خطوط


 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کل پرانی فائلیں، ڈائریاں اور خطوط نظر سے گزر رہے تھے تو یادوں کے کئی دریچے ایک ساتھ کھل گئے۔ انہی میں ایک ایسی یاد بھی تازہ ہوئی جس نے مجھے یہ محسوس کرایا کہ اسے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کرنا چاہیے۔
سن 1997 کے ایس ایس سی بورڈ امتحانات میں ایک تاریخ رقم ہوئی، جب تنویر منیار نے تمام میڈیم میں پورے مہاراشٹر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک اردو طالب علم نے پورے مہاراشٹر میں سرفہرست آنے کا اعزاز حاصل کیا۔
اتفاق دیکھیے کہ میرا اولین تقرر کولہاپور کے ایک چھوٹے سے گاؤں الہ آباد میں ہوا۔ وہ زمانہ موبائل فون سے پہلے کا تھا۔ اسکول کی مصروفیات کے بعد مطالعہ ہی میرا بہترین ساتھی تھا۔ مختلف رسائل اور جرائد جمع کرنا اور انہیں بار بار پڑھنا میری عادت تھی، اس لیے میرے پاس پرانے رسائل کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ موجود تھا۔
ایک دن انہی جمع شدہ رسائل میں سے ماہنامہ امنگ کا ایک پرانا شمارہ میرے ہاتھ لگا۔ اس وقت تک تنویر منیار مہاراشٹر کے فاتح بن چکے تھے، لیکن جو رسالہ میرے سامنے تھا وہ کئی سال پرانا تھا۔ بچوں کو رسالے کے مختلف گوشوں سے متعارف کراتے ہوئے اچانک میری نظر "قلمی دوستی" کے کالم پر پڑی۔ وہاں جماعت ششم کے طالب علم تنویر منیار کی تصویر اور سولاپور کا پتہ شائع تھا۔
میں چند لمحوں کے لیے رک گیا۔ دل میں خیال آیا کہ آج جس نوجوان نے پورے مہاراشٹر میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، وہ بچپن ہی سے مطالعے، لکھنے پڑھنے اور قلمی دوستی کا شوقین تھا۔ شاید اسی دن مجھے یقین ہوگیا کہ بڑی کامیابیاں اچانک حاصل نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی بنیاد بچپن کی اچھی عادتوں، مطالعے کے ذوق اور مسلسل محنت پر قائم ہوتی ہے۔
اس دور میں قلمی دوستی ایک خوبصورت روایت تھی۔ صرف تنویر ہی نہیں بلکہ ملک کے مختلف شہروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کئی افراد سے میری خط و کتابت رہی۔ ۔ آج بھی ان میں سے بہت سے خطوط میرے لیے ایک قیمتی ادبی سرمایہ ہیں۔
اس وقت تک میری تنویر سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی، اگرچہ ایک دو جلسوں میں دور سے ضرور دیکھا تھا۔ میں نے "قلمی دوستی" والے کالم سے ان کا پتہ لیا اور انہیں ایک خط لکھ دیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ میں نے انہیں یہ بھی نہیں بتایا کہ میں خود بھی سولاپور ہی کا رہنے والا ہوں۔
وقت گزرتا گیا۔ بعد میں جب میں نے رسالہ گل بوٹے کے لیے تنویر منیار پر ایک مضمون تحریر کیا تو وہ میرا گھر تلاش کرتے ہوئے خود تشریف لے آئے۔ وہیں سے ایک ایسی دوستی کا آغاز ہوا جو آج تک قائم ہے اور جس سے وابستہ بے شمار خوبصورت یادیں میرے دل میں محفوظ ہیں۔
کل جب یہ پرانی فائلیں اور خطوط دوبارہ دیکھے تو دل چاہا کہ اس منفرد سفر کو آپ سب کے ساتھ بھی شیئر کروں۔ اس کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ تنویر منیار کے خوبصورت، فکر انگیز خطوط اور ان کا منفرد اندازِ تحریر نئی نسل کے سامنے آسکے، تاکہ وہ جان سکے کہ مطالعہ، خط و کتابت اور ادب انسان کی شخصیت کو کس طرح سنوارتے ہیں۔
تنویر کے ساتھ قلمی دوستی کے دوران بے شمار دلچسپ اور یادگار واقعات پیش آئے۔ ان شاء اللہ آئندہ اقساط میں وہ سب بھی آپ کی خدمت میں پیش کرتا رہوں گا۔
اور آخر میں ایک بات...
موبائل فون نے فاصلے ضرور سمیٹ دیے، رابطے آسان بنا دیے، لیکن ہاتھ سے لکھے گئے خطوط کی خوشبو، جواب کے انتظار کی بے قراری، لفظوں کی اپنائیت اور قلمی دوستی کی وہ مٹھاس بھی ہم سے چھین لی۔ آج پیغامات تو لمحوں میں پہنچ جاتے ہیں، مگر وہ تعلق، وہ خلوص اور وہ ادبی ذوق کم ہی دکھائی دیتا ہے۔
فی الحال، تنویر منیار کا ایک فکر انگیز خط آپ کی خدمت میں پیش ہے۔






 
Design by Wordpress Theme | Bloggerized by Free Blogger Templates