مختصر افسانہ۔۔ادیب اور کردار
ایک ادیب نے سوچا کہ وہ ایسی کہانی لکھے گا جو محض تخیل کا کھیل نہ ہو، بلکہ جیتی جاگتی حقیقت کیا۔ خوشبو رکھتی ہو۔ اس نے اپنی کہانی کے لیے ایک زندہ انسان کا انتخاب کیا۔
ابتدا میں اس نے اس انسان کی تعریف کی۔ اس کے اوصاف کو لفظوں میں سجایا، اس کی خوبیوں کو نمایاں کیا اور پھر اسے اپنی کہانی کا مرکزی کردار بنا دیا۔ آہستہ آہستہ وہ کردار خود کو خاص محسوس کرنے لگا۔ اسے لگا کہ شاید دنیا میں کوئی ہے جو اسے سمجھتا ہے، اس کی قدر کرتا ہے اور اس کے وجود کو معنی دیتا ہے۔
ادیب نے اس کردار کے جذبات، خوابوں، امیدوں اور کمزوریوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔ اس کی خوشیوں کو محسوس کیا، اس کے آنسوؤں کا ذائقہ چکھا اور اس کے دل کے ہر گوشے تک رسائی حاصل کر لی۔ کردار کو یہ سب محبت محسوس ہوا، خلوص محسوس ہوا۔ وہ ادیب سے بے انتہا محبت کرنے لگا۔
مگر ادیب کے لیے یہ سب کہانی کا مواد تھا۔
جب کہانی مکمل ہو گئی، آخری لفظ لکھا گیا اور آخری صفحہ بند ہوا، تو ادیب نے کردار سے ایسے منہ موڑ لیا جیسے کبھی کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ نہ کوئی وضاحت، نہ کوئی الوداع، نہ کوئی احساسِ ذمہ داری۔
کردار حیران رہ گیا۔
وہ آج بھی اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ادیب نے اسے چھوڑا تھا۔ ہر آہٹ پر چونک اٹھتا ہے، ہر قدم کی چاپ میں ادیب کی واپسی تلاش کرتا ہے۔ اسے اب بھی یقین ہے کہ شاید ایک دن ادیب لوٹ آئے گا، اپنی ادھوری محبت کا کوئی مطلب بتانے، یا کم از کم یہ کہنے کہ وہ سب محض ایک کہانی تھی۔
مگر ادیب تو نئی کہانیوں کی تلاش میں بہت دور جا چکا ہے۔
اور کردار...
وہ آج بھی ایک نامکمل باب کی طرح، اسی صفحے پر ادیب کا منتظر ہے۔



Hamid Iqbal

