اسٹیج پر آنے کا حوصلہ دیا، اظہارِ خیال کا سلیقہ سکھایا، بولنے کی جرأت عطا کی اور میری صلاحیتوں پر مجھ سے زیادہ اعتماد کیا۔ آج اگر میں لوگوں کے سامنے بے جھجک گفتگو کر لیتا ہوں، مختلف پروگراموں میں اظہارِ خیال کرتا ہوں، بلکہ کبھی کبھی لوگ مسکرا کر یہ بھی کہہ دیتے ہیں: "بس اب خاموش بھی ہو جاؤ!" تو اس تبدیلی کا سہرا میرے انہی اساتذۂ کرام، بالخصوص میرے محترم استاد عبدالمقید صاحب کے سر جاتا ہے۔*
*آپ سے ملنا میرے لیے ہمیشہ باعثِ مسرت رہا۔ آپ کی مسکراہٹ، محبت بھری گفتگو اور بے لوث شفقت مجھے ہر بار نئی ہمت اور نیا حوصلہ عطا کرتی۔ آج اگر مجھ میں کوئی خوبی ہے، اگر میں اپنے فرائضِ تدریس بہتر انداز میں انجام دینے کی کوشش کرتا ہوں، تو اس میں میرے اساتذۂ کرام، خصوصاً آپ کی تربیت، شفقت، دعاؤں اور اعتماد کا بہت بڑا حصہ ہے۔*
*واقعی استاد ایک عجیب اور عظیم رشتہ ہوتا ہے۔ اس کا تعلق خون سے نہیں، بلکہ محبت، اخلاص، ایثار، تربیت اور دعا سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ رشتہ خونی رشتوں سے بھی زیادہ مضبوط، گہرا اور قیمتی ثابت ہوتا ہے۔ ایسے اساتذہ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، جو صرف کتابوں کا علم نہیں دیتے بلکہ اپنے کردار، محبت اور شفقت سے شاگردوں کی زندگیوں کو سنوار دیتے ہیں۔*
*آخر میں، ایک بات اور...*
 
*ڈی۔ایڈ کے زمانۂ طالب علمی میں منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر میں نے اپنے محترم استاد *جناب عبدالمقید صاحب کی نذر یہ شعر پیش کیا تھا، اور آج برسوں بعد بھی وہی اشعار اسی محبت، عقیدت اور خلوص کے ساتھ دوبارہ ان کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، کیونکہ میرے جذبات آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے اُس دن تھے۔*
 
**گر تلاش کرو تو مل ہی جائے گا،* 
*مگر کون تمہاری طرح ہم کو چاہے گا۔*
 *تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا،*
*مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا۔*
*یہ چند سطریں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ میری زندگی کے اُن انمول لمحات کی سچی داستان ہیں جو میں نے اپنے محترم استاد کی شفقت، محبت اور رہنمائی کے سائے میں گزارے ہیں۔ اس تحریر کا ہر لفظ ایک یاد، ہر جملہ ایک احساس اور ہر سطر میری زندگی کے گزرے ہوئے ایک ایک لمحے کی سچی گواہی ہے۔ اس میں نہ کوئی مبالغہ ہے اور نہ رسمی تعریف، بلکہ یہ میرے دل کی وہ آواز ہے جسے قلم نے الفاظ کا روپ دیا ہے۔*
*اللہ تعالیٰ میرے محترم استاد، جناب عبدالمقید صاحب کو صحتِ کاملہ، عافیت، درازیٔ عمر، عزت و وقار، سکونِ قلب اور دونوں جہانوں کی بے شمار نعمتوں سے نوازے، ان کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علم و عمل کو صدقۂ جاریہ بنائے، اور آنے والی نسلوں کو بھی ان جیسے مخلص، شفیق اور باکردار اساتذہ نصیب فرمائے۔*
*آپ جیسے اساتذہ کسی بھی معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ آپ کی محبت، شفقت، دعاؤں اور رہنمائی کا سایہ ہمیشہ میرے سر پر قائم رہے۔ آمین یا رب العالمین۔* 🌹
*دعاؤں کا طالب:-*
*ہاشمی سید عبدالساجد*
*(مدرس)، دھرم آباد*

 
Design by Wordpress Theme | Bloggerized by Free Blogger Templates