*کتابوں کی خوشبو اور موبائل کا دور*
کتابوں کی خوشبو میں بھی ایک عجیب سا نشہ ہوا کرتا تھا۔
محبوب کی چاہت کا احساس، محبت کی شدت، جدائی کے لمحات، بیتے دنوں کی کسک اور یادوں کے گلدستے—سب کچھ کتابوں کے اوراق سے مل جاتا تھا۔
کبھی کسی صفحے پر محبت مسکرا دیتی، کبھی کوئی جملہ جدائی کا درد بن جاتا، اور کبھی کتاب بند کرنے کے بعد بھی اس کی خوشبو دل میں بسی رہتی۔
مگر افسوس! موبائل کی آمد نے جیسے سب کچھ مثنوی بنا دیا۔
پیار، محبت، جذبات، احساس سب کچھ چند لمحوں کی اسکرین تک محدود ہو گیا۔ نہ کتابوں کی خوشبو رہی، نہ لفظوں کی حرارت، نہ انتظار کی شدت، نہ جدائی کا لطف… بس ایک عجیب سی اضطرابی کیفیت ہے۔
اور شاید ادیب بھی اب کچھ کچھ موبائل جیسے ہو گئے ہیں۔
میڈیا کے بے شمار پلیٹ فارم آ گئے ہیں، اور ہر پلیٹ فارم کے مزاج کے مطابق اپنا الگ انداز پیش کرنا پڑتا ہے۔ تحریر بھی کبھی مختصر، کبھی سنسنی خیز، کبھی جذباتی اور کبھی محض ’’لائیک‘‘ اور ’’کمنٹ‘‘ کے لیے لکھی جاتی ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے تحریر میں ادیب کا اپنا کچھ باقی ہی نہیں رہا؛
میڈیا جس سانچے میں ڈھالتا ہے، لفظ اسی شکل میں ڈھل جاتے ہیں۔
چند لائیکس، چند کمنٹس اور چند تعریفی جملے ملتے ہیں تو ادیب خوش تو ہو جاتا ہے، مگر اندر کہیں ایک خلا باقی رہتا ہے۔
کیونکہ داد مل جانا اور مطمئن ہو جانا، دو الگ باتیں ہیں۔
شاید اسی لیے آج کا ادیب بہت کچھ لکھ رہا ہے، بہت کچھ کہہ رہا ہے، ہر جگہ موجود ہے…
مگر اپنے اندر وہی پرانا سکون، وہی لفظوں کی خوشبو اور وہی تحریر کی روح ڈھونڈ رہا ہے، جو کبھی کتاب کے ایک خاموش صفحے پر مل جایا کرتی تھی۔